گلزار دہلوی کو خراجِ عقیدت،انجمن ترقی اُردو (ہند) کی تعزیتی قرارداد

 

نئی دہلی: اُردو کے مشہور و ممتاز اور بزرگ شاعر پنڈت آنند موہن زتشی گلزارؔ دہلوی کا 12 جون 2020 کو نوئیڈا میں واقع ان کی قیام گاہ پر انتقال ہوگیا۔ اُن کی وفات پر انجمن ترقی اردو (ہند) نے ایک تعزیتی قرار داد پاس کی جس میں اُن کی شخصیت اور خدمات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی اور کہا گیا کہ وہ ایک ہردل عزیز اور ممتاز شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ متعدد اہم خوبیوں اور صفات کے حامل انسان بھی تھے۔ وہ انجمن کی مجلسِ عاملہ کے معزز رکن تھے۔ اُن کے انتقال سے انجمن اپنے ایک دیرینہ اور مخلص رکن سے محروم ہوگئی۔
واضح ہو کہ گلزار دہلوی 7 جولائی 1926 کو دہلی کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد پنڈت تربھون ناتھ زتشی زارؔ دہلوی اور والدہ رانی زتشی دونوں اپنے زمانے کے معروف شاعر تھے۔ ان کی والدہ کا تخلص بیزارؔ تھا۔ گلزار دہلوی کو زبان و بیان پر غیرمعمولی قدرت حاصل تھی۔ انھوں نے منفرد لب و لہجے کے شاعر کے طور پر اُردو دُنیا میں شناخت قائم کی۔ آزادی کے بعد ہندستان میں اُردو زبان و ادب کی بقا اور ترقی و ترویج میں انھوں نے غیرمعمولی کردار ادا کیا نیز پوری زندگی قومی و بین الاقوامی سطح پر اُردو کی مشترکہ تہذیب کی نمائندگی کرتے رہے۔ گلزار دہلوی کی مطبوعات میں ”گلزارِ غزل“ اور ”کلّیاتِ گلزار دہلوی“ ہیں جب کہ ان کی شخصیت اور خدمات پر لکھی جانے والی کتابوں میں ”کچھ دیکھے کچھ سنے“ اور ”مشاعرہ جشنِ جمہوریت 1973“ شامل ہیں۔ موقر رسالہ ”چہارسو“ نے گلزار دہلوی کی شخصیت اور ان کی خدمات پر مشتمل خصوصی شمارہ شائع کیا۔ وہ ”سائنس کی دنیا“ کے اڈیٹر رہے، جو 1975 میں حکومتِ ہند کے ذریعے شائع ہونے والا پہلا اُردو کا سائنسی رسالہ تھا۔ گلزار دہلوی کی علمی و شعری خدمات کے اعتراف میں انھیں متعدد انعامات و اعزازات سے سرفراز کیا گیا۔
انجمن ترقی اردو (ہند) محسوس کرتی ہے کہ گلزار دہلوی کی وفات سے ایک زرّیں عہد کا خاتمہ ہوگیا۔ وہ بلاشبہ شعری و ادبی محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے نیز ملک کی مشترکہ تہذیب و تمدن کے امین اور پاسدار تھے۔ انجمن دعا گو ہے کہ خدا مرحوم کو اپنی جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پس ماندگان کو صبرِ جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