حفیظ میرٹھی کا شعری مخاطبہ-حقانی القاسمی

کلام حفیظ کی قرأت اور ان کے تخلیقی متن کی تفہیم و تعبیر کے طریق ِ کار نے ان کے شعری کینوس کو ایک خاص حلقہ اور مخصوص طبقے میں ْ محدود اور محصور کر دیا ہے۔ جب کہ حفیظ میرٹھی کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے اور کسی بھی قسم کی نظریاتی مشروطیت سے آزاد ہے۔ان کی شاعری نظریے سے زیادہ نظر کی شاعری ہے ۔ایک باشعور اور حساس تخلیق کار کی حیثیت سے ان کی نظر زمانہ اور زمینی مسائل پر ہے اور انھوں نے اسی ماحول اور معاشرت کی تصویر کشی کی ہے جس سے ان کی آنکھوں کا گہرا رشتہ رہاہے۔ ان کی شاعری کسی خاص آئیڈیا لوجی یا نظریاتی التزام سے انکار کرتی ہے ان کے کلام کا پیشتر حصہ فن کی خود مختاری اور جمالیاتی معیار پر قائم ہے۔ انھوں نے اپنے نظریات کے لیے بھی نہایت کشادہ اور وسیع ترین زمین کا انتخاب کیا اور اس میں بھی تخلیق کے جوہری عنصر کو مجروح ہونے سے بچائے رکھا۔ ان کی وابستگی اگر ہے تو صرف اور صرف فلسفۂ انسانیت سے ، وہی انسانیت جو ادب کا منشور اور مدعا ہے۔
حفیظ میرٹھی کا اصل شعری مخاطبہ آفاقی اور انسانی ہے۔ انسانی وجود سے جڑے ہوئے مسائل اور موضوعات ہی ان کی شاعری کا حصہ بنے ہیں۔ انھوں نے انسانی انتشار، اضطراب، دکھ، درد، محرومی، بے بسی، بے چارگی ،درد و کرب اور بحران پر ہی اپنی تخلیق کو مرکوز رکھا ہے۔ کسی مخصوص نظریاتی عینک سے انسانی مسائل اور متعلقات کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ انھوں نے انسانی مسائل کے باب میں اسلامی اقدار و افکار کو مرکزیت عطا کی ہے جو کہ انسانیت کے مشترکہ اقدار و افکار کے قطعی منافی نہیں ہے۔ مگر ان کی شاعری پر لکھے گئے تنقیدی مضامین کی قرأت سے جہاں کئی طرح کے کنفیوژن جنم لیتے ہیں وہیں کئی سوالات بھی سامنے آتے ہیں:
(الف) کیا حفیظ میرٹھی کی شاعری کسی خاص تحریک کے تسلط یا تبلیغ کی شاعری ہے ؟
(ب) کیا ان کا تخلیقی شعار کسی ذہنی حصار میں قید ہے ؟
(ت) کیا یہ ’مقدمہ شعر و شاعری‘ سے ماخوذ شعری تصورات کی محض ترسیل ہے؟
(ج) کیا آنے والے عہد میں اس نوع کی شاعری ذہنوں میں زندہ رہے گی ؟
(د) کیا اس شاعری میں ابدیت اور آفاقیت کے عناصر موجود ہیں؟
اس نوع کے کئی اور سوالات بھی قائم کیے جا سکتے ہیںکیوں کہ کلامِ حفیظ کی تفہیم و تشریح کرنے والوں نے حفیظ میرٹھی کے سرمایہ سخن کو ایک خاص تحریکی تصورات و نظریات کی روشنی میں دیکھا اور پرکھا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حفیظ میرٹھی کی شاعری ایک خاص حلقے سے منسوب ہوکر رہ گئی اور ایک خاص طبقے کے ترجمان شاعر کے طور پر ان کی شناخت مستحکم ہوتی گئی۔ جب کہ ان کی تخلیق اس شناخت کی مکمل نفی کرتی ہے۔
(1)
حفیظ میرٹھی کی شاعری کسی خاص نظریے کی تبلیغ نہیں کرتی۔ ان کی شاعری کسی خاص نظریاتی ساخت سے رشتے کی تردیدو تنسیخ کرتی ہے۔انھوں نے اجتماعی انسانی احساسات اور تصورات کو ہی اپنی تخلیق کا پیکر عطا کیا ہے۔ ان کا بنیادی فکری سروکار انسانیت ،آزادی، اتحاد ، اخوت، مساوات ،مواسات اور حقوق انسانی سے ہے ۔ ان کے یہاں اقتداری ڈسکورس کی ترقی پسندوں جیسی مزاحمت ملتی ہے ۔ ترقی پسندوں کے منشور اور ادبی نصب العین سے ان کی بیشتر شاعری ہم آہنگ نظر آتی ہے ۔وہی رموز و علائم و لفظیات جو ترقی پسندوں کے ہیں وہی دار و رسن،زنجیر و سلاسل، شمشیر و سناں،کج کلاہی ،آشفتہ سری وغیرہ جو ترقی پسندوں کے ڈکشن کا حصہ ہیں۔ تیور وہی باغیانہ ، انداز وہی مبارزانہ وہی رجزیہ آہنگ۔:
نہ لے چل خانقاہوں کی طرف شیخ ِ حرم مجھ کو
مجاہد کا تو مستقبل ہے میدانوں سے وابستہ

