گذشتہ 10 سالوں کے دوران گٹر اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران 631 لوگوں کی موت ہوئی

نئی دہلی:ملک میں گذشتہ 10 سالوں میں گٹر اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران 631 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ قومی صفائی ملازم کمیشن (این سی ایس کے) نے گٹر اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران 2010 سے مارچ 2020 کے درمیان ہونے والی اموات سے متعلق آر ٹی آئی ایکٹ کے تحت طلب کی گئی معلومات کے جواب میں یہ جانکاری دی ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اس عرصے کے دوران 631 افراد ہلاک ہوئے۔ 2019 میں سب سے زیادہ 115 افراد کی موت ہوئی۔ گزشتہ 10 سالوں میں اس کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات تمل ناڈو میں ہوئی ہے ۔ اس کے بعد اترپردیش میں 85، دہلی اور کرناٹک میں 63-63 اور گجرات میں 61 افراد کی موت ہوئی۔ ہریانہ میں 50 افراد کی موت ہوئی ہے۔اس سال 31 مارچ تک گٹر اور سیپٹک ٹینکوں کی صفائی کے دوران دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ 2018 میں اس کی وجہ سے 73 افراد ہلاک ہوئے تھے اور 2017 میں 93 افراد کی موت ہوئی تھی۔اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں 55 افراد، 2015 میں 62 اور 2014 میں 52 افراد کی موت ہوئی۔ اس کے علاوہ 2013 میں 68 اور 2012 میں 47 اور 2011 میں 37 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 2010 میں 27 افراد کی موت ہوئی۔این سی ایس کے نے بتایا کہ اعداد و شمار مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی معلومات پر مبنی ہے اور حقیقی اعداد و شمار مختلف ہوسکتے ہیں۔آر ٹی آئی کی درخواست کے تحت دی گئی معلومات میں کہا گیا ہے کہ یہ اعدادوشمار اپ ڈیٹ ہونے پر تبدیل ہوتی رہتی ہیں۔ اس سلسلے میں ایک عہدیدار نے بتایا کہ صفائی ریاست کا مضمون ہے اور این سی ایس کے کے پاس ریاستوں اور مرکز کے علاقوں سے متعلق اعداد و شمار موجود ہیں۔