حج 1442ھ كے متعلق سعودى عرب كا حكيمانہ فيصلہ- ڈاكٹر محمد يوسف حافظ ابو طلحہ

حجاج كرام كى خدمت سعودى تاريخ كا ايک روشن باب ہے، شاه عبد العزيز اور ان كے بعد ان كے فرزندان ارجمند شاه سعود، شاه فيصل، شاه خالد، شاه فہد، شاه عبد الله -رحمهم الله-، اور شاه سلمان –حفظہ اللہ- نے يكے بعد ديگرے ملک كى زمام سنبهالى، اور سب نے ايمانى جذبے سے اپنے اپنے وقت كے تقاضے كے مطابق حجاج كى مصلحت ، راحت اور امن وسكون كى خاطر طرح طرح كى سہولتيں اور متنوع خدمات فراہم كى ہيں۔ مشاہدہ ہے كہ حج كا موسم آتے ہى بادشاه سے لے كر صفائى كرنے والے تک سب كے سب دل وجان سے حجاج كى خدمت ميں حسب معمول تمام تر توانائيوں، تمام تر وسائل وامكانات كےساتھ جٹ جاتے ہيں، نہ جانے كتنے انسان ، كتنے آلات، كتنى مشينيں اوركتنى گاڑياں وغيره وغيره حجاج كى خدمت پر لگا ديے جاتے ہيں، قابل رشک  امن وامان، عمده طبى سہوليات، حجاج كى گوناگوں رہنمائى، ضروريات زندگى كا مكمل نظم، جديد مواصلاتى سسٹم، صفائى كا بے مثال نظم، اس كے علاوه طرح طرح كى خدمات ، جنهيں ديكھتے ہى صاف ستھرے دل كا انسان حيرت وتعجب ميں ڈوب جاتا ہے۔ ان سارى خدمات كے پيچهے بنيادى بات يہ ہےكہ سعودى حكومت، ا ور عوام –عام طور پر- حجاج كى خدمت كو رضائے الہى كا ذريعہ، اور دينى شرف و سعادت كا تاج سمجھتى ہے، اور ہر آنے والے سال ميں ان كى مكمل كوشش ہوتى ہے كہ خدمات كو مزيد بہتر بناياجائے، اور شركائے حج كى تعداد ميں اضافہ كيا جائے۔
مگر افسوس كہ ان كا يہ ديرينہ جذبہ حاليہ وبائى مرض كى بهينٹ چڑھ گيا، اور انہيں سال گزشتہ (1441ھ) پھر امسال (1442ھ) بادل نا خواستہ خاص فيصلہ لينا پڑا، جسے ارباب عقل ودانش حكيمانہ فيصلہ مانتے ہيں۔
سعودى عرب كا حاليہ فيصلہ: حج 1442ھ كے سلسلے ميں سعودى عرب نے جو اہم فيصلہ ليا ہے، اس كا خلاصہ يہ ہے كہ :
(1) سال رواں (1442ھ) كے حج ميں شركت كرنے والوں كى تعداد صرف ساٹھ ہزار ہوگى۔
(2) شركائے حج كى يہ محدود تعداد سعودى عرب كے شہرى، اور مختلف ممالک سے تعلق ركهنے والے مقيم افراد پر مشتمل ہوگى۔
(3) يہ اجازت صرف ان ويكسين يافتہ لوگوں كو ملے گى جن كى عمر اٹهاره سے پينسٹھ سال كے درميان ہو، اور امراضِ مزمنہ (chronic disease) سے محفوظ ہوں۔
فيصلے كا واحد سبب: يہ فيصلہ بادل نا خواستہ صرف اور صرف عالمى وبائى مرض كورونا وائرس (كوڈ 19) كے سبب ليا گيا، كيونكہ عالمى ادارہ صحت كے اعداد وشمار كے مطابق يہ وبائى مرض لگ بهگ دنيا كے دوسو ملكوں كو اپنى چپيٹ ميں لے چكاہے، تقريبا ايک سو چہتر (176) ملين لوگ اب تک اس سے متاثر ہو چكے ہيں، اوراس مرض نے لگ بهگ اڑتيس (38) لاكھ لوگوں كو موت كے گهاٹ اتار ديا ہے، اور وقتا فوقتا اس كى لہر تيز سے تيز تر ہوجاتى ہے.