ہمارا جذبہ تعمیر دیکھ لے دنیا
سجا رہے ہیں قفس کو بھی آشیاں کی طرح

گھروں سے تا درِ زنداں وہاں سے مقتل تک
ہر امتحاں سے ترے جاں نثار گزرے ہیں
اس کو ہی زنجیر کہے ہیں شاید یہ دیوانے لوگ
زنداں کے دروازے پر یہ زلف سی جو لہرائے ہے

ہم نے لکھا ہے اپنے شہیدوں کے خون سے
مقتل کی داستان کا عنوان زندگی

یا تو ہوںگے زنداں میں یا ملیں گے مقتل میں
بزدلوں کی محفل میں ہم نظر نہ آئیں گے
کیا یہ وہ آہنگ نہیں ہے جو حبیب جالب ،مخدوم محی الدین،مجروح سلطان پوری، فیض احمد فیض، اسرار الحق مجاز اور علی سردار جعفری وغیرہ کا رہا ہے ؟ کیا یہ شاعری ترقی پسندوں کے تصورِ انقلاب و حریت کی تفسیر و تعبیر نہیں ہے۔ حفیظ کا نام حذف کر دیا جائے تو یہ کسی ترقی پسند شاعر کا کلام ہی معلوم ہوگا ۔حفیظ کے یہاں بھی ترقی پسندوں جیسے احتجاج اور انقلاب کی شعریات ہے اور وہی احتجاجی ،مزاحمتی اور مقاومتی طور و طرز ہے جو ترقی پسندوں کا شناس نامہ ہے اور اہم ب بات یہ ہے کہ حفیظ میرٹھی کے یہاں انسانی وقاراور احترامِ آدمیت کا وہی تصور ہے جو ترقی پسند تحریک سے وابستہ فن کاروں کے یہاں ملتا ہے۔ اس زاویہ سے دیکھا جائے تو حفیظ میرٹھی کو اسی زمرے میں رکھا جانا چاہیے جس میں بڑے بڑے ترقی پسندوں کے نام آتے ہیں۔
حفیظ میرٹھی اپنے موضوعات اور اسلوب کے اعتبار سے ایک Dissident voice کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ان کی شاعری anti hegemonic resistanceکی عمدہ مثال ہے۔اقتداری جبر و استحصال کی ساری علامتوں کے خلاف انہوں نے احتجاج کیا ہے۔اطاعت اور تابعداری ان کی سرشت میں ہے ہی نہیں اسی لیے ان کے یہاں Political Allegiance کے خلاف موثر آواز سنائی دیتی ہے۔
ایک سچا فن کار کسی بھی در پہ جبینِ نیاز خم نہیں کرتا بلکہ اس کے اندر ظلم و جبر کی تلواروں سے لڑنے کی پور قوت ہوتی ہے۔ اس طرح کا شعر ایک صداقت شعار شاعر ہی کہہ سکتا ہے۔:
ہر ظالم سے ٹکر لی ہے سچے فنکاروں نے حفیظ
