حفیظ نعمانی اور اُن کا عہد- حکیم وسیم احمد اعظمی

میں نے زندگی میں متعدد صحافیوں کو دور اور قریب سے دیکھا ہے،جن میں بھائی جمیل مہدی اور محفوظ بھائی]محفوظ الرحمن[ دو ایسے صحافی رہے ہیں،جن سے خوب صحبتیں رہی ہیں۔دونوں کو کب سے پڑھنا شروع کیا؟ کچھ یاد نہیں،بس یہ سمجھ لیں کہ جب سے لفظوں کا شعور پیدا ہوا،تب سے۔دونوں کی تحریریں اردو صحافت کا اعلیٰ معیار متعین کرتی تھیں۔دونوں ہی قلم برداشتہ اور بے تکان لکھتے تھے۔دونوں کی تحریریں معاصر صحافت سے لگّا کھاتی تھیں۔دونوں ہی ملت کے مسائل پر قلم اُٹھاتے تو اپنا دل گویا کاغذ پر اُکیر دیتے ۔دونوں کو میں نے لکھتے بھی دیکھا تھا۔ بھائی جمیل مہدی کے یہاں وقت بے وقت کبھی بھی چلا جاتا تھا، کبھی کبھار وہ ناراض بھی ہوجاتے تھے، لیکن مجھے اس ناراضگی سے ذرا بھی سروکار نہ تھا،کہ میں ان کے مرحوم چھوٹے بھائی عقیل محزوں کا دوست جو تھا،اور وہ مجھ میں اپنا عقیل دیکھتے تھے۔ محفوظ بھائی سے شاید لکھنؤ میں ایک آدھ ملاقات رہی ہو،لیکن دہلی کے زمانۂ قیام میں ان کے یہاں حاضری معمول میں تھی۔ یہ سلسلہ اس وقت کم ہوا،جب میں لکھنؤ گیا،لیکن سرکاری کام سے ہر بیسویں پچیسویں دن دہلی جانا ہوتا تھا، اور کبھی دوچار دن تو کبھی ہفتوں رُکنا پڑتا، اس دوران محفوظ بھائی سے ملاقات لازمی تھی۔البتہ اس قدر ضروراحتیاط کرتا کہ ان کے ہفتہ وار کالم لکھنے کے دن نہ جاؤں۔کبھی ایسا بھی ہوا کہ اس احتیاط کی وجہ سے ان سے ملے بغیرواپس آگیا۔لیکن دوسرے سفر میں ملاقات ہوئی اور انہوں نے نہ ملنے کی شکایت ضرور کی۔میں نے کالم کا حوالہ دیا تو فرمایا: ”یہ تو چلتا رہتا ہے،آپ بے جھجھک آ یاکریں“۔
حفیظ نعمانی ایسے صحافی ہیں، جن کو میں نے خوب پڑھا ہے،دور دور سے بارہا دیکھا ہے،لیکن ملاقات صرف ایک بار کی ہے،کوئی گھنٹے،سوا گھنٹے کی،ان کے در دولت پر،اپنے ایک رفیق کے اصرار پر، اُن کی کتاب پر تبصرہ کی درخواست کے ساتھ۔تبصرہ لکھنے سے تو انہوں نے یہ کہہ کر اسی وقت معذرت کرلی کہ میں اس موضوع پر لکھنے کا اہل نہیں ہوں کہ یہ طبّی اورتکنیکی کتاب ہے، لیکن معاملہ عالی ظرفوں اور بزرگوں والا کیا۔گفتگو میں ایسی حلاوت اور اپنائیت کہ وہ کہیں اور زمانہ سنے۔اس مختصر ملاقات میں مجھے محسوس ہوا کہ وہ ملت سے نہ صرف جڑے ہوئے ہیں، بلکہ ملت کو جوڑنے کا ہنر بھی جانتے ہیں۔ان تینوں بزرگوں کا تعلق اُتر پردیش کے تین مردم خیز خطّوں سے تھا،ایک کا خمیراولیا کی سرزمین دیوبند سے اُٹھا تھا تو دوسرا دیار ِ شبلی کا پروردہ اور تیسرا علما اور صلحا کی بستی سنبھل سے تعلق رکھتا تھا۔لیکن تینوں کی صحافتی زندگی کو اعتبار لکھنؤ میں ملا۔ بعد میں بین الاقوامی حیثیت بھی حاصل ہوئی۔ بھائی جمیل مہدی اور حفیظ نعمانی تو لکھنؤ میں رہے، لیکن محفوظ بھائی نے لکھنؤ چھوڑ کردہلی میں بود باش اختیار کرلی تھی۔ ابتداء اً ان تینوں کا تعلق ڈاکٹر عبد الجلیل فریدی اور ان کی تحریک سے تھا۔
