ہم کہیں نہیں جارہے، طویل مدت تک یہیں رہیں گے،ٹک ٹاک کا صدر ٹرمپ کے اعلان پر ردعمل

 

واشنگٹن:

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ میں چینی ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹِک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے اعلان کے بعد ملک میں کمپنی کی جنرل مینیجر نے کہا ہے کہ ’ہم یہاں طویل مدت تک موجود رہیں گے۔‘وینیسا پاپاس نے ٹک ٹاک کے صارفین کوایک ویڈیو پیغام میں بتایا کہ ان کا عملہ ’سب سے محفوظ ایپ بنا رہا ہے۔‘اس سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرسکتے ہیں جس سے ایپ پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔امریکی سکیورٹی حکام یہ خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں کہ چینی کمپنی بائٹ ڈانس کی ملکیت والی اس ایپ کو امریکیوں کی ذاتی معلومات کو جمع کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ تاہم ٹِک ٹاک نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ اسے چینی حکام کنٹرول کرتے ہیں یا اس کا ڈیٹا چینی حکومت کے ساتھ شیئر کیا جاتا ہے۔وینیسا پاپاس نے بتایا ہے کہ ٹک ٹاک ایپ کے لیے لاکھوں امریکیوں کی جانب سے حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک ذمہ داری سے کام کرنے والی ایپ ہے۔ ’جہاں تک سکیورٹی اور حفاظت کا تعلق ہے، ہم سے سب محفوظ ایپ بنا رہے ہیں۔ کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یہ صحیح چیز ہے۔‘’ہم یہاں طویل عرصے تک موجود رہیں گے۔ آپ بھی ہمارے لیے آواز اٹھائیں اور آئیں ٹک ٹاک کے لیے کھڑے ہو جائیں۔‘تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والی ایپ کے امریکہ میں آٹھ کروڑ فعال ماہانہ صارفین ہیں اور اس پابندی سے بائٹ ڈانس کو بڑا دھچکہ لگنے کا خدشہ ہے۔صدر ٹرمپ نے ایئر فورس ون میں سوار نامہ نگاروں کو بتایا: ’جہاں تک ٹِک ٹاک کا تعلق ہے ہم امریکہ میں اس پر پابندی عائد کر رہے ہیں۔‘فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مسٹر ٹرمپ کے پاس ٹِک ٹاک پر پابندی عائد کرنے کے کیا اختیارات ہیں، اس پابندی کو کس طرح نافذ کیا جائے گا اور کیا اس سے کیا قانونی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*