ہم وہ نہیں جو ڈر کر کہہ دیں ہم ہیں تابعداروں میں
یہ حرمت قلم کا ہی پاس ہے کہ فن کار کبھی نہ درباروں سے وابستہ ہونا پسند کرتا ہے اور نہ ہی دربانوں سے:
درباری ماحول میں جینا مشکل ہے ہم لوگوں کا
یا تو دم گھٹ جاتا ہے یا تلخ نوائی ہوتی ہے
سچے فن کاروں کی اندھیرے سے عداوت اور روشنی سے رفاقت ہوتی ہے اسی لیے حفیظ کہتے ہیں:
ہار مانی نہیں میںنے اندھیروں سے کبھی
آج تک برسرپیکار ہوں ظلمات کے ساتھ
سچے فن کاروں کے دل میں سرفروشی کی تمنا ہوتی ہے اسے سر کٹانا منظور ہے مگر سر جھکانا قبول نہیں:
ظالم ہماری آن سے واقف نہیں ہے تو
جھکنا نہیں قبول کیا سر کٹا لیے
ہم کبھی سرنگوں نہیں ہوں گے
جی ہمیں سر کٹانا آتا ہے
(2)
حفیظ میرٹھی کے شخصی کردارو گفتار میں کسی خاص نظریے کی طرف میلان یا رجحان کو ان کے شعری اور تخلیقی کردار کا شناخت نامہ نہیں بنایا جاسکتا۔ حفیظ میرٹھی کی شاعری کسی مسلک کا منشور نہیں بلکہ انسانیت کا نصاب ہے ۔ انھوں نے جن موضوعات اور مسائل کا اپنے شعری بیانیے میں احاطہ کیا ہے وہ مشترکہ انسانی مسائل و موضوعات ہیں ۔ اس لیے موضوعات اور مسائل کی سطح پر نظریاتی التزام سے انحراف کی ایک واضح صورت کلامِ حفیظ میں نظر آتی ہے۔
حفیظ میرٹھی کا شعری شعار کسی ذہنی حصار میں قید نہیں ہے۔ کسی مخصوص حلقے کے نظریے کی نہ تو وکالت ہے اور نہ ہی بے جا حمایت یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں انقلابی رنگ و آہنگ ، فکری صلابت اور صالحیت کے ساتھ ساتھ عقیدتوں میں محصور معاشرے کی حرکیات و نفسیات اور رسمیات پر طنز ملتا ہے۔ مادی اور روحانی دونوں طرح کی صارفیت کے خلاف ان کے یہاں شدید رد عمل اور احتجاج ہے۔ معاشرتی اسپیس پر واعظ و زاہدا ور شیخ و محتسب کے بے جاتسلط اور تغلب پر طنز کے تیر چلاتے ہیں اور ان کے سستی کردار و مستی گفتار کو اس طرح بے نقاب لرتے ہیں:
شیخ قاتل کو مسیحا کہہ گئے
محترم کی بات کو جھٹلائیں کیا

