گروگرام: مبینہ گئو رکشکوں کی سرِعام غنڈہ گردی ، بیف کے نام پر نوجوان کی ہتھوڑے سےلنچنگ ، پولیس تماشا دیکھتی رہی 

 

گروگرام:دہلی سے ملحقہ سائبر سٹی گروگرام میں غنڈہ گردی کی ایسی تصاویر منظرعام پر آ ئی ہیں ، جنھیں دیکھ کر دل کانپ اٹھے گا۔ گرو گرام میں جمعہ کو صبح نو بجے کے قریب ، کچھ مبینہ گئئو رکشکوں نے کئی کلو میٹر تک گوشت سے بھری ایک پک اپ گاڑی کا پیچھاکرکے اسے روکا پھر ڈرائیور کو نیچے اتارا اور ہتھوڑے سے پیٹنا شروع کردیا۔ کسی نے موبائل پر اس واقعے کی ویڈیو بنائی۔ جس میں یہ صاف طور پر دیکھا جاسکتا ہے کہ گئو رکشک بیچ سڑک پر ڈرائیور کو کس بے دردی سے مار رہے ہیں اور ہتھوڑے سے اس کا سر کچل رہے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ یہ سب گرگرام پولیس اہلکاروں کے سامنے اور درجنوں لوگوں کی موجودگی میں پیش آیا ، لیکن کسی نے بھی اسے بچانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

این ڈی ٹی وی کی خبر کے مطابق مبینہ گئورکشکوں نے پہلے 8 کلومیٹر تک بادشاہ پور قصبے سے پک اپ گاڑی کا پیچھا کیا اور گروگرام کی جامع مسجد کے قریب اسے پکڑ لیا ، جس کے بعد ڈرائیور کو مسجد کے قریب ہی بے دردی سے مارا پیٹا گیا۔ پک اپ ڈرائیور لقمان کو اٹھانے کرنے کے بعد مبینہ گئو رکشکوں نے اسے اپنی گاڑی میں اغوا کرلیا اور اسے بادشاہ پور واپس لے جاکر پیٹنا شروع کردیا ، اتنے میں بادشاہ پور پولیس آگئی، جس کے بعد پولیس نے لقمان کو بچا لیا اور اسے پولیس وین میں بٹھا کر لے جانے لگی تو گئو رکشک پولیس اہلکاروں کے ساتھ الجھ گئے۔ اس واقعے کے بارے میں اطلاع ملنے کے بعد، سوہنا سے بی جے پی کے ممبر اسمبلی سنجے سنگھ بھی موقع پر پہنچ گئے اور زخمی کو سڑک پر پڑا دیکھتے رہے لیکن کسی نے بھی اسے اسپتال بھیجنے کی زحمت نہیں کی۔

پولیس نے زخمی کو اسپتال پہنچایا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔ زخمی لقمان کے بیان کی بنیاد پر پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف متعدد دفعات میں مقدمہ درج کیا ہے لیکن ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیاگیا ہے۔ گاڑی کے مالک کا دعوی ہے کہ وہ پچھلے 50 سالوں سے گوشت کا کاروبار کررہا ہے اور اس گاڑی میں بھینس کا گوشت لایا جارہا تھا۔ پولیس نے گئو رکشکوں کے خلاف مقدمہ درج کرکے جانچنے کے لئے گوشت کا نمونہ لیب کو بھجوا دیا ہے۔