ہم ڈرے نہیں ہیں!

شکیل رشید(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
وہ کہتے ہیں ’پاکستان چلے جاؤ‘!
ہم کہتے ہیں ، کیوں؟ کیا یہ ملک آپ کے باپ کا ہے ؟ وہ کہتے ہیں کاغذ دکھاؤ، ہم کہتے ہیں ، کیوں؟ ہم کاغذ نہیں دکھائیں گے!اترپردیش کا ’نازی‘ کہہ رہا ہے ’ہم نے سب کو چپ کرادیا ہے ‘!پراسی لکھنؤ سے صدف جعفر کی آواز ’ زنداں‘ سے چھن کر آرہی ’ سی ا ے اے کے خلاف جنگ جاری رہنی چاہیے ۔ ‘وہ گولیاں داغ رہے ہیں تاکہ ڈراکر، دھمکا کر، قتل کرکے عوام کی آواز دبائی جاسکے پر گولیاں کھاکر جانیں دینے والوں کی مائیں کہہ رہی ہیں ’ میرا بیٹا ملک اور آئین کے لئے شہید ہوگیا ہے ۔‘
کس کس کی آواز بند کرو گے ، کتنے سینوں کو اپنی گولیوں سے سرخ کرو گے ، کتنوں کو حوالۂ زنداں کروگے ، اب کوئی خاموش نہیں رہنے والا ہے ، کوئی پاکستان نہیں جانے والا ہے ، کوئی کاغذ نہیں دکھانے والا ہے ، کوئی قطار میں کھڑا ہوکر اپنی شہریت ثابت نہیں کرنے والا ہے ، اس لئے کہ یہ سب ، جن سے ’کاغذات‘ مانگے جارہے اور جنہیں پاکستان جانے کو کہا جارہا اور جن کے سینے سرخ کئے جارہے ہیں ، وہ سب’ ہندوستانی‘ ہیں ، اس ملک میں پیدا ہوئے ہیں ، یہیں پلے بڑھے ہیں ۔ اور ایک دن یہیں مرجائیں گے !
سپریم کورٹ کے سابق جج، جسٹس مارکنڈے کاٹجو کا حال ہی میں ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے یہ پیشن گوئی کی ہے کہ’ ’ نازی دور کا عنقریب آغاز ہوجائے گا ۔ ‘‘ یوپی میں یوگی سرکار جوکررہی ہے وہ ایک طرح سے ’ نازی دور‘ کے آغاز کا اعلان ہی تو ہے ! مظاہرین کی املاک سیل کرنے کا حکم ، جو جسٹس کاٹجو کے مطابق غیر قانونی ہے کیونکہ تعزیرات ہند اس طرح کی اجازت نہیں دیتی ۔۔۔ یہ ظالمانہ اور جابرانہ اقدام ہے ۔ ’نازی دور‘ کی علامت ظاہر ہونے لگی ہیں ، اب یہی دیکھ لیں کہ حکمران سچ کو چھپاتا ہے ۔ وزیرداخلہ جھوٹ پر جھوٹ بولے چلاجاتا ہے ۔ ایک ریاست کا وزیراعلیٰ اسی طرح ،جیسے کہ گجرات میں ہوا تھا ، پولس کو چھوٹ دے دیتا ہے کہ ’ مارا جائے ‘۔۔۔ اور پولس گولیاں چلاکر لوگوں کو مارتی ہے اور جھوٹ بولتی ہے کہ ’ ایک بھی گولی نہیں چلی‘!ایک ریاست کا وزیر اعلیٰ دو مہلوکین کے لئے ’ معاوضہ ‘ کا اعلان کرتا ہےاور پھر اعلان واپس لے لیتا ہے کیونکہ مہلوکین کی شناخت تشدد کرنے والے مظاہرین کےطور پر ممکن ہے ۔ پولس راتوں کو گھروں میں گھس گھس کر عورتوں ، بچوں ، بوڑھوں پر لاٹھیاں برساتی ، سامانوں کو توڑ پھوڑ دیتی اور مکینوں کو خوف کے عالم میں جینے پر مجبور کرتی ہےاور سپریم کورٹ نہ سُننے کو تیار ، نہ انصاف کرنے کو تیار ۔ پولس یونیورسیٹوں میں گھس کر طلبا کو پیٹتی ، مارتی ہے اور قانون وانصاف کا پیمانہ پولس کی جانب ہی جھکا رہتا ہے ۔
