Home قومی خبریں گریٹ انڈیا فاونڈیشن ٹرسٹ کی جانب سے آوٹ ریچ پروگرام کا انعقاد

گریٹ انڈیا فاونڈیشن ٹرسٹ کی جانب سے آوٹ ریچ پروگرام کا انعقاد

by قندیل

 

نئی دہلی : اسکول سے لیڈر پیدا ہونے چاہیے جو سماج کو بہتر رخ پر لے جائے اور مجموعی طور پر انسانیت کے لیے سوچے اور کام کرے ۔ ان خیالات کا اظہار گریٹ انڈیا فاونڈیشن ٹرسٹ کی جانب سے دہلی کے جامعہ نگر واقع ہوٹل ریور ویو میں منعقدہ ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے فاؤنڈیشن کے چیئرمین اکرام الرحمان فلاحی نے کیا ۔یہ باتیں وہ بہار کی معروف بستی ململ میں ٹرسٹ کی جانب سے قائم ہونے والے ایک نئے اسکول گریٹ انڈیا اکیڈمی کے ذریعے دہلی میں منعقدہ آؤٹ ریچ پروگرام میں کر رہے تھے۔

اس موقع پرجامعہ ملیہ اسلامیہ کے ریٹائرڈ پروفیسر اور اردو اکیڈمی دہلی کے سابق چیئر مین ڈاکٹر خالد محمود نے نئے اسکول کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا اور کہا کہ بنیاد کو مضبوط کرنا ضروری ہے اور اسکول انتظامیہ نے پہلے پرائمری سطح پر تعلیم کا جو منصوبہ بنایا ہے وہ قابل تعریف ہے۔انھوں نے کہاکہ جڑ اگر مضبوط ہو تو آگے کا ڈھانچہ بھی مضبوط اور توانا ہوتا ہے۔ ٹرسٹ کے ذمہ داران اکرام الرحمان فلاحی ، نجم الہدیٰ ثانی ، شاہد جمال ، مہتاب عالم ، ڈاکٹر آفتاب احمد فیصل اور عبد الخالق ندوی وغیرہ نے جو بیج ڈالا ہے وہ تناور درخت میں تبدیل ہوگا اور ایک دنیا اس سے فیضیاب ہوگی۔

معروف ادیب حقانی القاسمی نے کہا کہ ہم ایک ایسے زمانے میں جی رہے ہیں جہاں ہماری آنکھوں سے خواب تک چھین لیے گئے ہیں ایسے میں خوابوں کی آرزو محض ہماری ذمہ داری نہیں بلکہ فریضہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم کو اگر ہم گرفت میں نہیں لیں گے تو خس و خاشاک کی طرح بہہ جائیں گے، اس لئے تعلیم کی خاطر جو لوگ کام کر رہے ہیں وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔صحافی ڈاکٹر یامین انصاری نے کہا کہ کسی بھی تحریک یا ادارہ کی ترقی میں مقامی لوگوں کا اہم کردار ہوتا ہے، اس اسکول کے قائم کرنے والے جس مقصد کو لیکر اٹھے ہیں مقامی لوگوں کو چاہیے کہ وہ جم کر اس کا تعاون کریں، جب گھر کے لوگ اپنوں کی قدر کرتے ہیں تو باہر بھی اس کی عزت افزائی کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر خالد مبشر نے کہا کہ اسکول کے منتظمین نے جس نیک مقصد کی خاطر یہ قدم اٹھایا ہے ، ان کے خلوص سے مجھے پوری امید ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوں گے اور ہم سب کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔ہندی کے معروف ادیب اور مترجم یوگیندر تیاگی نے کہا کہ ایک ایسے ادارہ کی سخت ضرورت تھی جو جدید زمانہ سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے روایت کو بھی نہ چھوڑے مجھے پوری امید ہے کہ یہ ادارہ نیر تاباں ثابت ہوگا اور اس کی روشنی دور دور تک پہنچے گی۔

سروجنی نائڈو سینٹر فار وومن اسٹڈیز سے وابستہ ڈاکٹر ثمن احمد نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں عموما بچیوں کے لیے جہیز اور زیور کے لیے اچھی خاصی رقم خرچ کی جاتی ہے، حالانکہ اگر ہم ان چیزوں میں رقم خرچ کرنے کے بجائے اسے بچیوں کی تعلیم و تربیت میں لگائیں تو اس سے لڑکیوں کے اندر اعتماد پیدا ہوگا اور وہ معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کے قابل بن سکیں گی۔ڈاکٹر رضوان رفیقی نے کہا کہ اس علاقہ میں مقامی خو کے ساتھ ساتھ عالمی رنگ بھی دیکھنے کو ملے گا، کیوں کہ اس کے ذمہ دارن نے دنیا دیکھی ہے اور وہ اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایک اچھے اسکول یا ادارہ کی کیا خصوصیات ہوتی ہیں۔

آل انڈیا ایجوکیشن مومنٹ کے عبدالرشید نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا پڑے گا، ہم دنیا بھر کی چیزوں کے لیے پیسے خرچ کرتے ہیں لیکن تعلیم کے لئے خرچ کرتے ہوئے کتراتے ہیں، ہمیں اس رویہ کو بدلنا ہوگا، تبھی ہم ترقی کریں گے۔دیر رات تک چلنے والے اس پروگرام میں بڑی تعداد میں اہل علم و دانش نے شرکت کی اور اسکول کے قیام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے علاقہ اور پورے ہندوستان کے لیے نیک فال قرار دیا ۔​​

You may also like

Leave a Comment