20 C
نئی دہلی
Image default
نقدوتبصرہ

حفیظ جون پوری اربابِ ادب کی نظر میں – ایک مطالعہ

حکیم وسیم احمد اعظمی

 

سراج الملک محمد علی حفیظ ؔجون پوری(ولادت: 1865ء — وفات: 1918 ء) اپنے دور کے بڑے باکمال شاعراور اچھے نثر نگار تھے۔ان کی شعری کائنات پرجن دانشوروں نے اظہار خیال کیا ہے،ان کی تحریروں کو علم دوست محمد عرفان جون پوری نے ’حفیظؔ جون پوری ارباب ِ ادب کی نظر میں‘ (2019ء)میں بڑے سلیقے سے جمع کردیا ہے۔انہوں نے حفیظؔ جون پوری کی ادبی توقیت کے لیے جن اہل قلم کی تحریریں کلی یا جزوی طور پر اس کتاب میں شامل کی ہیں، ان میں مولانا حسرت مو ہانی(وفات:1951ء)، مولانا عبد السلام ندوی(وفات:1956ء)، رگھو پتی سہائے فراق گورکھپوری (وفات: 1982ء) [،مجنوں گورکھپوری(وفات: 1988ء)،اکبر علی خاں عرشی زادہ (وفات: 1997ء)، پروفیسر محمود الٰہی(وفات: 2014ء)،محبوب الرحمن فاروقی (وفات: 2015ء)،شمس الرحمن فاروقی(ولادت:1935ء)،خیر قاضی بھیڑوی در بھنگوی(1913ء )،پروفیسر فضل امام(ولادت: 1940ء)،تابش مہدی (ولادت:1951ء)، سیداقبال احمد جون پوری(وفات:2007ء)،مولانارئیس صدیقی نظام جون پوری(وفات:1910ء)،ایس ایم عباس(وفات:2019ء)،ڈاکٹر ایم نسیم اعظمی(وفات: 2019ء)،عبرت مچھلی شہری(و لادت:1951ء)،کاملؔ جون پوری(حیات:1941ء)،طفیل انصاری(ولادت: 1942ء)اورمولوی ابو ذر جون پوری (ولادت:1956ء)کے نام شامل ہیں،ان کے علاوہ خود حفیظؔ جون پوری کی دو تحریریں بھی ہیں۔ پہلی وہ جو اُن کے پہلے دیوان موسومہ ’دیوان حفیظ‘ اسم تاریخی ’غمگسار‘کی آصفی پریس لکھنؤ کی اشاعت 1896ء میں شامل رہی ہے اور دوسری تحریر سفر نامہ ’مآل‘ ہے،جو مولانا حبیب الرحمن عثمانی کے زیر اہتمام مطبع قاسمی دیو بند سے1331ھ میں مطبع ہوئی ہے۔بعد کے ادوار میں یہی دونوں تحریریں حفیظؔ جون پوری کی شخصی جہات کی توقیت و تفہیم میں بنیادی ماخذ قرار پائیں اور سچ تو یہ ہے کہ حفیظ ؔجون پوری کے بیشتر تذکرہ نگاروں کا مبلغ ِاطلاع یہی دونوں تحریریں ہیں اور بعد کے لکھنے والوں نے انہی تحریروں کو آگے بڑھایا ہے۔

محمد عرفان جون پوری کی کتاب’حفیظؔ جون پوری ارباب ِ ادب کی نظر میں‘ پڑھنے سے پہلے ہم نے حفیظ ؔجون پوری کو براہِ راست پڑھنے کا ارادہ کیا،مقصد صرف یہ تھا کہ ہم دوسروں کی آنکھوں سے حفیظؔ کو نہ دیکھیں اور دوسروں کی آرا کے تناظر میں ان کی توقیت نہ کریں؛کیوں کہ اس میں شب خوں مارنے کا اندیشہ رہتا ہے اور یہ دیانت کے خلاف بھی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ حفیظ ؔجون پوری کے دونوں شعری دیوان تک میری رسائی ہوگئی۔ دیوانِ اوّل موسومہ ’دیوان حفیظ‘ اسم تاریخی ’غمگسار‘کی پہلی اشاعت،جومنشی نوبت رائے نظر ؔکے زیر اہتمام آصفی پریس لکھنؤ سے عمل میں آئی تھی،وہ حاصل نہیں ہوسکی،بلکہ اس کی دوسری اشاعت جو حکیم برہم گورکھپوری کے زیر اہتمام مطبع حکیم برہم گورکھپورسے طبع ہوئی تھی وہ دستیاب ہوئی۔اس کے سرنامے پر یہ شعر رقم ہے:

حفیظؔ اپنے اشعار ہیں معرفت میں

مری شاعری ہے عبادت میں داخل

اس برہمی اشاعت میں حفیظؔ جون پوری کی طرف سے ایک اعلان ہے،جس کی عبارت درج ذیل ہے:

”اعلان! اس دیوان کی رجسٹری حسب منشا ایکٹ 25،1887ء عمل میں آئی ہے۔کوئی صاحب بلا اجازت مصنف قصد چھاپنے یا چھپوانے کا نہ فرمائیں۔العبد حفیظ،جون پور“۔

”پرنٹر حکیم برہم، پبلشر جناب حفیظ، بلوا گھاٹ،جون پور“۔

زیر نظرکتاب میں سن طباعت درج نہیں ہے،تاہم دستیاب حوالہ اسے 1903ء کی اشاعت بتاتا ہے۔دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ’غمگسار‘ اس کا تاریخی نام ہے،جس سے1321ھ ]مطابق 1903ء[ برآمد ہوتا ہے؛لیکن صورت حال یہ ہے کہ اس میں 1908ء کے قحط کا ساقی نامہ،1909 ء کافیضان ِ باراں اور 1910ء کا ساقی نامہ بھی شامل ہے۔ممکن ہے کہ یہ اضافات طبع دوم میں جگہ پائے ہوں،طبع ِ اول اس سے خالی ہو۔

واضح رہے کہ عرفان جون پوری نے اپنی اس کتاب میں کسی وجہ سے’دیوان اوّل‘ کا نام نہیں لکھا ہے اورصرف ’دیوان اوّل‘ لکھنے پر اکتفا کیا ہے۔زیر نظر دیوان ِ اوّل ’غمگسار‘ میں کوئی تعارفی تحریر شامل نہیں ہے؛لیکن خیر قاضی بھیڑوی دربھنگوی کی تحریرمرقومہ12/اگست1913ء سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں ’عر ض ِمصنف‘ بھی تھا،جس میں حفیظؔ جون پوری

نے اپنے سوانحی احوال کے ساتھ ہی شعر و سخن کے بارے میں اپنے خیالات بھی تحریر کیے تھے۔مجھے خوشی ہوئی کہ عرفان جون پوری کی رسائی اس دیوان اوّل کے طبع ِاوّل تک تھی اور انہوں نے اپنی اِس کتاب میں اس ’عرض ِ مصنف‘ کو نقل بھی کیا ہے۔

حفیظؔ جون پوری کے دوسرے دیوان کے سرنامے پر یہ شعررقم ہے:

حفیظؔ اوّل جگہ اپنی ہے ارباب ِ محبت میں

کتاب ِ عشق کا دیباچہ ہے یہ داستاں میری

اورسرورق پر تحریر ہے:

