گزشتہ لکھنؤ: ایک مطالعہ-ایس ایم حسینی

ندوہ کیمپس، ڈالی گنج، لکھنؤ.

فون نمبر 8960512979

 

مولوی عبدالحلیم شرر نے بیسیوں کتابیں لکھیں، جن میں بڑی تعداد ناولوں کی ہے اور مقبول عام ہونے والی کتابوں میں "فردوسِ بریں” و "گزشتہ لکھنؤ” شامل ہیں، شرر کی شناخت تاریخی ناول نگار کی حیثیت سے ہے اور ان کی کتاب گزشتہ لکھنؤ اسی سلسلے کی ایک نایاب کڑی ہے، جو پرانے لکھنؤ کی رونق کو اپنے صفحات میں سموئے ہوئے ہے، یہ کتاب دراصل ماہنامہ "دلگداز” میں "ہندوستان میں مشرقی تمدن کا آخری نمونہ” کے عنوان سے شرر کے لکھے گئے قسط وار مضامین کا مجموعہ ہے، جو شرر کی زندگی ہی میں شائع ہوگیا تھا، کتاب کے مرتب نسیم انہونوی ہیں جنہوں نے شرر کا اچھا خاصا مفصل تعارف کتاب میں شامل کیا ہے ۔

عبدالحلیم شرر نے اس کتاب میں لکھنوی زندگی کے کسی گوشہ کو نظر انداز نہیں کیا، لکھنؤ کا ذرہ ذرہ ان کے لئے مقدس تھا اور قابل فخر بھی، شرر کو لکھنؤ سے بے پناہ محبت تھی اور یہ کتاب اس کے اظہار کا ہلکا سا نمونہ ہے، لچھمن پور سے لکھنؤ بننے، پھر اس کے آباد ہونے سے برباد ہونے اور اجڑ کر کلکتہ کے "مٹیا بُرج” میں اپنی چھل بَل دکھانے کی مکمل داستان شرر نے انصاف کے ساتھ اس انداز اور لب ولہجہ میں بیان کی ہے جو ابتدا سے انتہا تک قاری کو اپنے ساتھ باندھے رکھتی ہے، بیان و اسلوب ایسا دلچسپ اور موہ لینے والا ہے کہ ماضی کا حصہ بن چکی ڈیڑھ سو سالہ قدیم تصویر پر جمی دھول ہٹتی ہے اور پردے پر لگی کسی فلم کی طرح نگاہوں کے سامنے گردش کرنے لگتی ہے، جو دبستان لکھنؤ کے متوالوں کو بیتے لمحے جینے کا ایک موقع فراہم کرتی ہے، جس میں شجاع الدولہ کے کارناموں کی طویل فہرست بھی ہے اور آصف الدولہ کی فیاضیوں کا دسترخوان بھی بچھا ہوا ہے، غدر کے مجاہدین کی چلتی پھرتی داستانیں بھی ہیں تو واجد علی شاہ کی رنگ رلیوں کا ایک سماں بھی بندھا ہوا ہے، علم وفضل کے بیان کے ساتھ تفریحات کی دسیوں صورتیں ہیں، کہیں پتنگ بازی کی کھرکھراہٹ ہے تو کہیں کبوتر بازی کا تماشہ آسمان میں پَر پھیلائے ہوئے ہے، بازاروں کا شور بھی ہے اور عمارتوں کا ہجوم بھی، شعرا کی جام جم سے لبریز محفلیں ہیں تو ہوش ربا داستانوں کے ذکر کے ساتھ عمروعیار کے قصے بھی، جنھیں پڑھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ ہاں یہ وہی لکھنؤ ہے، جس پر دبستان دہلی کے مشہور شاعر مرزا غالب بھی فریفتہ ہیں اور جگہ جگہ اپنے خطوط میں لکھنوی انداز، لب ولہجہ، علم و معرفت کا اعتراف کرتے ہوئے دہلی پر لکھنؤ کو فوقیت دیتے ہیں۔

میر مہدی مجروح کے نام ایک خط میں مرزا غالب لکھتے ہیں: "اے میر مہدی تجھے یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی "میاں یہ اہل دہلی کی زبان ہے۔ ارے اب اہل دہلی یا ہندو ہیں یا خاکی ہیں یا پنجابی ہیں یا گورے ہیں، ان میں سے تو کس کی زبان کی تعریف کرتا ہے؟ لکھنؤ کی آبادی میں کچھ فرق نہیں آیا، ریاست تو جاتی رہی، باقی ہر فن کے کامل لوگ موجود ہیں” مذکورہ اقتباس پڑھ کر بے ساختہ یہ شعر یاد آجاتا ہے:

اظہار بوئے مشک غزالوں کے سامنے

دعویٰ زباں کا لکھنؤ والوں کے سامنے

ایک دوسرے خط میں میر مہدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے ہیں: "آؤ میاں سید زادۂ آزادہ، دلّی کے عاشق دل دادہ، ڈھئے ہوئے اردو بازار کے رہنے والے، حسد سے لکھنؤ کو برا کہنے والے، نہ دل میں مہر و آزرم، نہ آنکھ میں حیا و شرم، نظام الدین ممنون کہاں! ذوق کہاں! مومن خان کہاں! ایک آزردہ، سو خاموش، دوسرا غالب، وہ بیخود و مدہوش، نہ سُخن وری رہی نہ سخن دانی، کِس برتے پر تتّا پانی! ہائے دلّی! وائے دلّی! بھاڑ میں جائے دلّی!”