حفیظ نعمانی قلم کے سپاہی بھی تھے اور مجاہد بھی۔ان کے قلم میں نہ تو مصلحت تھی اور نہ ہی مصالحت۔بالفرض اگر ہوتی بھی تو شرعی اور اخلاقی حدود میں رہ کر۔کیوں کہ ان کا تعلق جس خانوادہئ علم و دانش اور زہد وورع سے ہے،اس میں صالحیت کے سوا کسی اور سے سروکار نہیں۔اس خانوادہ کے مزاج میں حق گوئی اور بیباکی کل بھی تھی،الحمد للہ آج بھی ہے اور ان شاء اللہ آئندہ کل بھی رہے گی۔ وہ کثیر الابعاد شخصیت کے مالک تھے۔وہ حافظ ِ قرآن بھی تھے،عالم دین بھی اور عصری علوم سے آگاہ بھی۔گھر میں علم کا چرچا اور روحانی ماحول کا غلبہ تھا۔صدق و صفا اوردانش و بینش کے اس ماحول میں انہوں نے وہی کہا، وہی کیا اور وہی لکھا،جو اس خاندان کا مزاج اور امتیاز تھا۔ان کا قلم سچ اور حق کا ترجمان تھا۔وہ ایک خاص فکر کے صحافی تھے،عام دھارے سے بہت مختلف۔ذاتی فہم ا و ر اسلامی فراست سے وہ حقائق اشیا تک بخوبی پہنچ جاتے تھے۔ اسی لیے ان میں جو سیاسی بصیرت تھی وہ انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔انہوں نے اپنی صحافتی زندگی کے ابتدائی دور میں ہی ملک کی ’کل گزشتہ‘ کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے عزائم جان لیے تھے۔ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں اس سیاسی پارٹی کا خفیہ ایجنڈہ ان سے مخفی نہیں تھا۔اسی لیے 1962ء کے پارلیمانی انتخاب میں قریبی تعلق ہونے کے باوجود کانگریس کے امیدوار حافظ محمد ابراہیم کی مخالفت اور آزاد امید وار آچاریہ کرپلانی کی حمایت کی تھی اور صرف32/برس کی عمر میں لکھنؤ سے سنبھل جاکر عملی طور پر تشہیری مہم میں حصہ لیا تھا۔کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ:
’’متحدہ قومیت کا سبق صرف مسلمانوں کو پڑھا کر ان کو اپنے تہذیبی تشخص کے احساس سے محروم کرکے ہندو معاشرے اور تہذیب میں ضم کردینا ہی کانگریس کا اصل ہدف تھا“۔