”دیوان دوم حفیظ جون پوری’موسومہئ دیوان ِ حفیظ باسم تاریخی’خمخانہئ دل“۔

یہ دیوان حکیم برہم کے زیر اہتمام مطبع حکیم برہم،گورکھ پور سے غیر مؤرخ طبع ہوا ہے۔’خمخانہ ئ دل‘ اس کا تاریخی نام ہے،جس سے1330ھ ] مطابق1912ء[برآمد ہوتا ہے۔ اس میں بھی حفیظ کے7/ فروری 1914ء کا کلام شامل ہے،جو اس تاریخی نام کے دعوے پر خطِ تنسیخ کھینچتا ہے۔واضح رہے کہ اس میں اشاعت ِ اول یا اشاعت ِ دوم کی صراحت نہیں ہے۔اس دیوان ِ دوم پرخیر قاضی بھیڑوی دربھنگوی کی 12/اگست1913ء کی ایک تعارفی تحریر ہے،جو وکٹوریہ ٹیرس،مظفر پور،بہار میں لکھی گئی ہے۔خیر قاضی بھیڑوی دربھنگوی،الپنچ بانکی پور، پٹنہ کی حفیظ ؔجون پوری سے رسم و راہ تھی۔یہ تحریر بھی’حفیظ فہمی‘میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

حفیظؔ جون پوری نے اپنے اس ’دیوان دوم موسومہئ دیوان ِ حفیظ باسم تاریخی’خمخانہئ دل‘کو نواب میر سید حامد علی خاں ]عہد:25/فروری 1889ء تا20/ جون 1930ء[ریاست رام پور کے نام اس بیانیہ کے ساتھ معنون کیا ہے:

’نذر‘

گر قبول افتد زہے عزو شرف

بنام نامی بندگان عالی حضور پُر نور فرزند دلپذیر دولت انگلیشیہ عالی جاہ مخلص الدولہ ناصر الملک امیر الامرا ہز ہائینس کرنیل نواب میر سید حامد علی خاں صاحب بہادر زبد الواسطی البارہوی مستعد جنگ جی سی آئی ای ای جی سی وی او اے ڈی سی ٹوہزامپیریل مجسٹی دی کنگ ایمپیرر فرمانوراے دارالسرور ریاست رام پور دام اقبالہم و ملکہم۔

شعر کے فن میں مجھے حاصل ہوا اِک درک ِ خاص جب کفیل اپنا ہوا فرمانرواے رام پور

قدر کی خلد آشیاں نے جیسی کچھ استاد کی کیا کہوں اس امر کی خود ہی ہے شہرت دور دور

جس زمیں سے اوّلاً جاری ہوا دریاے فیض خاک تک ہے اس گلی کی توتیاے چشم حور

لائق ِ اعزاز ہیں اُستاد کے خلف الرشید یہ وہ ہیں روز ِ ازل جن کو ملی ہے طبع ِ نور

جام مینائی انہیں کے دَم سے اب گردش میں ہے یہ وہ مے ہے نسبتاً کہیے جسے کیف ِ طہور

مہرباں و قدر داں نواب والا جاہ ہیں آنکھ کی پُتلی سمجھتا ہے انہیں ہر ذی شعور

بول بالا یا خدا اس صاحب ِ اقبال کا سایہئ دولت کا جس کے ہے لقب دار السرور

معنون ناچیز دیواں نام نامی پر کیا تا بہ امکاں ہو نہیں سکتا عقیدت میں قصور

یہ دل بشکستہ اب دربار کے قابل نہیں بدعت سنگ جفا سے ہورہا ہے چور چور

مجھ گدا گوشہ نشیں کے دل میں حسرت رہ گئی اب کہاں ممکن کہ حاصل ہو حضوری ئ حضور

ختم ہے دور ِ سیاحت آئی پیری اے حفیظؔ

موت گھیرے، پاؤں پکڑے ہے زمین ِ جونپور

دستیاب حوالے حفیظؔ جون پوری کی شعری کائنات پر حکیم عبد الکریم خاں برہمؔ گورکھپوری]وفات 24/ جنوری 1929ء [کے ’اخبار مشرق‘ گورکھپور میں شائع متعدد مضامین کی نشاندہی کی ہے۔’حفیظؔ مطالعہ‘ کے دوران لالہ سری رام ]وفات: 25/مارچ1930ء [ کی تالیف خمخانہئ جاوید،جلد دوم ]1911ء[ اور عرفان عباسی ]وفات: 4/جنوری2012ء [ کی تالیف دبستان امیر مینائی میں بھی ’ذکر حفیظ‘ پایاہے۔ ڈاکٹر خدیجہ طاہرہ نے بھی اپنی تالیف’جون پور کی ادبی خدمات: تاریخ کی روشنی میں‘میں حفیظؔ جون پوری کی شعری کائنات پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ تینوں تحریریں محمد عرفان جون پوری کی زیر نظرکتاب میں شامل نہیں ہیں۔حالانکہ آخر الذکر کتاب میرے ذخیرہئ کتب میں محمد عرفان جون پوری ہی کی عطا کردہ ہے۔