حورِ جنت کی تمنا نہیں کرتا اب شیخ
جب سے دیکھا ہے آغوشِ حکومت کیا ہے

ایسا بھی انقلاب کیا شیخ یہ تمہیں کیا ہوا
رخ تو ہے سوئے بت کدہ ،پشت ہے جانبِ حرم

اے شیخ ِ حرم اب کوئی پیغامِ عمل دے
یہ لاکھ دعاوں کی دعا میرے لیے ہے

اب خدا حافظ متاع دین و دانش کا حفیظ
واعظ کج فہم بھی تقریر فرمانے لگے

آنہ جائے ’’کوئی دھبہ ترے دامن پہ کہیں
شیخ خوش پوش گنہگاروں پر کیچڑ نہ اچھال
یہاں بھی حفیظ میرٹھی کاوہی احتسابی رویہ ہے جو ماضی میں واعظ و شیخ زاہد و محتسب کے باب میں ترقی پسندوں کا رہا ہے کہ ان کی نظر میں واعظ و زاہد وغیرہ کی شناخت منفی ،مہمل اور مضمحل کردار کی حیثیت سے ہے۔کلاسکی شاعری میں بھی یہ لوگ اپنے تضادِ قول و عمل کی وجہ سے طنز و تعریض کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔
(3)
حفیظ میرٹھی کی شاعری خواجہ الطاف حسین حالی کے’ مقدمہ شعر و شاعری‘ کے شعری تصورات کی محض ترسیل نہیں ہے بلکہ انھوں نے ان تین نکات سے آگے کا سفر طے کیا ہے جن کی طرف حالی نے اشارہ کیا ہے۔ حفیظ کے یہاں تخیل بھی ہے، مطالعہ کائنات بھی اور تفحص الفاظ بھی۔ حالی کے یہاں شاعری کی یہ تین بنیادیں ہیںاس تثلیث کے تناظر میں بھی کلامِ حفیظ کا مطالعہ کیا جائے تو بہت سی نئی طرفیں سامنے آئیں گی۔ حفیظ میرٹھی کے جذبہ و تخیل میں طغیانی بھی ہے اور جولانی بھی اور وہ بلندی بھی ہے جو فن کو عظمت عطا کرتی ہے:
زباں بندی سے کب جذبات کا سیلاب رکتا ہے
حدود بحر کی پابند طغیانی نہیں ہوتی
مطالعۂ کائنات کے باب میں دیکھا جائے تو حفیظ میرٹھی نے کائناتی حقائق کا گہرا مطالعہ کیا ہے اور حیات و کائنات کی بہت سی حقیقتوں کو شعری پیکر میں ڈھالاہے ۔مشاہدات اور تجربات نے ان کے تخیل ،احساس اور اظہار کی کائنات کو وسعت عطا کی ہے۔ تفحصِ الفاظ کی بات کی جائے تو حفیظ میرٹھی نے نئے الفاظ اور تراکیب کی جستجو بھی کی ہے اورلفظوں کا موزوں اور بر محل استعمال کیا ہے۔ سوقیانہ اور مبتذل الفاظ سے گریز کا پہلو ہر جگہ نظر آتا ہے ۔نہایت شستہ اور شائستہ لہجے میںاور نہایت سلیقے سے اپنے جذبات اور احساسات کی ترسیل کرتے ہیں۔ زورِ بیان کے ساتھ لطفِ بیان بھی ہے ،کلام حفیظ میں تکرارِ لفظی سے کہیں کہیں حسن دو بالا ہو گیا ہے:
زہے طلب جستجو کی راہیںقدم قدم پر بدل رہے ہیں
سنبھل رہے ہیں بہک رہے ہیں ،بہک رہے ہیں سنبھل رہے ہیں
کہیں کہیں صوتی تجنیس نے بھی غضب کی نغمگی اور موسیقیت پیدا کر دی ہے۔
فرازِ ناز نشیبِ نیاز، سطحِ گداز
تباہیوں نے پکارا کہاں کہاں سے مجھے
لطفِ زبان کا ایک اور نمونہ دیکھیے:
اے گھٹا کہیو سلامِ شوق خاص و عام سے
مے کشوں سے ،مے سے ،ساقی سے،سبو سے ،جام سے
حفیظ میرٹھی کے الفاظ میں کہیں بھی عریانی نہیں بلکہ رعنائی و زیبائی ہے۔ خیال کی حدت لفظوں کی جدت اور بعض تراکیب کی ندرت نے ان کے کلام کو جادو اثر بناد یا ہے۔
(4)
حفیظ میرٹھی کی شاعری میں اتنے حرکی امیجیز اورعناصر ہیں اور اس قدر تنوع ہے کہ ان کی شاعری ذہنوں میں زندہ رہنے کی قوت رکھتی ہے ۔دنیا میںکئی ارب تخلیقی سرمایہ موجود ہے مگر بیشتر سرمایہ شور کا حصہ بن چکا ہے یا وقت کی تناسخی گردشوں نے اسے خس و خاشاک کر دیا ہے۔ کلام کاکچھ ہی حصہ ایسا ہے جو ہمارے شعور او رشعار کا حصہ بن سکا ہے۔ حفیظ میرٹھی کے یہاں بھی کچھ اشعار ایسے ہیں جن پر خزاں کا کوئی اثر نہیں پڑا اور وہ ہمارے شعور کا حصہ بن چکے ہیں۔۔ ان کی شاعری کے خلیے مردہ نہیں متحرک ہیں اور اسی تحرک نے ان کی تخلیق کو نئی حیات و حرارت عطا کی ہے۔ ذرا یہ اشعار دیکھیے جو عالم کے اطراف و اکناف میں کسی نہ کسی لمحے گونجتے رہتے ہیں:
شیشہ ٹوٹے غل مچ جائے
دل ٹوٹے آواز نہ آئے

