گلشن تری یادوں کا مہکتا ہی رہے گا!

 

(مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں)

 

مولانامحمد صفی الرحمن قاسمی

مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ، دربھنگہ

 

زندگی کی حقیقت کیا ہے، یہ سطح آب پر ابھرنے والے ایک بلبلے کی طرح ہے کہ ابھرا اور ختم، روزانہ اس دنیا میں ہزاروں نہیں لاکھوں افراد پیدا ہوتے ہیں اور لاکھوں مرتے ہیں، کچھ بد نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کی موت کسی کو متاثر نہیں کرتی ، کچھ لوگوں کی وفات اہل خانہ اور دوست و احباب کے لئے باعث رنج ہوتی ہے؛ لیکن کچھ خوش نصیب لوگ ایسے ہوتے ہیں، جن کی موت ہزاروں لاکھوں آنکھیں اشکبار کر جاتی ہیں اور اس حادثہ سے لاکھوں لوگ رنجور ہو جاتے ہیں۔

محترمی حضرت مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا سانحۂ ارتحال بھی ایسا ہی حادثہ ہے، جس نے ہزاروں آنکھیں نم کی ہیں اور دل پر غم کا ایسا بوجھ ڈالا ہےکہ جس کے کم ہوتے ہوتے ایک عرصہ بیت جائے گا اور اس کا اثر تو شاید کبھی ختم ہی نہ ہو۔

21 محرم الحرام 1442 ھ ، یکم ستمبر 2020 ء پیر کےدن فجر سے پہلے مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ اس دار المحن سے کوچ کر کے جوار رحمت میں منتقل ہوگئے، مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کو تقریباً چالیس سال، جو میں نے دیکھا ہے اور ان کے متعلقین سے جو سنا ہے، اس کی روشنی میں اور اللہ عز وجل پر بھروسہ کرتے ہوئے اس مسافر آخرت کے لئےیہ کہہ سکتا ہوں، جو رب کریم نے اپنے نیک بندوں سے کہا ہے : يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي۔

اخلاقی بلندی کی چند جھلکیاں:

مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے راقم السطور کا علمی و دینی اور گھریلو ہر دو سطح پر تقریبا چالیس سالہ قدیم تعلق ہے، ادھر بیس پچیس سالوں میں تو ایسا اتفاق کبھی نہیں ہوا کہ دو تین ماہ گذر جائیں اور ان سے مختصر یا مفصل ملاقات نہ ہوئی ہو۔ مختلف اسفار میں بھی ساتھ رہا ، میرے گھر بھی متعدد بار تشریف لاچکے ہیں۔ جب ان کے بارے میں سوچتا ہوں ، تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان سے ہر ملاقات ان کی محبت کو دل میں اور پیوست کر جاتی تھی، اور تعلق اور گہرا ہوتا جاتا تھا، اس کی وجہ ان کے گوناگوں اوصاف تھے۔

تواضع و انکساری اور دوسروں کا اکرام:

ان کی شخصیت کے ممتاز اوصاف میں ان کی تواضع و انکساری تھی، کیا بڑا اور کیا چھوٹا، کیا امیر اور کیا غریب، ہر ایک سے ایسی تواضع سے پیش آتے کہ کہیں سے نہیں محسوس ہوتا کہ یہ شخص خود کتنا عبقری اور عظیم المرتبت ہے، عام لوگوں سے بھی اتنا اکرام کا معاملہ فرماتے کہ وہ عام آدمی بھی اپنی عزت کے خوشگوار احساس کے ساتھ ان کے پاس سے اٹھتا تھا۔

مہمان نوازی:

چھوٹا بڑا کوئی مہمان ان کے پاس سے اس طرح واپس نہیں آتا کہ ان کی طرف سے خاطر مدارات نہ ہوئی ہو، میرے بیٹے رضی الرحمن سلمہ نے ایک بار بتایا کہ رمضان کے مہینہ میں ادھر سے گذرنا ہوا، عصر کے بعد ملاقات ہوئی، جب یہ پتہ چلا کہ افطار تک یہ نہیں رک سکتا ہے، تو خوشبو لگانے کے ساتھ ساتھ کچھ کھجوریں اور کچھ پھل دیا کہ یہ میری طرف سے تمہارا افطار ہے۔

سہولت پہنچانے کا جذبہ:

میں نے اپنی ہر ملاقات میں، اسی طرح ساتھ کئے ہوئے اسفار میں یہ دیکھا کہ ہمہ وقت ان کی یہ فکر رہتی کہ مجھے زیادہ سہولت بہم پہنچے، خواہ ان کو اس سے کچھ دشواری ہی کیوں نہ ہو، یہ سہولت پہنچانے کی فکر اور جذبہ میں نے اپنی سیکڑوں بار کی ملاقات میں تقریباً ہر ملنے جلنے والے کے لئے دیکھا۔