لالہ سری رام نے حفیظؔ جون پوری کا وہ مطبوعہ دیوان اور وہ کلام سامنے رکھ کر اظہارِ خیال کیا ہے،جو راجہ سعادت علی خاں رئیس پیغمبر پور سے وابستگی کے زمانے تک کا ہے۔وہ

لکھتے ہیں:

”جناب حفیظؔ دور ِ موجودہ کے شعرا میں متوسط درجے میں امتیازی پایہ رکھتے ہیں۔آپ کا کلام بحیثیت زبان، بندش،درد اور صفائی روز مرہ قابل ِ تحسین ہوتا ہے۔اگر چہ علمی استعداد زیادہ نہیں، مگر کثرت ِ مشق اور خدا داد ذہانت سے اس فن میں اچھی قابلیت حاصل کرلی ہے اور آپ کے کلام کا ان نواح میں اچھا شہرہ ہے۔کلام میں مزا اور بندش کا اسلوب قابل ِ دید ہے۔آپ کی طبیعت روز افزوں ترقی پر ہے اور اُمیدہے اسی طرح مشق جاری رہی تو اپنے استاد کا نام روشن کریں گے“۔]خمخانہئ جاوید،ج2،ص481[ حفیظ جون پوری کے دونوں دیوان پڑھنے کے بعداوّل ِ وہلہ میں جو تاثر قائم ہوتا ہے،وہ یہ ہے کہ وہ بہت بڑے اور قد آور شاعر تھے۔وہ قدیم شعری روایات کے امین بھی تھے اور جدید کے خواستگار بھی۔انہیں اپنے شعری مقام و مرتبہ کا بھی احساس تھا۔اسی لیے ان کے فن میں غزل کی جملہ روایات کے احترام والتزام کے ساتھ تعلّی، خود پسندی اور کسی قدر انانیت بھی ہے،جس کے سوتے ’عرفان ِ ذات‘ سے پھوٹے ہیں۔ان کے یہاں ’باخبر‘ ہونے کی وجہ سے ’بے خبری‘ نہیں ہے بلکہ وہ ’اشرف علی‘ سے ’بیعت‘ ہونے کے عمل کو بھی’بایں غفلت ہوشیاری‘قرار دیتے ہیں۔وہ ’فخر سوداؔ‘ بھی ہیں اور ’رشک ِ غالبؔ‘ بھی۔سچ تو یہ ہے کہ ان کا کلام’خیرالقرون‘کے شعراء ِ ہند سے لگّا کھاتا ہے اوران کی شعری کائنات نسبتاً زیادہ وسیع، شاداب اور زرخیز ہے۔

شعر ہر رنگ میں کہنا ہے ترا کام حفیظؔ

آج ہم مان گئے مانگئے مان گئے

——

میرؔ کے انداز میں کس نے غزل لکھی حفیظؔ

مجھ کو زیبا ہے اگر اس بات کا دعویٰ کروں

——

حفیظؔ استاد کی تقلید کیسی

بھروسا چاہئے اپنی زباں پر

——

حفیظؔ استاد کی تقلید کیسی

بھروسا چاہئے اپنی زباں پر

——

اِس شہر کو حفیظؔ کیا ہم نے لکھنؤ

ٹکسال چڑھ گئی ہے زباں جون پور کی

——

متذکرہ بالا اشعار میں یقیناً تعلّی کے عناصر ملتے ہیں،لیکن یہ تعلّی تیقّن کی صلب سے پیدا ہوئی ہے اور بڑی حد تک حقیقت پر مبنی ہے۔اس انتخابی شاعری کے لیے اگر خمخانہئ جاوید کے مؤلف ’متوسط درجے میں امتیازی پایہ‘ اور’اُن نواح میں اچھا شہرہ‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں،تو گویا یہ الفاظ اپنی حرمت اوراعتبار سب کچھ کھو دیتے ہیں۔

