حفیظ نعمانی کی یاد میں ’الفرقان ‘کا یادگار شمارہ

 

تبصرہ: شکیل رشید

مرحوم حفیظ نعمانی سے میری بالمشافہ ملاقات کبھی نہیں ہوئی ، لیکن مجھے کبھی یہ نہیں محسوس ہوا کہ میں ان سے نہیں ملا ہوں ۔ میرے اخبار میں، اسے میں اپنی خوش قسمتی ہی کہوں گا، ہفتہ میں دو بار ان کے کالم شائع ہوتے تھے جنہیں پڑھ کر مجھے یوں لگتا تھا جیسے مجھ میں اور اُن میں بات ہو گئی ہے ۔ حفیظ نعمانی کے کالموں کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ ہر پڑھنے والے کو یوں لگتا تھا جیسے جو کچھ لکھا گیا ہے اسی کے لیے لکھا گیا ہے ۔ گویا یہ کہ مرحوم کے اپنے تجربات اور مشاہدے، قارئین کے ذاتی تجربات اور مشاہدے بن جاتے تھے، اس طرح لکھنے اور پڑھنے والے کے درمیان ایک اٹوٹ رشتہ قائم ہوجاتا تھا ۔ میرا اُن سے ایسا ہی رشتہ تھا ۔ حفیظ نعمانی صاحب کے انتقال کی خبر سے ان کے ہر قاری کی طرح میرا بھی یہی احساس تھا، اور آج بھی ہے کہ اُن کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے اس کا پُر ہونا آسان نہیں ہے، اور حقیقت یہی ہے کہ اُن کی جگہ ابھی بھی خالی ہے ۔ مرحوم حفیظ نعمانی ،مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی کے بڑے بھائی تھے، یعنی حضرت مولانا منظور نعمانی ؒ کے بڑے صاحبزادے، مولانا عتیق الرحمن سنبھلی سے چھوٹے ۔ نعمانی خاندان کی خدمات اظہر من الشمس ہیں ۔ اس خاندان نے ٩٠ سال قبل مسلمانوں کی مذہبی، دینی، اور سماجی اصلاح و تربیت کے لیے ’الفرقان‘ کے نام سے ایک پرچے کا اجراء کیا تھا، اس کا ایک شمارہ حفیظ نعمانی کی یاد میں ’ ‘ذکرِ حفیظ‘ کے عنوان سے اگست، ستمبر ٢٠٢٠ء میں شائع ہوا تھا، جس میں مرحوم کے دو بھائیوں، ایک ‘’الفرقان‘ کے مدیر مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی اور دوسرے مولانا محمد حسان نعمانی کے دو ایسے مضامین شامل ہیں جو مرحوم کی زندگی کو، ان کے روزمرہ کے معمولات، ان کی دینداری، سماجی خدمات، چھوٹوں سے شفقت اور دوستی اور حق کے لیے باطل کے خلاف ڈٹ جانے کی اُن کی سرشت کو ، قارئین کے سامنے یوں رکھ دیتے ہیں کہ وہ مرحوم کو اپنے آنکھوں کے سامنے چلتا پھرتا محسوس کرنے لگتے ہیں ۔’’ ‘نگاہِ اولیں‘‘ میں اس خصوصی شمارے کو مرتب کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے مدیر محترم لکھتے ہیں : ’’ یہ داعیہ (خاص نمبر نکالنے کا) صرف ایک شفیق بھائی کو محبتوں کا نذرانہ پیش کرنےکے جذبے کا نتیجہ نہیں تھا، اس کا اصل محرک یہ تھا کہ ہمارے ملک میں مسلمانوں کے مذہبی و تہذیبی تشخص اور آئینی حقوق کے تحفظ کے سلسلہ میں مرحوم کی جدوجہد اور قربانیوں کا تذکرہ کرکے، ان تمام لوگوں کے حوصلوں کو بلند کرنے، اور انہیں کشمکش اور مزاحمت کی راہ پر ثبات و استقامت کا پیغام دینے کی کوشش کی جائےجن کے کندھوں پر اس وقت جدوجہد کو جاری رکھنے اور آگے بڑھانے کی ذمہ داری ہے ۔ ‘‘ مدیر محترم جسے پیغام پہنچانا چاہتے ہیں وہ آج کی نئی نسل ہے، طلبہ ہیں ۔ اپنے مضمون ’’شفقت و محبت، خلوص و وفا، اور حق گوئی و بے باکی کی ایک مثال حفیظ نعمانی ‘‘میں، جو بلاشبہ ایک تاریخی حیثیت کا مضمون ہے، مولانا خلیل الرحمٰن سجاد نعمانی نے سارے ہندوستانی مسلمانوں کی ماضی قریب اور حال کی تاریخ کے حوالے سے اپنے بڑے بھائی مرحوم حفیظ نعمانی کی تحریک علی گڑھ اور حکومت کے ذریعہ اس کے اقلیتی کردار پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کا بھرپور تذکرہ کیا ہے، اور مستقبل میں کیسے قدم رکھا جائے اس بارے میں مفید مشورے دیے ہیں ۔ ساتھ ہی ملک کی تقسیم کا اور اُن سیاست دانوں کا تذکرہ آ گیا ہے جو واقعی ملک کے بٹوارہ کے قصوروار تھے ۔ یہ ایک بے مثال مضمون ہے اور واقعی اسے پڑھ کر کالج اور یونیورسٹی کے، خصوصاً اے ایم یو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلبہ کو ایک نیا عزم اور حوصلہ مل سکتا ہے ۔ یہ مضمون ہر کسی کو پڑھنے کی ضرورت ہے ۔ دوسرا مضمون مولانا حسان نعمانی کا ہے جو مرحوم حفیظ صاحب کے اخلاق، چھوٹوں سے پیار اور قرآن پاک سے ان کی بےپناہ محبت کو سامنے لاتا ہے ۔ دونوں ہی مضامین جذبات میں بہے بغیر تحریر کیے گیے ہیں ۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ ۔ اس شمارہ میں مدیر محترم کا تحریر کردہ ایک مضمون اپنے عم زاد عمر بھائی کی رحلت پر بھی ہے، جو ایک نیک انسان کو بھرپور خراجِ عقیدت ہے ۔ اللہ کرے یہ شمارہ ہر ہاتھ میں پہنچے، آمین ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*