غلام نبی آزاد کی راجیہ سبھا سے وداعی پر مودی جذباتی ہوگئے

نئی دہلی:کانگریس کے رکن راجیہ سبھا غلام نبی آزادؔ کی راجیہ سبھا سے وداعی کے موقع پر آج پی ایم مودی جذباتی ہو گئے۔پی ایم مودی نے غلام نبی کے ساتھ اپنی دوستی کا ذکرکیا اور کشمیر میں دہشت گردی کے ایک واقعے کی داستان سنائی۔مودی نے کہا مجھے یقین ہے کہ ان کی نرمی اور عاجزی ، اس ملک کے لئے کچھ کرنے کی خواہش ، وہ اسے کبھی بھی سکون سے بیٹھنے نہیں دے گی۔ مجھے یقین ہے کہ جو بھی ذمہ داری وہ نبھائیں گے ، اس سے ملک کو فائدہ ہوگا میں ان کی خدمات کے لیے ایک بار پھر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور ذاتی طور پر میں ان سے بھی گزارش کروں گا کہ وہ یہ محسوس نہ کریں کہ آپ اس گھر میں نہیں ہیں میرے دروازے ہمیشہ آپ کے لیے کھلے رہیں گے۔ غلام نبی آزادنے بھی اپنی تقریر میں گجراتی سیاحوں پر حملے کا بھی ذکر کیا ،تو آنسو نکل آئے۔ غلام نبی نے کہا کہ نومبر 2005 میں جب وزیراعلیٰ بناتھا ، میں کشمیر میں دربابر کھولا تو گجرات کے میرے بہن بھائیوں کی قربانی سے مجھے خوش آمدید کہا گیا۔ وہاں عسکریت پسندوں کے استقبال کا یہی طریقہ تھا۔ وہ بتانا چاہتے تھے کہ ہم ہیں ،کسی غلط فہمی میں نہ پڑیں۔ نشاط باغ میں بس پر لکھا تھا کہ وہ گجرات سے ہیں،اس میں 40-50 گجراتی سیاح تھے۔ اس پر دستی بم سے حملہ ہواتھا، وہاں ایک درجن سے زیادہ افراد ہلاک ہو ئے تھے،میں فوراً وہاں پہنچا۔ پی ایم مودی نے وزیر دفاع سے بات کی ، میں نے وزیر اعظم سے بات کی۔ آج ہم خدا سے یہی دعا کرتے ہیں کہ اس ملک سے عسکریت پسندی کا خاتمہ ہو۔خیال رہے کہ جب پیر کو وزیر اعظم مودی راجیہ سبھا میں تقریر کر رہے تھے تو ان کا انداز مختلف تھا۔ اس نے کچھ نئے الفاظ کو بھی کیا تھا، جو کہ حکومت کے منشا ء کی وضاحت کرتے ہیں۔