محض 14برس کی عمر میں حفیظ ؔ جون پوری کے بطون ِ دماغ میں اساتذہئ سخن کے ہزارہا اشعار محفوظ ہوگئے تھے۔کامیاب شاعر کے لیے لازمی ہے کہ وہ شعری ادب ِ عالیہ پر بھی گہری نظر رکھے۔ اس صورت میں اگر وہ روایت سے انحراف کرتا ہے، تو اس کا انحراف فکری اور نظریاتی ہوگا،بصورت ِ دیگر اس کا انحراف برائے انحراف اور بے وقار شمار ہوگا اور لسانی صحت اور فکری جدت اور صالحیت سے اس کاتعلق نہ ہوگا۔قدیم شعرا یاکلاسیکی شاعری کے ہزارہا اشعار یاد ہونے اور غیر معمولی خدا داد صلاحیت کی وجہ سے ہی ان قدیم شعراکے درمیان حفیظ ؔ جون پوری کو اپنی راہ نکالنا آسان ہوسکا تھا۔

عرفان جون پوری نے حفیظ ؔجون پوری کے حوالے سے بیشک ایک بڑا اہم کام کیا ہے اور اپنی اس کتاب کی جمع و ترتیب میں جس جگر کاوی کا مظاہرہ کیاہے،وہ لائقِ احترام ہے اوربے حد محدود وسائل کے باوجود جس طرح کم یاب تحریروں کی کہکشاں سجائی ہے،وہ قابل ِ صد ستائش ہے۔بایں ہمہ پروف ریڈنگ اور پیجنگ میں مزید احتیاط اور ارتکاز کی ضرورت ہے۔ مزید اگر دوران ِ مطالعہ کسی اختلافی مسئلے کو سلجھانے کے لیے کوئی بے حد قریب کی،ثقہ تحریر مل جائے، تو اس کا عکسِ تحریر یا نقل ضرور شامل ِکتاب کیاکریں؛تا کہ عام قاری حق تک پہنچ جائے اوراس کا ذہنی اُلجھاؤ ختم ہو جائے۔حفیظ ؔجون پوری کے سن وفات کی توقیت کے لیے اُن کے برادر خرد محمودعلی کا لکھا ہوا خط بہت اہم ہے،جس کا عکس طفیل انصاری کی کتاب ’حفیظ جون پوری: حیات اور شاعری‘]2006ء[میں شامل ہے۔ عرفان جون پوری اگر اس خط کا عکس یا نقل اپنی کتاب میں شامل کردیتے،تو حفیظؔ کے بارے میں ان کے قاری تک ایک راست اطلاع پہنچ جاتی اور ڈاکٹر فضل امام رضوی کی تحقیق کی خلیج کا سامنا نہ کرنا پڑ تا۔

عرفان جون پوری متحرک اور بے حد فعال انسان ہیں۔ہمیں اُمید ہے کہ تلاش و تحقیق کا اُن کا یہ حوصلہ قائم اور لکھنے لکھانے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ وہ علم دوست ہیں اور صحیح قرائت اور صحت مند تحریر میں یقین رکھتے ہیں۔ان سے مشورتاً عرض ہے کہ وہ اپنے حلقہئ اثر سے حفیظ ؔ جون پوری کی اُن شعری جہات پرمزید تحقیقی مضامین لکھوائیں،جو ہنوز تشنہئ تحریر ہیں اور ’حفیظ اشاریہ‘ بھی مرتب کرائیں کہ اس کی بھی شدید ضرورت ہے۔واضح رہے کہ آج کے دور میں طباعت و اشاعت کوئی مسئلہ نہیں رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Leave a Comment