اب غور كرنے كى بات يہ ہے كہ دوسال قبل كے اعداد وشمار كے مطابق حج ميں لگ بهگ دو ملين مسلمان شريک ہوا كرتے تهے، اب اگر اتنى بڑى تعداد يا اس سے كچھ كم وبيش حاليہ وبائى مرض كے زمانے ميں بهى شريک  ہوگى تو تصور كيجیے  كہ انجام كيا ہوگا؟ حج كے اركان وواجبات كى ادائيگى كى جگہ محدود ہے، وقت مقرر ہے، اب اگر اتنى بڑى تعداد محدود جگہ ميں ایک وقت پر اكٹها ہوگى تو پهر صورت حال كيا ہوگى؟ يقينا ہميں اللہ پر مكمل بھروسہ ركهنا چاہیے، مگر اس كے ساتھ ہمارى شريعت يہ تعليم بهى ديتى ہے كہ جائز اسباب بھى اختيار كرنا چاہيے۔
مذكورہ بالا فيصلہے كے حكيمانہ پہلو: مذكورہ بالا فيصلے كو مذكوره بالا سبب كے تناظر ميں ديكها جائے تو اس ميں بہت سارے حكيمانہ پہلو نظر آتے ہيں، چند اہم پہلووں كى طرف اشارہ كيا جارہاہے:
(1) متعدى بيماريوں كى روک  تهام كے لیے جو اسلامى ہدايات ہيں اس كے عين مطابق ہے۔
(2) موجوده وبائى مرض كى روك تهام كے لیے جو طبى گائيڈ لائن جارى كى گئى ہے اس سے ميل كهاتا ہے۔
(3) اس دانشمندانہ فيصلے ميں دين اور جان دونوں كى حفاظت كو مد نظر ركها گيا ہے۔
دين كى حفاظت اس طرح سے كہ حج كا جو شعيرہ ہے اسے قائم كيا جارہا ہے.
اور جان كى حفاظت اس طرح سے كہ اتنے ہى لوگوں كو حج ميں شركت كى اجازت دى جارہى ہے جتنے كو حاليہ وبائى مرض كے تناظر ميں طبى ہدايات كے دائرے ميں ركهنا ممكن ہے۔ اور دين و جان كى حفاظت انسان كى ان پانچ بنيادى ضرورتوں ( دين، جان، آبرو، عقل اور مال) ميں سے ہے جن كى حفاظت اسلام ميں مطلوب ہے۔
(4) اس فيصلے ميں حج كى عالمگيريت كو بھى ملحوظ ركھا گيا ہے بايں طور كہ سعودى عرب ميں مقيم دنيا كے مختلف ملكوں كے باشندے سال رواں كے حج ميں بهى شریک ہوں گے۔
(5) بلاد حرمين ، بالخصوص مكہ اور مدينہ كو وبائى بيمارى سے محفوظ ركهنے كو بھى ملحوظ ركھا گيا ہے۔
(6) مختلف ممالك سے حجاج كى آمد ورفت كى صورت ميں اگر ديگر ممالك ميں اس وبائى بيمارى كى لہر تيز ہوتى ہے تو ناپاک طينت مفاد پرست عناصر كو مسلمانوں اور بالخصوص حاجيوں كو بدنام كرنے كا موقع مل سكتا ہے۔ اس فيصلے سے بدنامى كا يہ انديشہ بهى ختم كرديا گياہے۔
رب العالمين شعيرہ حج كے قيام كو آسان، اور حجاج كرام كى حفاظت فرمائے، اور بلاد حرمين كو ہر شر وفساد سے محفوظ ركهے۔