بچوں سے محبت اور ان کی حوصلہ افزائی:

قریبی گھریلو تعلق ہونے کی وجہ سے جب میرے بچے پانچ چھ سال کی عمر کے تھے، تب سے ہی مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں میرے ساتھ جایا آیا کرتے تھے، میں نے اپنے بچوں کی بہت سارے لوگوں سے ملاقات کرائی ہے؛ لیکن جن چند لوگوں سے ملاقات پر وہ بہت خوش ہوتے تھے ، ان میں مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، کیوں کہ وہ بہت محبت سے پیش آتے تھے اور ان کی طرف ان کی کم عمری کے باوجود بھی اسی طرح متوجہ ہوتے تھے، جیسے کہ کسی بڑے آدمی سے تبادلۂ خیال کے وقت۔ قرآن کریم کی سورتیں پوچھتے، اور بھی مختلف سوالات کرتے اور صحیح جواب پر حوصلہ افزائی فرماتے اور غلط جواب پر پوری محبت سے تصحیح فرماتے۔

یہ تو ان کے وہ بلند اخلاق اور اوصاف تھے، جنہوں نے انہیں عوام و خواص کے دلوں پر حکمرانی عطا کی تھی، اس کے ساتھ ساتھ اللہ عز و جل نے دینی، علمی و تحقیقی اور سماجی جو خدمات لی ہیں، وہ بھی ایک مفصل موضوع ہے۔

دینی، علمی و تحقیقی اور سماجی خدمات:

مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ ساٹھ سال سے زیادہ دین، علم و تحقیق اور سماج کی متعدد جہتوں سے اور مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دیتے رہے،جو خدمات ان شاء اللہ دنیا میں اُن کے لئے اُن کی طبعی عمر سے کئی گنا لمبی عمر کی وجہ ہوگی اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بھی ہوگی۔

تدریسی خدمات:

مدرسہ امدادیہ دربھنگہ میں ایک سال، مدرسہ رحمانیہ سوپول میں چھیالیس سال باضابطہ تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، گویا تقریباً نصف صدی باضابطہ تفسیر، حدیث اور فقہ کے مدرس رہے، اس کے ساتھ ساتھ افتاء و قضاء کی تربیت دینے والے اداروں جیسے المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد اور المعہد العالی پٹنہ میں بھی بطور مہمان استاذ اور خصوصی مربی کے وقت دیا کرتے تھے۔

میرے برادر بزرگ مولانا ولی الرحمن قاسمی رحمہ اللہ سابق مہتمم مدرسہ اسلامیہ محمود العلوم دملہ مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ابتدائی زمانہ کے شاگردوں میں تھے، ان سے اور ان کے علاوہ مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے دوسرےمتعد د شاگردوں سے جو سنا ، اس سے اس نتیجے پر پہنچا کہ بطور مدرس وہ اپنی شفقت، تربیت، تفہیم کی بے پناہ صلاحیتوں کی وجہ سے ان اساتذہ کی فہرست میں تھے، جو اپنے طلبہ کی پہلی پسند ہوتے ہیں۔ اس پوری مدت میں ہزاروں طلبہ نے ان سے کسب فیض کیا، جو یقیناً ان کے لئے صدقۂ جاریہ ہیں۔

کارِ قضاء:

مخدومی حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمہ اللہ میدانِ قضاء کے ممتاز ترین لوگوں میں سے گذرے ہیں، جن چند لوگوں پر مخدومی حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمہ اللہ اس میدان میں بے پناہ بھروسہ کرتے تھے اور بہت ہی اعتماد کرتے اور اس کا اظہار کرتے تھے، ان میں سے ایک مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے، میرے علم کے مطابق مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے سیکڑوں فیصلے کئے ہیں، امارت شرعیہ پٹنہ سے وابستہ افراد سے یہ بات معلوم ہوتی رہتی تھی کہ قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ کے بعد کوئی بھی زیادہ پیچیدہ معاملہ ان کے مشورے کے بغیر فیصل نہیں کیا جاتا تھا۔

تصنیف و تالیف:

