ہے عجیب سا یہ سلسلہ- م ہشام

سوشل میڈیا پر گزشتہ چند روز سے ایک عجیب سی طوفانی لہر اٹھی ہے ۔ہر کسی کا نشانہ علما برادری ہے ۔ مان لیا جائے کہ یہ ساری تخریب کاری مذہب بیزار لوگوں کی ہے پھر بھی ! ذرا اپنی منصفی عینک کو تھام کر دیکھئے، سوچیے پھر بولیے۔ کسی کی خود کشی کے ذمہ دار علما کیسے ہوگئے ؟ انہوں نے کب کس کی مایوں ،مہندی، بارات، ولیمہ کا کھٹا میٹھا چکھا ؟ ختنہ، عقیقہ برتھ ڈے ،چلّہ میں ڈی جے کے سامنے والی نشست پر کب انہوں نے فاتحہ پڑھا ؟ ۔پھر بھی کمال ذمہ داری سے ہر ذمہ داری ان کے سر ڈالی جارہی ہے۔
کسی کی لڑکی گھر سے نکل گئی،علما قصوروار ہیں تربیت پر تقریر نہیں کرتے۔
کسی کی گائے پڑوسی کا کھیت چرگئی علما نے جانوروں میں کبھی تربیت کا کام نہیں کیا بس انسا نوں کو درس دیتے رہتے ہیں۔
کسی کا بیٹا ایکسیڈینٹ میں زخمی ہوگیا علما کی غلطی ہے ۔بائیک پر بیٹھنے کی دعا اور گاڑی کے آداب نہیں سکھائے۔
کسی کی اولاد نشے میں پڑگئی یہ بھی علما کی ہی غلطی ہے جو کبھی نشہ سپلائی کرنے والوں کے درمیان نہیں گئے اور فیلڈ ورک نہیں کیا۔
انہوں نے اپنی تقریر وتحریر سے ہر بے جا رسم ورواج سے عوام کو روکا ہی ہے ۔
میراث میں خواتین کے حصے کے لیے سالوں سے دروس ، کورسز ،بیانات منعقد کئے جارہے ہیں۔
خواتین کی اپنے حقوق سے آگاہی کے لیے عالمات بھی پیش پیش رہی ہیں ۔آن لائن آف لائن ہر ممکن ذریعہ سے وراثت کے مضمون اور اس کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
لیکن افسوس! !! جب احسان فراموشی اور ناقدری انسان کی عادت بن چکی ہو تو پھر ایسے رویے ہڈ حرام کہلاتے ہیں۔قدردانی تو دور کی بات ہے سماج میں کام کرنے والوں کو جس رحم بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے وہ انتہائی ذلت آمیز ہے۔
یہ تو وہ مفلوک الحال طبقہ ہے جس کے خُطبے کے ہدیے بھی اس وقت مائِنَس کر لیے جاتے ہیں جب حفظان صحت کی وجہ سے ملک بھر کی مساجد میں جمعہ کا خطبہ مختصر کردیا گیا ہو۔
مطلب ! "مولی ساب پندرہ منٹ بول کر دو گھنٹے کا ہدیہ لے جائیں ہر گز نہیں "یہ سادہ لوح طبقہ بھلا کس طرح کسی کی موت کا ذمے دار ہوا؟ کب سے بے چارے جہیز، بارات، ناچ گانے اور شرعی احکامات بیان کرنے پر اپنا جینا اس بھلے انسانی سماج میں دشوار کرواچکے ہیں ۔
ایک امام نے خطبہ جمعہ میں پڑھا ” الحَمُو المَوت "۔ دیور موت ہے ۔ تیسرے روز امام کو اپنامکان چھوڑنا پڑا ۔کیونکہ وہ ٹرسٹی کے کرایہ دار تھے۔
اچھا ہوا سُشانت کیس میں مولانا برادری کا دور دور تک کوئی رابطہ نہیں تھا ورنہ بر صغیر کی مذہب بیزار عوام اپنے آس پاس کے ایک ایک مولوی کو چُن چُن کر تھانے پہنچادیتی کہ تم نے سُشانت کے کانوں میں کلمہ شہادت کیوں نہیں پہنچایا ورنہ وہ کبھی خود کشی نہ کرتا۔
ایک جِیالے عالم نے اپنی جان پتھیلی پر رکھ کر نوہیرہ شیخ کے اسکَیم scam سے بہت پہلے اس کے طریقہ کار پر سوالیہ نشان اٹھائے ،مختلف ذرائع سے عوام کو ہوشیار کرنے کی کوشش کی لوگ نہیں مانے الٹا اس عالم کے خلاف ایک محاذ کھولا گیا دھمکیوں سے بھرے کالز کی بہتات اور پھر کورٹ سے 100 کروڑ کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ کیا کریں مریخ پر جاکر بس جائیں اور وہاں کی خلائی مخلوق کو دین کا درس دیں؟
لیکن انسان تو صرف زمیں پر بستے ہیں جو ہمیشہ اپنی کمیوں ، غلطیوں اور غیر ذمہ داریوں کا ٹھیکرا پھوڑنے کے لیے ایک عدد سر ایسے سر کی تلاش کرتے ہیں جو دوسرے کا ہو۔ جن کا وجود تک لوگ برداشت نہیں کرپاتے ، علماء سے دور دور بھاگتے ہیں وہ کس منہ سے عائشہ کے معاملے میں علما کو ذمہ دار ٹھہرارہے ہیں۔
معاشرے میں اصلاح تبھی ہوگی جب ہم ناصح کی نصیحت کو سنیں گے پھر برداشت کریں اور اس سےبڑھکر عمل بھی کریں گے ۔رویے لچکدار نہ ہوئے تو پورا نظام متاثر ہوگا ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*