حالات حاضرہ اور ہندوستانی مسلمان

از:ڈاکٹر محسن عثمانی
تبصرہ:عبدالمالک بلند شہری

جب سفینہ بھنور میں پھنستا ہے تو ملاحوں کی تمام تر تدبیریں اور کوششیں رائگاں جاتی ہیں، جب کسی قوم کے اقبال کے ستارے گردش میں آتے ہیں تو نجومیوں اور کاہنوں کا فن و ہنر بھی ناکام ہوجاتا ہے،ہندوستانی مسلمانوں کی موجودہ حالت اس کاروان کی سی ہوچکی ہے جو اپنے رہبروں کی بے بصیرتی اور نا خوش اندیشی کی وجہ سے بے سمتی کا شکار ہوچکا ہےـ قافلہ کا ہر فرد سمت سفر کے تعین کے لیے خوب کوشش کررہا ہے لیکن سب ناکام ہیں ـ

ڈاکٹر محسن عثمانی کاروان کے ان امرا میں سے ہیں جو دل دردمند، فکر ارجمند اور زبان ہوشمند کے حامل ہیں،دیوبند و ندوہ کے فیض یافتہ ہیں،اسلامی و عصری علوم کے جامع ہیں،ان کی زبان بڑی اعلی،فکری کافی رسا، دماغ بڑا پاکیزہ، خیالات بڑے بلند، عزائم فولادی، لہجہ بلا کا شیریں، طرز ادا سحر انگیز، طریقۂ القا مثالی، انداز پیشکش دلچسپ اور بات پیش کرنے کا سلیقہ بڑا صاف ستھرا ہے،وہ بنیادی طور پر تعلیم و تربیت کے میدان کے آدمی ہیں،قلم و قرطاس سے ان کا گہرا رشتہ ہےـ اردو، عربی اور انگریزی تینوں زبانوں میں ان کا خامہ عنبر افشانی کرتا ہے، ان کی اب تک کم و بیش ایک سو سے زائد کتابیں شائع ہوکر مقبول عام و خاص ہوچکی ہیں،ان کا اسلوب بڑا سادہ، شگفتہ اور سلیس ہے، قاری ان کے انداز تحریر سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا، ان کی چند اہم کتابوں میں قضیۃ البعث الاسلامی، اسلام میں اہانت رسول کی سزا، حادثہ کربلا اور اس کا پس منظر، مطالعہ مذاہب، مطالعہ شعر و ادب، حالات بدل سکتے ہیں، یحدثونک عن السید ابی الحسن الندوی، کلیم عاجز شخصیت و شاعری، نجیب محفوظ فی میزان النقد، ہندوستان میں اشاعت اسلام، اردو زبان کا تحفظ اور ہماری ذمہ داریاں، دنیا کو خوب دیکھا، نقد شعر و ادب، مشاہیر فاتحین اسلام، مشاہیر خلفا و سلاطین اسلام، مشاہیر خواتین اسلام اور مشاہیر مسلم سائنس داں وغیرہ شامل ہیں ـ

پیش نظر کتاب حالات حاضرہ اور ہندوستانی مسلمان ان کے سوز دروں اور جذبۂ باطن کی آئینہ دار ہے جو خفتہ جذبوں کو بیدار کرتی ہے، عزائم کو پختہ کرتی ہے، سمت سفر کا تعین کرتی ہے، راہ عمل دکھلاتی ہے اور قافلہ کو دشوار گزار و پرخطر راہ سے بچاتے ہوئے مختصر و پرامن شاہراہ پر موڑتی ہے، یہ کتاب ان کے علمی، فکری اور دعوتی مضامین کا مجموعہ ہے جسے پڑھ کر ذہن کے دریچے وا ہوتے ہیں، کام کرنے کی راہیں سوجھتی ہیں اورکام کی نوعیت سمجھ میں آتی ہےـ

کتاب سو صفحات پر مشتمل ہے جو چودہ مضامین کو محیط ہے،مقدمہ کتاب انتہائی مختصر ہے جس میں مصنف لکھتے ہیں:

حال دل کی کتاب کا کیا مقدمہ لکھا جائے، حزن و ملال کی روداد کا کیا پیش لفظ ہو، پچھلے چند سالوں میں جتنے زخم لگتے رہے انہیں گنتا رہا اور زخم کا مرہم تلاش کرتا رہا، یہ کتاب اسی تلاش کی روداد ہےـ

پہلا مضمون موجودہ حالات میں مسلمان کیا کریں کے فکری عنوان سے ہے جس میں ہندوستان کی موجودہ صورت حال کی بھرپور طریقہ سے وضاحت کی گئی ہےـ یہ اقتباس دیکھئے اور تحریر کی افادیت کو محسوس کیجئے:
ہمیں پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہئے کہ وہ قوم جو اس ملک میں تاج و تخت کی مالک تھی اور سریر آرائے سلطنت تھی کیوں مظلومیت اور بے عزتی کی آخری حد تک پہنچ گئی، کیوں کر اس کی زندگی کی عمارت ایک ملبے میں ڈھیر ہوگئی اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں اپنی تاریخ پر نظر ڈالنی ہوگی ـ

اس مضمون میں انہوں نے ان اسباب و علل کی تفصیل سے نشاندہی کی ہے جن کی وجہ سے مسلمان کسمپرسی کا شکار ہوئے ہیں، دعوتی ذمے داری سے غفلت، دونوں طبقوں کے مابین خلیج کی گہرائی،غیر مسلموں کی مسلمانوں سے غیر انسیت اور لسان قوم سے عاری علما سمیت متعدد کمیوں اور کوتاہیوں کو بڑے سلیقہ سے اجاگر کیا ہےـ محسن عثمانی کا شکوہ بالکل بجا ہے کہ قوم اخرجت للناس کے بہ جائے اخرجت للمسلمین پر عمل پیرا ہے،گاڑی پٹری سے اتر چکی ہے، شاکلۂ ذہنی بدل چکا ہےـ

آگے چل کر مصنف ایک بات ایسی ذکر کرتے ہیں جو ہر باشعور فرد کے احساس کی آئینہ دار ہے، یہ امت عقیدہ کی گمراہی پر جمع نہیں ہوئی ہے لیکن دعوت کی شاہراہ چھوڑنے پر ضرور جمع ہوئی ہےـ

دوسرا مضمون راستے بند ہیں سب کوچہ قاتل کے سوا کے عنوان سے ہے اس مضمون میں سفینہ پرسنل لا بورڈ کے ناخداؤں کی نااندیشی اور بے بصیرتی پر روشنی ڈالی ہےـ محسن عثمانی کے اسلوب کی خاصیت یہ ہے کہ طنز بہت ہی مہذب اسلوب میں اور اشارہ و کنایہ میں کرتے ہیں،ان کے مدعا کو سمجھنے کے لیے سر میں دو سیر دماغ کا ہونا ضروری ہے، صدر پرسنل لا بورڈ پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں، پرسنل لا کے صدر تو مرنجاں مرنج اور بے حد شریف آدمی ہیں ان کی ذاتی رائے کچھ بھی ہو وہ سب کی مان لیتے ہیں ـ

تیسرا مضمون ہجومی تشدد اور چند دیگر مسائل کے عنوان سے ہے، اس میں بڑی تفصیل کے ساتھ ہندوستان میں مسلمانوں کے احوال کی منظر کشی کی گئی ہے، پرسنل لا کی تشکیل جدید کی دعوت دی گئی ہے اور مسئلہ کو گہرائی سے سمجھنے اور اس کا مناسب حل ڈھونڈنے کی درخواست کی گئی ہےـ