ابھی سے ہوش اڑے مصلحت پرستوں کے
ابھی میں بزم میں آیا ابھی میں کہاں بولا

میدانِ کار زار میں آئے وہ قوم کیا
جس کا جوان آئینہ خانے میں رہ گیا

روشنی کب تھی اتنی مرے شہر میں
جل رہے ہیں مکاں مشعلوں کی طرح

داد دیجیے کہ ہم جی رہے ہیں وہاں
ہیں محافظ جہاں قاتلوں کی طرح

تو جوہر ہے تو زیبا نہیں تجھے گریز
مجھے پرکھ مری شہرت کا انتظار نہ کر

یہ ہنر بھی بڑا ضروری ہے
کتنا جھک کر کسے سلام کرو

بس یہی دوڑ ہے اس دور کے انسانوں کی
تری دیوار سے اونچی میری دیوار بنے

معیار ِ زندگی کو اٹھانے کے شوق نے
کردار پستیوں سے بھی نیچے گرا دیا

کیسی ہی مصیبت ہو بڑے شوق سے آئے
کم ظرف کے احسان سے اللہ بچائے
(5)
حفیظ میرٹھی کے کلام میں آفاقی اقدارِ حیات کی ترجمانی ملتی ہے۔اور یہی قدریں تخلیق کو ابدیت اور دوامیت عطا کرتی ہیں۔
آفاقی انسانی اقدار اور اخلاقیات پر ہی ان کی شاعری کا ارتکاز ہے۔ امن، آزادی، سماجی ترقی، مساوی حقوق، انسانی وقار، اتحاد، ہم آہنگی، عزت و تکریم، ایمانداری، وفاداری، صداقت ،اعتبار و اعتماد،کشادہ دلی یہی آفاقی انسانی قدریں ہیں اور ہر جینوئن اور عظیم فنکار کی تخلیق میں انہی اقدار، تصورات اور عقائد کا عکس ملتا ہے۔ حفیظ میرٹھی نے بھی انہی اقدار و تصورات کو اپنی شاعری کا محور بنایا ہے۔ ان کا بنیادی مقصد تعمیر جہاں اور انسان سازی ہے اسی لیے وہ تمام ان منفی تصورات کو مسترد کرتے ہیں جو بشریت مخالف ہیں اور انسانی فلاح و بہبود کی راہ میں رکاوٹ ہیں ۔ان ہی کا شعر ہے:
مشکل تو ہے یہ کام مگر کام یہی ہے
اس دور کے انسان کو انسان بنائیں
حفیظ میرٹھی کو انسانی مسائل اور مشکلات کا ادراک ہے۔ انھیں پتا ہے کہ آج کا انسان شدید بحران کا شکار ہے اور اس کے سامنے مسائل کا انبوہ ہے ۔
بشر کو ایسے مسائل ہیں آج کل درپیش
جو شب کو سوچنے بیٹھا تو صبح کر دے گا
ہر طرف انسانیت کی توہین اور حقوق انسانی کی پامالی کا بھیانک منظر نظر آتا ہے۔ سماج ہو یا سیاست،ثقافت ہو یا معیشت ہر سطح پر آج کے عہد کا انسان استحصال کا شکار ہے۔
ان مسائل کی وجہ صرف یہ ہے کہ آج طاقت کا زور ہے اور طاقت ہی انسانی تقدیر وں کا فیصلہ کرتی ہے یہی خیر و شر اور گناہ و ثواب کا تعین کرتی ہے ۔ حفیظ میرٹھی نے اپنی شاعری میں ان ہی مسائل کی عکاسی کی ہے جو عام انسانی زندگی کے شب و روز کا حصہ ہیں ۔ انھیں انسانوں کا دکھ درد ستاتا ہے اور وہ زوالِ انسانیت اور انحطاطِ آدمیت کا نوحہ لکھنے لگتے ہیں۔ ان ہی کا ایک چبھتا ہوا شعر ہے
کیا برا وقت ہے مفلسوں کے لیے
خون بیچا گیا روٹیوں کے لیے
حفیظ میرٹھی کے یہ اشعار دیکھئے جن میں انسانی استحصال اور توہین ِ آدمیت کے خلاف ایک موثر آواز سنائی دے گی :
ہم بھی تو انسان ہیں آخر ہم سے یہ نفرت کیسی
سب سے لپٹ کر ملنے والو ہم سے کیوں کتراتے ہو
نفرت کی یہ دیوار یہاں کس نے اٹھا دی
برباد میرے گھر کو یہ دیوار کرے گی
انھیں یہ بھی احساس ہے کہ آج کے عہد کے انسان کا ضمیر مر چکا ہے اور اسی بے ضمیری کی وجہ سے ہمارا انسانی معاشرہ مضمحل اور پژمردہ ہوتا جا رہا ہے یہاں روشنی بچانے والے نہیں بلکہ بجھا نے والے زیادہ ہیں اسی لیے ہر طرف ظلمتوں کا دور دورہ ہے اورتاریکی ہے کہ پھیلتی اور بڑھتی جا رہی ہے ۔
دعا کرو کہ نہ مر جائے آدمی کا ضمیر
بجھا نے والے بہت اور روشنی تنہا
آج انسان کی عزتِ نفس اور خودداری تک محفوظ نہیںایسے میں حفیظ میرٹھی خوداری کی یاد دلا کر انسانوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ عزتِ نفس بہت محترم ہے اور انسان کوکسی بھی سطح پر اپنی خودداری کا سودا نہیں کرنا چاہیے:
چھوڑ کر دامان خودداری حفیظ
اپنی نظروں سے بھی ہم گر جائیں کیا

