ہیں آنسو بدگماں ہم سے ہمارے ـ کبیر اطہر

ہیں آنسو بدگماں ہم سے ہمارے
اداسی مسئلے سمجھے ہمارے

دیا ہے لمس کا تحفہ بدن کو
کسی نے کاڑھ کے کرتے ہمارے

ہیں کم اس دکھ کو دو آنکھوں کے آنسو
کوئی روئے گلے لگ کے ہمارے

ہوائیں بند کرتی کھولتی ہیں
اسی پر خوش ہیں دروازے ہمارے

نہ دیکھا اک نظر اس خوش نظر نے
دیے رسوا ہوے جل کے ہمارے

بدن کی فائلیں دیمک کی سمجھو
یہ دفتر گر نہیں کھلتے ہمارے

یونہی نکلی نہیں ہے آہ دل سے
لگا ہے ہجر سینے سے ہمارے

وہ چہرہ آج بھی روشن ہے اتنا
ہوئے ہیں آئنے دھندلے ہمارے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*