تدریس، قضاء کی ذمے داری، کئی اداروں کی سرپرستی اور انتظام کی ذمے داریوں، کثرت سے اسفار کے ساتھ ساتھ تقریباً دس کتابیں بھی لکھی ہیں، جو فقہی ، معاشرتی، شخصیت و سوانح اور قضاء سے متعلق ہیں، ان کی کتاب "مسجد کے آداب و احکام ہو، یا بینک سے متعلق چند مسائل، یا رہنمائے قاضی”، سب کی سب اپنے موضوع پر ایک وقیع کام ہے؛ لیکن علامہ بہلوی رحمہ اللہ کی کتاب ” الأدلۃ الحنفیۃ” کا دو جلدوں میں تکملہ ان کا معرکۃ الآراء کام ہے، جس تکملہ کی ایک جلد نوجوان فاضل عزیزی مولانا محمد رحمۃ اللہ ندوی (مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے برادر زادہ) کی تحقیق و تخریج کے ساتھ عالم عرب کے ایک مؤقر اشاعتی ادارہ سے طبع ہوچکی ہے، یہ کتاب نصوص شرعیہ پر ان کی گہری نگاہ کی شاہد عدل ہے۔

تعلیمی اداروں کا قیام، انتظام اور سرپرستی:

اپنے آبائی وطن میں دو اداروں "مدرسہ طیبہ منت نگر اور مدرسۃ البنات ” کا قیام ان کی علمِ نافع کی روشنی کو انسانیت تک پہنچانے کے جذبہ کا مظہر ہے، تا حیات ان کے زیر انتظام یہ ادارے چلتےرہے، اللہ عز و جل ان اداروں کے فیض کو عام اور تام کرے، اس کے علاوہ متعدد دینی و عصری اداروں کی سرپرستی فرماتے تھے، حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد مدرسہ اسلامیہ شکرپور بھروارہ (جو شمالی بہار کے ممتاز ترین چند اداروں میں نمایاں ہے) کے بھی صدر بنائے گئے اور تا حیات صدررہے۔

ملی اداروں سے وابستگی:

امارت شرعیہ پٹنہ سے تو عرصہ درازسے وابستہ رہے اور تادم آخریں یہ رشتہ رہا، اسّی کی دہائی سے قاضی تھے، امارت کی مجلس عاملہ اور شوری کے رکن بھی تھے، مسلم پرسنل لاء بورڈ اور اسلامک فقہ اکیڈمی جیسے مؤقر ادارے کے بھی رکن تھے۔ فقہ اکیڈمی کے پروگراموں میں ان کی رائے کو ہمیشہ وقار اور اعتبار کی نگاہوں سے دیکھا جاتا رہا ہے۔

دعوتی اسفار :

پیرانہ سالی کے باوجود -گذشتہ چند ماہ پہلے تک، جب صاحبِ فراش ہوگئے تھے – کثرت سے دعوتی اسفار کیا کرتے تھے، سماج کی اصلاح اور معاشرہ کی بہتری کے لئے اپنی راحتوں کی قربانی سے بالکل بھی دریغ نہیں کرتے تھے، بڑے بڑے شہروں کے نہیں؛ بلکہ ایسے دیہاتوں کے بھی دعوتی اسفار پوری خوش دلی سے کرتے تھے، جہاں پہنچنا آسان کام نہیں ہوتا تھا اور جہاں قیام کرنے میں خاصی مشقت ہوتی تھی۔

خطابت:

متعدد پروگراموں میں مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ شرکت کا موقعہ ملا، ان کی تقریر جہاں ایک طرف نصوص سے مدلل ہوا کرتی تھی، وہیں دوسری طرف سامعین کے فہم سے بھی مطابقت رکھنے والی ہوتی تھی، گاؤں دیہات کے لوگوں کو ان کی ہی مثالوں کے ذریعے باتوں کو سمجھایا کرتے تھے، گفتگو میں ایسا تسلسل ہوتا تھا کہ بات دل میں اترتی محسوس ہوتی تھی۔ ان کی تقریروں نے بہتوں کی دل کی دنیا بدلی اور اور کایا پلٹی ہے۔

حرف اخیر:

اوپر کی سطروں میں مولانا قاضی محمد قاسم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ تقریباً چالیس سالہ تعلقات میں جو جانا اور محسوس کیا، اس کی ایک ہلکی سی جھلک پیش کی ہے۔ اپنے تمام تر مشاہدات اور محسوسات کو ذکر کرنا تو ممکن نہیں ہے ، ہاں! مختصر طور پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ ” متوسط قد و قامت والے اس شخص کا علمی وتحقیقی اور دینی قد و قامت اللہ عز وجل نے بہت ہی بلند بنایا تھا” اور بظاہر مبالغہ کے طور پر نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں ان کی وفات سے ایسا خلا ہوا ہے کہ اس کا پُر ہونا ممکن نظر نہیں آتا ہے۔

اللهم اغفر له وا رحمه ونقّه من الخطايا كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس، و أسكنه فسيح جناته۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*