حج 2021کورونارہنما خطوط پرمنحصر ہوگا،انتظامات میں بڑی تبدیلی ممکن:مختارعباس نقوی

نئی دہلی:مرکزی وزیربرائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے پیرکے روزکہاہے کہ حج 2021 کورونا وائرس کے وبا سے متعلق قومی – بین الاقوامی رہنما خطوط پر منحصر ہوگا۔ نیز لوگوں کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔انہوں نے یہ بھی کہاہے کہ حج کمیٹی آف انڈیا اور دیگر ہندوستانی ایجنسیوں کو جلد ہی اگلے سال حج کے لیے درخواستوں اوردیگرتیاریوں کے بارے میں بتایاجائے گا۔ حج 2021 کے سلسلے میں یہاں منعقدہ ڈیجیٹل جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے نقوی نے کہاہے کہ اگلا حج جون جولائی کے مہینے میں ہونا ہے۔ لیکن حتمی فیصلہ حج 2021 پرکیا جائے گا ، اس میں کورونا آفت اور اس کے اثرات کا مکمل جائزہ لیا جائے گا اور حکومت سعودی عرب اور حکومت ہند کے رہنما اصولوں کوترجیح دی جائے گی۔وزیرے مطابق سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے حج 2021 کے سلسلے میں فیصلے کے بعد درخواست اوردیگر عمل کے بارے میں باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔ نقوی نے کہا ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے رہنما اصولوں کے پیش نظر حج انتظامات میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے۔ ان میں ہندوستان اور سعودی عرب میں رہائش ، ٹریفک ، صحت اور دیگر انتظامات شامل ہیں۔انہوں نے کہاہے کہ کورونا کی وجہ سے عازمین حج کی حفاظت حکومت کی ترجیح ہے۔ حکومت ہند اور دیگر متعلقہ ادارے اس سمت میں ضروری انتظامات کریں گے۔ حکومت اور حج کمیٹی نے اس سلسلے میں ضروری کارروائی شروع کردی ہے۔نقوی نے کہا ہے کہ ہندوستان کے 100 فیصد ڈیجیٹل حج سسٹم کا نتیجہ یہ ہے کہ ایک لاکھ 23 ہزار افراد میں سے جوکورونا کی وجہ سے حج 2020 میں جانے سے قاصر رہے ہیں ، انہیں بغیر کسی کٹوتی کے ڈی بی ٹی کے ذریعے واپس کردیا گیا ہے۔ سعودی عرب کی حکومت نے بھی حجاج کرام کاتقریباََ19 100 کروڑ روپے 2018-19 کے لیے واپس کر دیا ہے۔اہم بات یہ ہے کہ کورونا بحران کی وباکی وجہ سے سعودی عرب کی حکومت نے اس سال محدودتعداد میں حج کی منظوری دی۔ اس کی وجہ سے ہندوستان سے عازمین حج نہیں جاسکے۔