Home مقبول ترین کیا گیان واپی مسجد کا انجام بھی بابری مسجد جیسا ہوگا؟- سہیل انجم

کیا گیان واپی مسجد کا انجام بھی بابری مسجد جیسا ہوگا؟- سہیل انجم

by قندیل

فاضل سپریم کورٹ کی بڑی ’کرم نوازی‘ کہ اس نے گیان واپی مسجد معاملے میں مسلم فریق کو ’سانس لینے‘ کی مہلت دے دی اور مسجد کے اس سروے پر دو روز کے لیے روک لگا دی جو بنارس کی ضلعی عدالت کے حکم پر محکمۂ آثار قدیمہ نے شروع کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مسلم فریق سے کہا کہ وہ ہائی کورٹ سے رجوع کرے اور ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے پہلے سماعت کرے۔ گزشتہ سال جب اس تنازع کو پورے زورشور کے ساتھ کھڑا کیا گیا تو راقم الحروف نے اپنے کالم میں یہ سوال اٹھایا تھا کہ کیا گیان واپی مسجد کو بابری مسجد بنانے کی تیاری ہو رہی ہے؟ اس تعلق سے جو سلسلہ واقعات پیش کیا گیا تھا وہ اسی جانب اشارہ کر رہا تھا۔ اب یہ سوال دوبارہ کھڑا ہو گیا ہے۔ اس سوال کی معقول وجوہات ہیں۔ اگر ہم بابری مسجد اور گیان واپی مسجد سے متعلق مقدمات کے تسلسل پر نظر ڈالیں تو بڑی مماثلت نظر آتی ہے۔
آئیے پہلے بابری مسجد سے متعلق چند اہم عدالتی اقدامات پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ بابری مسجد میں 1528 کے بعد سے مسلسل پنج وقتہ نمازیں ادا ہوتی رہی ہیں۔ لیکن 1885 میں مہنت رگھوبر داس نے عدالت میں عرضی داخل کرکے مسجد کے باہر ایک چھتری تعمیر کرنے کی اجازت چاہی۔ عدالت نے اس کی اجازت نہیں دی اور درخواست خارج کر دی۔ 22 دسمبر 1949 کی عشا کی نماز ہمیشہ کی مانند ادا کی گئی۔ لیکن جب مصلیان فجر کے وقت پہنچے تو انھوں نے مسجد کے اندر مورتی دیکھی۔ صبح کے وقت زور شور سے یہ پروپیگنڈہ کیا گیا کہ رام چندر جی پرکٹ ہو گئے ہیں۔ وہاں تعینات کانسٹبل ماتا پرساد نے تھانے میں رپورٹ درج کرائی کہ نامعلوم افراد نے مسجد میں مورتی استھاپت کرکے اسے ناپاک کر دیا ہے جس سے امن و امان کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اس رپورٹ کی بنیاد پر فیض آباد کے سٹی مجسٹریٹ نے دفعہ 144 نافذ کرکے مسجد کو مقفل کر دیا اور باہر سے پوجا کی اجازت دے دی۔ جنوری 1950 میں سٹی مجسٹریٹ کی عدالت میں اپیل دائر کی گئی کہ ہم وہاں پوجا کرتے ہیں مگر مسلمان اس میں رخنہ اندازی کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بلا روک ٹوک پوجا کی اجازت دی جائے۔ مارچ 1951 میں عدالت نے مسجد کے اندر پوجا کی اجازت دے دی۔ اس درمیان رام مندر کی تحریک زور شور سے چلنے لگی۔ جنوری 1986 میں ایک غیر متعلق شخص نے منصف فیض آباد کی عدالت میں درخواست دی کہ جنم بھومی بابری مسجد کا تالا کھول دیا جائے تاکہ ہندو کسی رکاؤٹ کے بغیر پوجا کر سکیں۔ یکم فروری 1986 کو عدالت نے یکطرفہ فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کا تالا کھولنے اور ہندوؤں کو اس کے اندر پوجا کرنے کی اجازت دے دی۔ اس طرح جو بھی عدالتی احکامات دیے جاتے رہے ان سے رام مندر کا راستہ ہموار اور بابری مسجد کا دشوار ہوتا گیا۔ بالآخر بابری مسجد کو چھ دسمبر 1992 کو منہدم کر دیا گیا۔ اس طرح اس معاملے میں عدالتی رویہ بالکل واضح ہے۔ اس پر کسی تبصرے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
اب ایک نظر گیان واپی مسجد کے سلسلے میں تازہ عدالتی کارروائیوں پر ڈال لی جائے۔ اگست 2021 میں پانچ ہندو خواتین نے، جن کا بنارس سے کوئی تعلق نہیں ہے، عدالت میں درخواست دائر کی کہ انھیں گیان واپی مسجد کی مغربی دیوار پر واقع گوری شرنگار کی مورتی کی یومیہ پوجا کی اجازت دی جائے۔ اس سے قبل سال میں ایک بار پوجا کی جاتی تھی۔ جسے مورتی کہا گیا وہ دراصل مورتی نہیں ہے بلکہ چہرے جیسی کوئی شبیہ ہے۔ عدالت نے درخواست قبول کرتے ہوئے اپرل 2022 میں مسجد کے سروے کا حکم دے دیا۔ حالانکہ ہندو خواتین نے مسجد کے اندر پوجا کرنے یا اس کے سروے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔ مسلم فریق نے اس حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا لیکن اس نے اس پر اسٹے دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت کے حکم پر سروے کا کام شروع ہوا۔ اس کام کے لیے مقرر وکیل مزید چار قدم آگے بڑھ گیا۔اس نے یہ افواہ اڑا دی کہ مسجد کے حوض میں شیو لنگ ملا ہے۔ حالانکہ وہ فوارہ ہے۔ پھر مسلم فریق کی جانب سے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔ اس نے حوض کو سیل کروا دیا البتہ نماز کی اجازت باقی رکھی۔ اس کے بعد عدالتی کارروائی آگے بڑھتی رہی۔ فوارے کی کاربن ڈیٹنگ کے لیے اپیل دائر کی گئی۔ لیکن چونکہ کاربن ڈیٹنگ بہت پیچیدہ عمل ہے اس لیے عدالت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اسی درمیان گزشتہ 21 جولائی کو ضلعی عدالت نے محکمۂ آثار قدیمہ کو مسجد کا سروے کرنے کا حکم دے دیا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ جہاں ضرورت ہو وہاں کھدائی بھی کی جائے تاکہ یہ پتہ لگایا جا سکے کہ گیان واپی مسجد جہاں تعمیر ہوئی ہے وہاں پہلے کوئی مندر تھا یا نہیں۔ (ایسے ہی بابری مسجد کی جگہ کی بھی کھدائی کی گئی تھی)۔ سروے کو رکوانے کے لیے مسلم فریق نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو ا س نے دو روز کا اسٹے دے کر ہائی کورٹ جانے کی ہدایت دے دی۔ اب آپ ذرا غور کیجیے کہ پانچ خواتین مسجد کی مغربی دیوار پر پوجا کرنے کی اجازت مانگتی ہیں اور عدالت پوجا پر کوئی حکم دینے کے بجائے مسجد کے سروے کا حکم دیتی ہے۔
اس معاملے کا یہ ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب 1991 کا عبادت گاہ قانون موجود ہے تو پھر ان تاریخی مسجدوں پر جو 1947 سے پہلے سے ہیں، کسی تنازعے کا کیا جواز ہے۔ یاد رہے کہ 1991 میں اس وقت کی نرسمہاراؤ کی حکومت نے بابری مسجد کے قضیے کو حل کرنے کے لیے ایک قانون وضع کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ پندرہ اگست 1947 کو جو عبادت گاہ جس شکل میں تھی وہ اب اسی شکل میں رہے گی۔ یعنی کسی ایک مذہب کی عبادت گاہ کو دوسرے مذہب کی عبادت گاہ میں تبدیل نہیں کیا جائے گا۔ قانون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایسی کسی عبادت گاہ کے بارے میں کسی عدالت میں کوئی مقدمہ ہے تو وہ کالعدم ہو گیا اور اب اگر کوئی شخص پندرہ اگست 1947 سے پہلے کی کسی عبادت گاہ کے بارے میں کسی عدالت میں کوئی مقدمہ دائر کرنا چاہے گا تو وہ دائر نہیں ہوگا۔ یہ ساری باتیں مذکورہ قانون کی دفعہ تین اور چار میں کہی گئی ہیں۔ البتہ بابری مسجد کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا تھا۔ لیکن اس قانون کی موجودگی اور اتنی واضح دفعات کے باوجود گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کے بارے میں مقدمات جاری ہیں اور نئے نئے مقدمات بھی قائم کیے جا رہے ہیں۔ صرف انھی دونوں مسجدوں کے بارے میں نہیں بلکہ دوسری مزید تاریخی مساجد کے بارے میں بھی مقدمات کے قیام کا سیلاب آگیا ہے۔ اب تو کوئی بھی شخص عدالت چلا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں مسجد مندر توڑ کر بنائی گئی تھی اور عدالت اس اپیل کو سماعت کے لیے منظور کر لیتی ہے۔ جبکہ عبادت گاہ قانون ایسے کسی بھی عمل کو روکتا ہے۔ اس قانون کو بھی متنازع بنا دیا گیا ہے اور اسے منسوخ کرنے کے لیے سپریم کورٹ میں دو مقدمات زیر التوا ہیں۔
قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ مذکورہ قانون کی موجودگی میں کسی تاریخی مسجد کے سلسلے میں کوئی تنازع پیدا کرنا اور اس بارے میں قانونی چارہ جوئی کرنا غیر قانونی ہے۔ لیکن حیرت ہے کہ اس کے باوجود فاضل عدالتیں ایسے مقدمات کو سماعت کے لیے نہ صرف منظور کر رہی ہیں بلکہ ان پر احکامات بھی صادر کر رہی ہیں۔ جب مذکورہ قانون بنا تھا تو لوگوں نے یہ غلط فہمی پال لی تھی کہ اب کسی اور مسجد پر مندر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کا خیال تھا کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر کے لیے دے دینے کے بعد مسجد مندر کا جھگڑا ختم ہو جائے گا۔ لیکن جھگڑا ختم ہونے کے بجائے اور بڑھ گیا ہے۔ اب تو گیان واپی مسجد اور متھرا کی شاہی عیدگاہ کے سلسلے میں نئے نئے عدالتی معاملات سامنے آ رہے ہیں اور پھر دیگر تاریخی مسجدوں پر بھی تلوار لٹک رہی ہے۔ حال ہی میں قطب مینار کے احاطے میں واقع مسجد کے تاریخی ثبوت طلب کیے گئے ہیں۔ اگر یہی کرنا ہے تو پھر عبادت گاہ قانون کی موجودگی کا کیا جواز ہے۔ اسے منسوخ ہی کر دیا جائے۔ کم از کم تسلی کی کوئی بات تو نہیں رہے گی۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

You may also like