ہم کو تو اٹھا لائی اس بزم سے خودداری
جب ان کی توجہ میں تاخیر نظر آئی

مجھے نگاہ ترحم سے دیکھنے والے
میری خودی کو تو یہ بھیک بھی پسند نہیں

جام ساقی نے جب بے رخی سے دیا
میکدے سے نکل آئے ہم بے پئے

( 6)
حفیظ میرٹھی نے جہاں رعنائی افکار پر پوری توجہ دی ہے وہیں زیبائی الفاظ پر بھی ان کا ارتکاز رہا ہے ۔ انھوں نے اپنی شاعری میں ایسی لفظیات کا انتخاب کیا ہے جو ان کے ذہن ، ذوق اور مزاج سے نہ صرف مناسبت رکھتی ہے بلکہ ان کے داخلی آہنگ سے بھی ان لفظوں کا گہرا رشتہ ہے۔یہ لفظ محض ان کے فکر و جذبے کی ترسیل نہیں کرتے بلکہ ان کے باطنی تموج اور اضطراب کا بھی اظہار کرتے ہیں۔ شاید انھوں نے اپنی شاعری کے لیے بیشتر ان ہی الفاظ کا انتخاب کیا ہے جن میں سرکشی ہے ،بغاوت ہے، تمرد ہے، طغیان ہے۔ ان کے لفظوں کی آتما زنجیرِ جنوں اور شور سلاسل میں جکڑی ہوئی ہے اس لیے حفیظ میرٹھی کا ہر لفظ حالت سکوت میں بھی بولتا سا محسوس ہوتا ہے ۔ان کے رومانی لفظوں میں بھی انقلاب اور احتجاج کی آہٹیں چھُپی ہوتی ہیں۔ان کا لفظ درِ دل پر صرف دستک نہیں دیتا بلکہ انسانی ذہن ، ضمیر اور ذات کو بھی مرتعش کر دیتا ہے۔
حفیظ میرٹھی کے یہاں لفظیات کی سطح پر خوش ترکیبی نظر آتی ہے ۔ اضافی ترکیبوں کا اتنا خوب صورت استعمال کوئی کہنہ مشق ،قادر الکلام اور کلاسکی لفظیات کا رمز شناس ہی کر سکتا ہے۔ دشتِ جنوں، زندان خرد، گداز، غمِ محبت، آدابِ سوزِ الفت، رشک مہ و آفتاب، مظہرِ صد اضطراب، تاریکِ چنگ و رباب، اندیشہ ٔ شام و سحر، تاریکی ٔ قلب و نظر، رخصتِ سوز جگر، چراغِ تہہ داماں، متاع آخرِ شب، قبلہ حاجات، زلفِ مفادات، شامِ الم، شیخِ حرم اور اس طرح کی بہت سی خوب صورت ترکیبیں ان کی شاعری میں نظر آتی ہیں جو ان کی لسانی تنظیم و ترتیب کی بھی گواہی دیتی ہیں۔
حفیظ میرٹھی غزل کے ایک عمدہ شاعر ہیںاور یہ عمدگی افکار و االفاظ دونوں سطحوں پر ہے:
دھڑکتے دل کی قسم آپ کے نہ آنے سے
تمام رات ستاروں کا اضطراب رہا