اگلا مضمون سنگین حالات اور مسلمانوں کے لیے راہ نجات کے عنوان سے ہے اس میں بھی بڑے بہترین انداز سے بھارتی مسلمانوں کے حالات کو بیان کیا گیا ہے اور امت مسلمہ کے سامنے چند اہم اور ضروری تجاویز پیش کی ہیں مثلا ایک ایسی ہمہ گیر تنظیم کا قیام جو برادران وطن میں مذہب و ملت سے بالاتر ہوکر انسانی بنیادوں پر کام کرے، اسلام کے تئیں ان کی غلط فہمیاں دور کرے اور انہیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ کرے دوسرا مسلمانوں کو تعلیم و اقتصاد کے میدان میں ترقی دینا، تیسرا قائدین و مذہبی پیشواؤں کو اسلامی ہوسٹل کے قیام کی طرف توجہ دینا چوتھا نصاب تعلیم کی اصلاح کرنے اور اسے ضروریات زمانہ اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرناـ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان تجاویز کی ہر شق اپنے اندر بے پناہ افادیت رکھتی ہےـ

اگلا مضمون ہے گردش میں ہے تقدیر، بھنور میں ہے سفینہ،اس مضمون میں وہ مسلمانوں کی غفلت، بے شعوری اور لاپرواہی پر شکوہ سنج نظر آتے ہیں اور مسلمانوں کو اپنی غلطیوں کو سمجھنے اور اس کا تدارک کرنے کی دعوت دیتے ہیں ـ اس اقتباس کو دیکھئے اور مصنف کے جذبہ دروں کی حدت محسوس کیجئے:

مستقبل کی منصوبہ بندی ضروری ہے لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنی غلطیوں کو سمجھیں، اس کے بغیر ہم صحیح منصوبہ بندی نہیں کرسکتے اگر غلطیوں کو چند لفظوں میں بیان کریں تو کہہ سکتے ہیں کہ گاڑی پٹری سے اتر گئی ہے. اسلام جو ایک دعوتی مشن تھا وہ اب موروثی دھرم ہوکر رہ گیا ہےـ

دیگر مضامین میں بھی انہی موضوعات کو برتا گیاہے، مسلمانوں کے جذبۂ خفتہ کو بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے،اس کتاب میں ایک خط بھی شامل ہے جو بہت ہی چشم کشا اور معلومات افزا ہے، اس میں محسن عثمانی کے دلی درد اور روحانی کرب کو بہ خوبی طور پر سمجھا جاسکتاـ

اس کتاب میں یوں تو مختلف تحریریں شامل ہیں اور سب الگ الگ مواقع پر لکھی گئی ہیں لیکن کتاب کثرت میں وحدت کی بہترین مثال ہے، تمام نگارشات دعوت الی اللہ کے عنوان کے اردگرد گھوتی ہیں،سب کا محور یہی ہے کہ وہ کاروان جو غار حرا سے چلا تھا اب بے سمتی کا شکار ہوگیا ہے اسے راہ دکھلائی جائے،کاروان کے فاسد عناصر کی نشاندہی کی جائے اور باہمی اعتماد و یکجہتی کے ذریعہ کارواں کی داخلی قوت کو مستحکم کیا جائےـ

سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب انتہائی دیدہ زیب اور بہترین طباعت کے ساتھ منظر عام پر آئی ہے،اس کا کاغذ بھی اچھا ہے،قیمت بھی انتہائی مناسب ہے، اگرچہ پروف ریڈنگ کی بعض غلطیاں بھی در آئی ہیں، اس کے باوجود موضوع نے اس کمی کو کسی حد تک پورا کردیاہےـ ہیومن ویلفیئر نئی دہلی نے اسے شائع کیا ہےـ النور منزل ڈی 29 ابوالفضل انکلیو جامعہ نگر سے یہ کتاب حاصل کی جاسکتی ہےـ ناشر کا رابطہ نمبر 9654625663 ہےـ

مجھے امید ہے کہ یہ کتاب باشعور طبقہ کو بے حد پسند آئے گی،مسلمانوں کے بحر جذبات میں تموج پیدا کرے گی اور ہمیں تدبر وتفکر کی راہ دکھائی گی ـ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*