ہم اب بھی مذاکرات کےلیے تیار ہیں ، کسان احتجاج ختم کرکے گھرلوٹ جائیں : مرکزی وزیر زراعت

نئی دہلی: مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے ایک بار پھر کہا ہے کہ حکومت ہند زرعی ایکٹ کے کچھ نکات میں ترمیم کیلئے تیار ہے۔مسٹر تومر نے کہا کہ مرکزی حکومت مذاکرات اور کسانوں کو اپنا احتجاج ختم کرنے کی خواہاں ہے۔ مرکزی وزیر زراعت نے کسانوں سے اپیل کی ہے کہ کسان احتجاج ختم کریں اوراپنے گھروں کولوٹ جائیں ، حکومت ان کے مطالبات پر مثبت اقدام کے لیے تیار ہے۔وہیں تومر نے سابق وزیر زراعت شرد پوار کے اس بیان کا خیرمقدم کیا ہے، جس میں این سی پی رہنما نے کہا ہے کہ زرعی قانون میں تبدیلی کے بجائے اس کے کچھ نکات کو تبدیل کیا جانا چاہئے۔ تومر نے کہا کہ شرد پوار ایک تجربہ کار لیڈر ہیں اور وزیر زراعت رہ چکے ہیں۔ ان کے بیان کی حمایت کرتے ہوئے ہندوستانی حکومت قانون کے کچھ نکات پر تبدیلی کے لئے تیار ہے۔ تومر کا کہنا ہے کہ حکومت ہند نے کسانوں کے نمائندوں سے 11 دفعہ بات کی ہے اور آج بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے تیار ہے۔اس سے قبل گوالیار میں مرکزی وزیر زراعت نے جمعرات کو کہا تھا کہ مرکز کے تین نئے زرعی قوانین کسانوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گے اور ان کو واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسان تنظیمیں ان قوانین کے علاوہ کوئی اور تجویز لائیں تو مرکزی حکومت بات کرنے کو تیار ہے۔تومر نے کہا کہ مرکز کے نئے زرعی قوانین کسانوں کی زندگیوں میں انقلابی تبدیلیاں لانے والے ہیں اور ان کو 30 سال کی محنت کے بعد زرعی ماہرین نے تیار کیا ہے۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بیشتر کسان ، تنظیمیں اور یونینیں ان نئے زرعی قوانین کی حمایت میں ہیں۔