حیات پوچھ رہی تھی سکون کا مفہوم
تڑپ کے دل نے تیرے درد کی قسم کھائی
حفیظ میرٹھی کے طنز میں بھی ایک سلیقہ اور شائستگی ہے :
آج کچھ ایسا طے پایا ہے حق کے اجارہ داروں میں
ہم پر جو ایمان نہ لائیں چنوادو دیواروں میں

عجیب لوگ ہیں کیا خوب منصفی کی ہے
ہمارے قتل کو کہتے ہیں خود کشی کی ہے

وہ زندگی کی ضمانت تو دے رہا ہے مگر
مری شناخت کو قسطوں میں قتل کر دے گا

آستینوں میں چھپائے ہوئے خنجر تھے یہی
دشمنوں میں نہیں مری گردن یاروں میں کٹی

بے سہاروں کا انتظام کرو
یعنی اک اور قتل عام کرو

سب مجھ پہ مہر جرم لگاتے چلے گئے
میں سب کو اپنے زخم دکھانے میں رہ گیا

ہر سمت ظلمتوں کے پرستار ہیں یہاں
شمعیں کدھر جلائیں کدھر روشنی کریں
(7)
حاشیائی افراد کے حقوق کے لیے لڑنے والے اس شاعر کو نقادان فن اور کچھ حاشیہ برداروں نے حاشیے پر ڈال دیا مگر حفیظ کی شاعری میں تہذیب و معاشرت اور سماج و سیا ست کے مرکزی حوالے ہیں اسی لیے وہ آج بھی قلب و نظر کے مرکز میں ہیں اور اس مرکزیت کو کسی مشاطہ کی ضرورت نہیں ۔منفرد طرز احساس اور مختلف اسلوب اظہار کی وجہ سے شعری منظر نامے پر ان کی موجودگی کا اندراج سنہرے لفظوں میں ہو چکا ہے۔ شعر و شعور اور متاع آخرِ شب جیسے بیش قیمت شعری مجموعوں کے خالق حفیظ الرحمن حفیظ کرت پوری (10جنوری ،1922۔ 7جنوری 2000,)سر زمین میرٹھ کا گوہر نایاب ہی نہیں بلکہ زمینِ شعر اور آسمانِ سخن کا ایک ایسا آفتاب ہے جس کی چمک کبھی ماند نہیں پڑے گی۔ ستم کی سیاہ راتوں میں حفیظ میرٹھی کی مثبت تعمیری ،تحریکی ،احتجاجی ،انقلابی شاعری اور زیادہ قوت اور شدت کے ساتھ چمکے گی اور ظلمت و وحشت کا سینہ چیر کر انسانی کائنات کو نئی حیات و حرارت عطا کرے گی۔