بھلا کیا ایسا ملک ’ جمہوری‘ کہلانے کا مستحق ہے ، کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ملک آئین اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کررہا ہے ، اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری کررہا ہے ؟ نہیں ۔ پر یہ ’ جنگ‘تو اسی لئے ہے کہ ملک کو ’نازی دور‘ میں داخل ہونے سے روکا جائے ،حکام کو قانون اور انصاف کی پاسداری نہ کرنے پر جوابدہ بنایا جائے اور ملک کے حکمرانوں کو سبق سکھایا جائے کہ اگر وہ آئین میں تبدیلی لانے کی کوشش کریں گے ، ملک کو’ہندوتوا‘ کے راستے پر لے جائیں گے اور اگر وہ ملک کے عوام کو ’ فرقہ وارانہ‘ بنیاد پر تقسیم کرنے کی سعی کریں گے تو ان کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی اور یہ آواز اٹھتی رہے گی ۔ یہ آواز ’جھوٹ‘ کے خلاف ہے ۔ پہلے وزیراعظم نریندر مودی نے دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں کذب بیانی سے کام لیا کہ پورے ملک میں این آرسی لاگو کرنے کی کوئی بات ہی نہیں ہوئی ۔ پھر انہوں نے کہا کہ ’حراستی مراکز‘ یعنی ڈیٹینشن کیمپ تو کہیں بنائے ہی نہیں گئے ہیں ۔ پھر ان کے دستِ راست امیت شاہ نے کہا کہ کون کہتا ہے کہ این آرسی اور سی اے اے کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے گا ! یا تو ان کے حافظے بہت کمزور ہیں یا یہ عوام کو بے وقوف سمجھتے ہیں ۔ دونوں نے بار بار این آرسی کی بات کی ہے ، اسے پورے ملک میں لاگو کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ اور یہ بھی کہا ہے کہ پہلے سی اے اے آئے گا پھر پورے ملک میں این آرسی لاگو کی جائے گی ۔اور یہ تو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کی وزارت ہی ہے جس نے ’ حراستی مراکز‘ کے لئے فنڈ جاری کیا ہے ، بھلا ان کی حکومت کیسے کہہ سکتی ہے کہ ملک میں کہیں ’ حراستی مراکز‘ نہیں بنے ہیں ! آسام میں بنے ڈٹینشن کیمپ میں جنہیں ’غیر ملکی‘ قرار دے کر محبوس رکھا گیا ہے ان میں سے کوئی 26 کے قریب اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ کرناٹک میں ’ حراستی مرکز‘ بن رہا ہے ، نوی ممبئی میں یہ بنایا جارہا ہے ۔ بلکہ وزارتِ داخلہ نے پورے ملک کی ریاستی سرکاروں کو ہدایت دی ہے کہ حراستی مراکز بنائے جائیں تاکہ جن افراد کے کاغذات نہیں ہیں انہیں غیر ملکی قرار دے کران میں رکھا جاسکے! یہ سب کھلے طور پر ساری دنیا کے سامنے ہورہا ہے پھر بھی جھوٹ پر جھوٹ بولاجارہا ہے ۔ جھوٹ کے سہارے بہت زیادہ دنوں تک حکومت نہیں چل سکتی ۔ جھوٹ ایک معتدی مرض کی طرح ہے ، حکمراں جھوٹ بولیں گے تو ان کے حکام، ان کی پولس جھوٹ بولے گی ، جیسا کہ یوپی پولس کے حاکم اعلیٰ اوپی سنگھ نے کہا کہ ’’مظاہرین میں سے کوئی بھی پولس کی گولی سے نہیں مارا گیا کیونکہ پولس نے ایک بھی گولی نہیں چلائی۔‘‘پر سچ یہی ہے کہ پولس نے گولیاں چلائیں اور سیدھے سینوں پر چلائیں ۔ پولس ’غلام‘ ہے ، اس نے ’ حاکم‘ کا ’ حکم‘ سنا کہ ’بدلہ لو‘ ان سے جو کالے شہریت قانون اور این آرسی کے خلاف احتجاج کررہے ہیں ۔ اور بدلہ اس طرح لیا گیا کہ 20 سے زائد افراد کے سینے سرخ کردیئے گئے ، ہزاروں کے خلاف مقدمات قائم کردیئے گئے ، دوکانیں اور املاک ضبط کرلی گئیں ، گالیاں دی گئیں اور کہا گیا کہ ’’تمہارے لئے دو استھان، پاکستان یا قبرستان‘‘۔ بجنور میں بیس سالہ سلیمان کے پیٹ میں گولی ماری گئی ۔ سلمان کی غمزدہ ماں اکبری روتے روتے کہتی ہیں ۔’’میرا بیٹا ایک بڑا افسر بننا چاہتا تھا لیکن ملک اورآئین کی حفاظت کے لئے شہید ہوگیا۔‘‘ شہید سلیمان یوپی ایس سی امتحانات کی تیاریاں کررہا تھا، اس کا خواب تھا کہ وہ کلکٹر بنے ۔ پر ایک غریب نوجوان کو وہ بھی ایسے نوجوان کو جس کا نام سلیمان ہو ، یوگی سرکار کیسے کلکٹر بنتے ہوئے دیکھ سکتی تھی۔ گولی ماردی۔۔۔!! انس عمر میں سلیمان سے صرف پانچ سال بڑا تھا جب پولس کی ایک گولی نے اس کی سانسوں کے سلسلے کو روک دیا۔ بجنور میں اس کے غمزدہ والدین کہتے ہیں کہ ان کے بچے کا ’ مظاہروں‘ سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ پر پولس کیا ماننے والی ہے ، وہ تو لکھنؤ کے اس 15 سالہ بچے کو بھی جو ساتویں کلاس کا طالب علم ہے ’گرفتار‘ کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زورلگارہی ہے ۔ وہ اپنی بہن کے گھر جارہا تھا کہ پولس کی گولی اس کی پیٹھ کو چیرتے ہوئے گذرگئی تھی۔ اس فہرست میں 19 سالہ محمد جمال کا نام بھی شامل ہے جو لکھنؤ کے اسپتال میں پڑا ہوا ہے ۔ یہ فہرست بہت لمبی ہے مظفر نگر سے لے کر میرٹھ تک یوگی کی پولس نے مسلمانوں کے خلاف ’ جنگ‘ لڑی ہے ۔ جو بھی فیکٹ فائنڈنگ ٹیمیں میرٹھ ، بجنور، مظفر نگر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گئی ہیں انہوں نے پولس مظالم کی ایک ایک تفصیل پیش کردی ہے ۔ پولس ہر جگہ نہتے اور بے قصوروں کو مارتی رہی ، قریب سے ان پر گولیاں داغتی رہی اور مقدمے بناتی اور گرفتار کرتی رہی ـ ضعیفوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ مظفر نگر کے ایک ٹمبر مرچنٹ 72 سالہ حاجی حمید حسن کی داستان سن لیں، پولس ان کے دومنزلہ مکان میں گھس گئی اور سارے مکان کو تہس نہس کردیا ، ان کی فریاد پر کہا کہ تم لوگوں کے لئے دوہی استھان ہیں ، پاکستان یا قبرستان ۔ انہیں ڈنڈوں سے پیٹا گیا، ان کے ٹخنوں اور گھٹنوں پر ڈنڈے برسائے گئے ۔ گھر کا سارا سامان لوٹ لیا گیا ۔ 4 فروری کو ان کے گھر میں شادی ہے پر سارے زیورات اور پانچ لاکھ روپئے لوٹ لئے گئے ۔ پولس تنہا نہیں تھی ، سادہ لباس میں بھی لوگ تھے جو بقول مظلومین آر ایس ایس کے رضاکار تھے ۔ لکھنؤ، بجنور ، میرٹھ ، مظفر نگر کی عورتوں اور بچوں نے رونگٹے کھڑے کردینے والی کہانیاں سنائی ہیں ۔۔۔ گھروں کے اندر پولس افسر اپنے سپاہیوں کو حکم دے رہے تھے کہ’’ان کے گٹھنوں اور پیٹ پر مارا جائے ۔‘‘
ظلم تو ہوا ہے پر حوصلے توڑےنہیں جاسکے ہیں ۔ ایک جانب یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے دفتر سے یہ ٹوئٹ کیا جارہا ہے کہ ’’پرتشدد مظاہروں پر کیسے قابو پایا جائے اس کی روشن مثال‘‘ پر دوسری طرف مظاہرے اور احتجاج بند نہیں ہوئے ہیں ۔ حالانکہ مسلمانوں سے ’ بونڈ‘ تک لئےگئے ہیں۔ یوگی کہہ رہے ہیں کہ ’’ ہم نے سب کو چپ ؍ خاموش کرادیا ہے ‘‘ یا باالفاظ دیگر سب کی بولتی بند کرادی ہے ۔۔۔ پر میرٹھ کی آواز سنیئے ،ظلم اور ستم کے باوجود لوگ کہہ رہے ہیں ’’بھلے ہی سرکار ہمارے بچوں کو شرپسند کہے اور اخبار والے فسادی کہیں ، مگر ہمارے بچے دیش کے لئے قربان ہوئے ہیں۔‘‘ آج جب کہ مقامی پارٹیوں نے ، کیا سماج وادی پارٹی اور کیا بہوجن سماج پارٹی اور ان کے مسلم اراکین اسمبلی اور اراکین پارلیمنٹ نے ’ ساتھ ‘ چھوڑ دیا ہے تب بھی میرٹھ سے اٹھنے والی ایک نوجوان صحافی سلیم صدیقی کی یہ آواز سن لیں:’ ’ بی جے پی اور آر ایس ایس نے یہ سمجھ لیا تھا کہ ہم چپ ہیں اس لئے کمزور ہیں مگر ہماری خاموشی کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے، ہر بات کی حد ہوتی ہے ، جب طلاق ثلاثہ بل قانون بنا تب ہم چپ رہے ، جب بابری مسجد کے خلاف فیصلہ آیا تب ہم چپ رہے ، مگر کبھی نہ کبھی تو لاوا پھوٹنا ہی تھا۔‘‘ اور جامعہ ملیہ اسلامیہ ،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء کے احتجاج اور مظاہروں سے یہ لاوا پھوٹا ہے ، اس میں بہت ساری یونیورسٹیاں اورطلبا شامل ہیں ،بھیم آرمی بھی شامل ہے ، ونچت اگھاڑی بھی ،برہمن بھی، ٹھاکر، سکھ ، اور عیسائی بھی ۔ بلکہ سارا ہندوستان شامل ہے ۔۔۔ تو مودی جی ، امیت شاہ ، یوگی اور ان کے حواری کان کھول کر سن لیں کہ سارا ملک ، سارا بھارت کہہ رہا ہے ’’ہم ڈرتے نہیں ہیں ۔۔۔ ہم ڈرے نہیں ہیں۔‘‘

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*