حکیم ادریس حبان رحیمی:ایک عہد ساز شخصیت-شاہنوازبدرقاسمی

حبیب الامت حضرت مولاناڈاکٹر حکیم ادریس حبان رحیمی کو رحمة اللہ علیہ لکھنے کی ہمت نہیں ہورہی، کیوں کہ ان کی اچانک وفات نے ذہن کو اس قدر متاثر کیاہے کہ چاہتے ہوئے بھی کچھ لکھنامشکل ہورہاہے۔حکیم صاحب سے پہلی ملاقات آج سے سات سال قبل بنگلور سفر کے دوران ہوئی تھی،مختصر تعارف کے بعد ان کے حسنِ اخلاق و گفتگو نے مجھے بیحد متاثر کیااور یہ سلسلہ دراز ہوتاچلاگیاـ اس کے بعد جب بھی بنگلور گئے ان کے مہمان ہی بن کررہے۔ حکیم صاحب کو ہم احتراماً حضرت کہاکرتے تھے کیوں کہ ان کی سوچ وفکر،تقوی وطہارت اور ملک وملت کی تئیں مخلصانہ ہمددری نے ہمیں بہت کچھ سوچنے سمجھنے اور کرنے پر مجبور کردیاتھا،وہ پیشہ سے ایک کامیاب طبیب تھے جن سے علاج کروانے والے چالیس ممالک میں پھیلئے ہوئے ہیں،طبی دنیامیں حکیم صاحب محتاج تعارف نہیں،انہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں اور محنت سے اس فن کو ایک نئی زندگی دی اور ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں مایوس چہروں پر خوشیاں لانے کاکام کیا،کئی لاعلاج بیماریوں کاکامیاب علاج کرکے انہوں نے اس میدان میں جو معتبربت حاصل کی وہ ایک مثال ہے۔
حکیم ادریس حبان رحیمی صاحب 20اپریل 1958میں یوپی کے ضلع مظفرنگر کے قصبہ چرتھاول میں پیداہوئے۔ابتدائی تعلیم آبائی وطن چرتھاول،خادم العلوم باغوں والی اور جامعہ اشرف العلوم رشیدی گنگوہ میں حاصل کی،آپ کاشمار استاذ الاساتذہ حکیم عبدالرشید محمودانصاری عرف حکیم ننھوں میاں گنگوہی(نبیرہ حضرت مولانارشیداحمد گنگوہیؒ)کے خاص شاگردوں میں ہوتاہے جہاں آپ مسلسل 8سال رہ کر ان سے فیض یاب ہوئے۔
حکیم ادریس حبان صاحب تقریباً40سال سے بنگلور شہر میں قیام پزیر تھے اور اب ان کے اہل خانہ کیلئے بنگلورہی وطن اصلی بن چکاہے لیکن انہوں نے زندگی کے آخری سانس تک چرتھاول سے اپنے رشتہ کو مضبوط رکھا،حکیم صاحب صرف ایک طبیب نہیں تھے،بلکہ انہوں نے زندگی کے ہر میدان میں قسمت آزمائی کی اور کامیاب ہوئےـ ایک درجن سے زائد کتابوں کے مصنف،رحیمی شفا خانہ بنگلور ودہلی کے سربراہ،دارالعلوم محمدیہ کے بانی ومہتمم اور مشہور طبی رسالہ نقوش عالم کے چیف ایڈیٹر تھے،آپ تصوف وطریقت میں بھی امتیازی شان کے حامل تھے،آپ کی روحانی مجلس اور اصلاحی بیانات دلچسپ ہوتے تھے انہوں نے اپنے چھوٹوں کی رہنمائی،رہبری اور حوصلہ افزائی میں کبھی بخالت سے کام نہیں لیاـ ہر ممکن مدد کیلئے ہمیشہ تیار رہتے۔حضرت حکیم صاحب کو دیکھ کر اسلاف واکابر کی یاد تازہ ہوجاتی تھی،وضع قطع اور رکھ رکھاؤ شاہانہ تھا،ملنے جلنے کاانداز ایساکہ جو ایک بار مل لے باربار ملنے کاجی چاہتاتھا،ان کی شناخت ایک معتبر معبر کی بھی تھی،خوابوں کی تعبیراور ان کی حقیقت نامی کتاب لکھ کر انہوں نے علمی حلقے پر احسان عظیم کیاہے کیوں کہ اب اس فن کے ماہرین کو تلاش کرناآسان نہیں ہے۔ان کے مریدین و متوسلین کاحلقہ بھی کافی وسیع ہے،حکیم صاحب جدید تقاضوں سے ہمیشہ ہم آہنگ رہتے تھے،پرانی باتوں کو نئے طریقے پر کہنے اور لکھنے کاخوب ہنر تھاجس کااندازہ ان کی بے شمار تحریروں اور یوٹیوب چینل پر بیانات سن کر بخوبی لگایاجاسکتاہے۔
حکیم ادریس حبان صاحب کی وفات یقینا ایک عظیم سانحہ ہے،تعزیت کیلئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں،حضرت کے بڑے صاحبزادے برادرم ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی اور مولانا حکیم عثمان حبان رحیمی ان کے علمی وفنی وارث ہیں،اللہ پاک تمام اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے اور حضرت حکیم صاحب کے درجات کو بلند فرمائے،ایک ایسی شخصیت کی جدائی جن کی کمی کااحساس ہمیشہ ستائے گاـ اللہ پاک ان کی تمام خدمات اور کارناموں کوقبول فرمائے اور دارالعلوم محمدیہ،رحیمی شفا خانہ اور ملت اسلامیہ کو ان کانعم البدل عطافرمائے۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)