شرر کے اشہب قلم سے نکلی ہوئی یہ کتاب دراصل ایک دستاویز ہے جس میں غلط فہمیوں کا ازالہ بھی کیا گیا ہے اور ڈھکی چھپی حقیقت سے پردہ بھی اٹھایا گیا ہے، آئیے دیکھتے ہیں لکھنؤ کے برباد ہونے کی اصل وجہ اور واجد علی شاہ کو زوال لکھنؤ کا ذمہ دار ٹھہرا کر نشانۂ ملامت بنانے والوں پر شرر نے کس قدر پیاری چوٹ کی ہے اور کتنے عمدہ پیرایے میں غلط فہمی کا ازالہ کیا ہے، ملاحظہ ہو:

"اب امجد علی شاہ کے بڑے بیٹے واجد علی شاہ تختِ سلطنت پر جلوہ افروز ہوئے، ان کا زمانہ اس مشرقی دربار کی تاریخ کا آخری ورق اور اسی مرثیۂ پاستان کا آخری بند ہے، چونکہ انتزاع سلطنت ان کے عہد میں ہوا اس لئے تمام اہل الرائے کے ہدف سہام اور نشانۂ ملامت وہی بن گئے، اور قریب قریب تسلیم کرلیا گیا کہ زوال سلطنت کا باعث وہ تھے، لیکن جس زمانے میں ان کی سلطنت کا خاتمہ ہوا، ان دنوں ہندوستان کی تمام قوتیں ٹوٹ رہی تھیں اور بری بھلی سب طرح کی حکومتیں دنیا سے مٹی جاتی تھیں، پنجاب میں سکھوں کا،دکن میں مرہٹوں کا دفتر کیوں الٹا؟ جو بہادر اور زبردست ہشیار مانے جاتے تھے،دہلی میں مغل شاہی کا اور بنگالہ میں نواب ناظم بنگالہ کا استیصال کیوں ہوا؟ حالانکہ ان میں اتنی طفلانہ مزاجی نہ تھی جتنی کہ لکھنؤ کے اریکہ آرائے سلطنت میں بتائی جاتی ہے، مذکورہ چاروں درباروں میں کوئی واجد علی شاہ نہ تھا، حالانکہ ان کی تباہی لکھنؤ کی تباہی سے کم نہ تھی۔”

آگے لکھتے ہیں:

"اصل یہ ہے کہ اس عہد میں ادھر اہل ہند کی غفلت اور جہالت کا پیمانہ چھلکنے کے قریب پہنچ گیا تھا اور ادھر دولت برطانیہ کی قوت اور برٹش قوم کی عاقبت اندیشی، قابلیت، جفاکشی، اپنی کوششوں اور اپنی اعلیٰ تہذیب و شائستگی کا ثمرہ پانے کی روز بروز مستحق ہوتی جاتی تھی، غیر ممکن تھا کہ دانایانِ فرہنگ کی ذہانت و طباعی، خوش تدبیری و باضابطگی ہندوستان کی جہالت و خود فراموشی پر فتح نہ پاتی، زمانے سے ہماری دنیا نے تمدن کا نیا رنگ اختیار کیا تھا اور پکار پکار کے ہر ایک قوم سے کہہ رہی تھی کہ جو اس مذاق میں میرا ساتھ نہ دے گا، مٹ جائے گا، ان ہی مٹنے والوں میں اودھ کی سلطنت بھی تھی، جس کے زوال کا بار، غریب واجد علی شاہ پر ڈال دینا محققانہ مذاق کے خلاف ہے۔”

گزشتہ لکھنؤ صرف لکھنؤ کی تمدنی و تہذیبی معلومات کا گنجینہ ہی نہیں بلکہ ایک ادب پارہ بھی ہے، جو آج بھی قاری کے دل کو گرما دیتا ہے، جسے پڑھ کر پرانے لکھنؤ کی تمام رعنائیاں کسی اسٹیج پر سلیقہ سے پیش کئے جارہے مکالمہ کے مانند محسوس کی جاسکتی ہیں، جس کی لفظی دنیا میں قدم رکھتے ہی نظریں مسحور ہوجاتی ہیں، ایسا سماں پیدا ہوتا ہے کہ انسان اس طلسماتی دنیا سے جدائی کا خیال بھی اپنے ذہن کے خانوں میں نہ لاکر بڑی سی بڑی قیمت کے عوض قدیم لکھنؤ کی مہکتی ہوئی فضا میں شہریت مل جانے کا خواب دیکھتا ہے، جسے اب جینا ممکن نہیں۔ جی ہاں! تو شرر کی گزشتہ لکھنؤ ایک نایاب تحفہ ہے، جو لکھنوی زندگی کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے، جس میں لکھنؤ کی تاریخ اور تاریخی عمارتوں کا ہی نہیں بلکہ وہاں کی تہذیب وتمدن، لب ولہجہ، انداز واطوار، زبان وبیان کا ایک مفصل بیان ہے، جسے عبدالحلیم شرر نے بڑی دلجمعی اور نہایت دلسوزی کے ساتھ قلمبند کرکے آنے والی نسل کے لئے ایک نیا باب وَا کردیا ہے۔