اخوت،بھائی چارہ،ہم آہنگی،سیکولرزم اور متحدہ قومیت کا سبق صرف مسلم اقلیت پڑھے اوربلا شرکتِ احد وہی اس کو یاد بھی رکھے،یہی کل گزشتہ کی اس سب سے بڑی سیاسی پارٹی کا مسلمانوں سے مطالبہ تھا۔اس کے بین السطور میں وہی خفیہ ایجنڈہ تھا کہ مسلمان اپنا تشخص کھو دیں اور اپنی فکری اساس سے محروم ہوجائیں اور غیر’محفوظ زندگی‘ کے احساس کی صلیب پر لٹکے رہیں۔حقائق کے تناظر میں جائزہ لیا جائے تو ’خوف‘ کی سیاست کی بیج اسی سابق بڑی سیاسی پارٹی نے بوئے تھے،جس کا فائدہ دوسری چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیوں نے اُٹھایا۔ حفیظ نعمانی ساری زندگی اپنے قلم سے، اپنے عمل سے اس طرح کی مضروب سوچ کی نفی کرتے رہے اور ہر ہندوستانی کو بالعموم اور ہر ہندوستانی مسلمان کو بالخصوص اس خطرہ سے آگاہ کرتے رہے کہ باہمی اتحاد میں ہی فرد،قوم اور ملک کا فائدہ ہے۔ ملک کی ترقی اسی میں مضمر ہے۔ندائے ملت کا ’مسلم یونیور سٹی نمبر‘ بھی اسی مضمحل سوچ پرضرب تھا۔ یہاں بھی سوال صرف علی گڑھ یامتحدہ قومیت کا نہیں تھا، بلکہ سوال بین السطور کی فکریات سے تصادم کا تھا۔در اصل حفیظ نعمانی کی صحافت میں فراست تھی۔جو مسلسل غور و فکر، ارتکاز عمل اور سیاسی رہنماؤں کی تحلیل ِ نفسی سے آئی تھی۔اسی لیے انہوں نے کسی فرد ِ خاص کی مخالفت نہیں کی۔ ان کو تیر سے ذرا بھی شکوہ نہ ہوتا، جو بھی سروکار ہوتا، تیر انداز سے ہوتا۔وہ احتساب بھی اسی کا کرتے تھے اور مطالبہ بھی اسی سے کرتے تھے۔
آج کے ہندوستان میں جوسیاسی منظر نامہ تشکیل پارہا ہے،اس میں حفیظ نعمانی ہونے کی معنویت بہت زیادہ ہے۔وہ آج ہمارے درمیان نہیں ہیں،اس میں بھی اللہ کی کوئی مصلحت ہے،ورنہ جیسا ان کا قلم تھا،جیسا ان کا مزاج تھااور جس طرح کے مسائل ملت اور معاشرہ کے سامنے آرہے ہیں،ان پر بھی ان کا قلم اسی بے باکی سے اُٹھتا جس کے لازمی نتیجہ کے طور پر بہت سے شخصی اور ذاتی مسائل کھڑے ہو جاتے۔یہ بات دیگر ہے کہ حفیظ نعمانی کو اس کی ذرا بھی فکر نہ ہوتی۔لیکن آج کا سچ یہ ہے کہ ملت اور معاشرہ کوحفیظ نعمانی اور حفیظ نعمانی جیسوں کی ضرورت کل گزشتہ سے زیادہ ہے،ایسے صحافی جو اپنی سیاسی بصیرت سے ملت اور معاشرہ کو سچ اور حق بتا سکیں اور بہت دور تک ان کے ساتھ چل سکیں۔
آج نہ بھائی جمیل مہدی حیات ہیں، نہ محفوظ بھائی اور نہ ہی محترم حفیظ نعمانی۔بھائی جمیل مہدی کی یاد میں گاہے گاہے دیو بند اور لکھنؤ میں سمینار ہوجاتے ہیں،محفوظ بھائی کی یاد میں دہلی میں ہرسال توسیعی خطبہ کا اہتمام ڈاکٹر سید احمد خاں اور ان کی تنظیم بڑے پیمانہ پر کرتی ہے۔محترم حفیظ نعمانی کی یہ پہلی برسی ہے۔ لکھنؤ میں ان سے محبت کرنے والوں کی بڑی تعداد ہے۔لیکن کووڈ19کی وجہ سے شاید وسیع پیمانے پر سمینار کا اہتمام نہ ہوسکے،لیکن ان کی خدمات کے اعتراف کا ماحول تو ضرور رہے گا۔ہمیں اُمید ہے کہ ان کے چہیتے بھانجے محمد اویس سنبھلی کے ذہن میں کوئی بڑا منصوبہ ضرور ہوگا۔