گوگوئی سے دِشا روی تک ، بات عدلیہ کی ابتری کی ـ شکیل رشید

(ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)
تین موضوع ایسے ہیں جن پر بات کرنی ہے ۔
دشاروی کی گرفتاری، این آرسی اور ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ ۔ ان تینوں کے ساتھ ملک کے سابق چیف جسٹس ، راجیہ سبھا کے ایم پی رنجن گوگوئی کے اس ’ اعتراف‘ کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے کہ ملک میں عدلیہ کا نظام بڑاہی ابتر ہے ۔ اور ملک کی عدالتوں میں بشمول عدالت عظمیٰ ، مقدمے برسہا برس تک پڑے رہتے ہیں ، لہٰذا وہ یعنی رنجن گوگوئی کبھی بھی کسی فیصلے کے لئے سپریم کورٹ کا رخ نہیں کریں گے ۔ سچ کہیں تو رنجن گوگوئی آج ایک ’ مذاق‘ بن کررہ گئے ہیں ۔
’مذاق‘ اس معنیٰ میں کہ ان پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں اور وہ ٹھیک سے اپنا دفاع تک نہیں کرپاتے ہیں! وہ لوگوں کی سُننے پر مجبور ہیں، کیونکہ ملک کے چیف جسٹس کے طور پر انہوں نے جس طرح سے انصاف کا خون کیا تھا اور قانون کو ’مذاق‘بنایا تھا، اس کا دفاع ممکن نہیں ہے ۔ حالانکہ یہ کہہ کر انہوں نے ایک طرح سے اپنے دفاع کی کوشش ضرور کی ہے کہ اگر انہیں وزیراعظم نریندر مودی کی مرکزی سرکار پر ’ سودے بازی‘ کرکے کسی طرح کا ’احسان‘ کرنا ہی ہوتا تو وہ راجیہ سبھا کی سیٹ کا سودا تھوڑی کرتے، ’’راجیہ سبھا کوئی اچھا سودا نہیں ہے ، کوئی بڑا سودا ہوتا ، راجیہ سبھا کا نہیں ۔‘‘ ویسے ان کا یہ دفاع بہت سارے لوگوں کی نظر میں پھسپھسا ہے کیونکہ راجیہ سبھا کی رکنیت کوئی معمولی بات نہیں ہے ، اس کا مطلب وسیع ترین پیمانے پر سرکاری مراعات سے فیض اٹھانا ہے ۔ اور وہ بھی جائز اور قانونی طور پر۔ بتادیں کہ رنجن گوگوئی پر دوالزامات لگتے رہے ہیں اورآج بھی لگ رہے ہیں ، ایک تو یہ کہ انہوں نے رافیل طیاروں کے سودے میں مودی سرکار کو کٹگھڑے میں کھڑا ہونےسے بچائے رکھا۔ اور دوسرا یہ کہ بابری مسجد مقدمہ میں تمام ثبوتوں کے باوجود بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کے لئے ہندوفریقین کو سونپ دی ، اس طرح انہوں نے مرکزکی مودی سرکار کی ہندوتوا کی پالیسی کو بڑا سہارا دیا۔ رافیل معاملہ میں گوگوئی نے مودی سرکار کو ’ کلین چٹ‘ دی تھی جبکہ کانگریس کی طرف سے یہ الزام لگایا جارہا تھا کہ رافیل طیاروں کے سودے میں بدعنوانی کی گئی ہے۔ آج بھی کانگریس اسی موقف پر قائم ہے ۔ جہاں تک بابری مسجد مقدمے کا معاملہ ہے تو لوگ خوب واقف ہیں کہ چیف جسٹس کے طو رپر فیصلہ سناتے ہوئے گوگوئی نے یہ اعتراف کیا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر کسی مندر کے ڈھانچے پر ہوئی ہے ، لیکن اس اعتراف کے باوجود انہوں نے ’’اکثریت کی خواہش‘‘ یا با الفاظ دیگر ’’ اکثریتی آبادی کی آستھا کو مد نظر رکھتے ہوئے ‘‘ بابری مسجد کی زمین ایک مندر کی تعمیر کے لئے ان افراد کو سونپ دی تھی جو اس پر عرصۂ دراز سے جبراً قبضہ جمائے ہوئے تھے۔ تین باتیں مزید ہیں جو گوگوئی کے چیف جسٹس کے دور کو متنازعہ بناتی ہیں ، جن میں ایک تو سی بی آئی کے ڈائرکٹر کو ہٹانے کے فیصلے میں وزیراعظم نریند ر مودی کا ساتھ دینا ہے ، دوسرا الیکٹورل بانڈ کا معاملہ ہے۔ اور تیسرا وہ معاملہ ہے جس کی جانب ترنمول کانگریس کی ایم پی مہوا موئترا نے پارلیمنٹ کی اپنی تقریر میں واضح اشارہ کیا تھا۔ جنسی ہراسانی کے الزام میں بنچ کا قیام اور بنچ کی خود ہی قیادت اور خود ہی کو بری کرنے کا معاملے ۔ اب سپریم کورٹ نے یہ مقدمہ بند کردیا ہے لہٰذا اس پر بہت کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا ، لیکن جو باتیں خود گوگوئی نے کہیں ان پر غور تو کیا ہی جاسکتا ہے ۔
ترنمول کانگریس کی ایم پی مہواموئترا نے پارلیمنٹ کی اپنی تقریر میں گوگوئی کا نام لیے بغیر جنسی ہراسانی کا معاملہ اٹھایا اور یہ کہہ کر کہ جس روز سے ایک چیف جسٹس نے اپنے ہی اوپر لگے جنسی ہراسانی معاملے کی شنوائی کی اور خود کو بری کیا ، اس روز سے عدلیہ ’مقدس گائے‘ نہیں رہ گئی ہے ۔۔۔ اس پر بات کرتے ہوئے گوگوئی نے تین باتیں کہیں (۱) وہ کوئی شکایت لے کر سپریم کورٹ نہیں جائیں گے کیونکہ وہ عرصۂ دراز تک کسی فیصلے کا انتظار نہیں کرسکتے (۲) اگر کوئی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو وہ عوام میں بس اپنی ہی پول کھولتا ہے اور کوئی فیصلہ بھی نہیں آتا ، اور (۳) یہ ملک پانچ ٹریلین کی معیشت تو چاہتا ہے مگر یہاں عدلیہ کا حال ابتر ہے ، دگرگوں ہے ۔ سچ کہا جائے تو گوگوئی نے کچھ غلط بھی نہیں کہا ہے ۔بابری مسجد پر انہوں نے جو فیصلہ سنایا ، اسے سنانے میں 71 برس لگ گئے ۔ انصاف کی گُہار لگانے والے نہ جانے کتنے لوگ اس جہان سے چلے گئے ۔ لیکن ایک سچ یہ بھی ہے کہ رافیل معاملے پر گوگوئی کا فیصلہ ’ جھٹ پٹ‘ تھا۔ گوگوئی کی بات سے یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ فیصلہ دینے میں تاخیر اور عجلت کا معاملہ عدلیہ کے ہاتھ میں نہیں ہے ، یہ سیاسی فیصلے ہوتے ہیں ۔ کانگریس کی سرکار بابری مسجد کے معاملے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی رہی اس لئے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ، بی جے پی کی سرکار بابری مسجد معاملے میں بھی اور رافیل معاملے میں بھی ’ جھٹ پٹ‘ فیصلہ چاہتی تھی لہٰذا فیصلہ فوری ہوگیا۔ایک طرح سے دیکھا جائے تو گوگوئی نے مہواموئترا کی بات کی تائید کردی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ گزرے ہوئے دنوں میں عدلیہ کچھ حد تک ’مقدس گائے‘ تھی ، فیصلے حکومتوں کے خلاف بھی ہوتے تھے ، محترمہ اندراگاندھی کے خلاف عدالت کا فیصلہ اس کا ایک ثبوت ہے ۔ اب عدلیہ کا تقدس تقریباً ختم ہوگیا ہے۔
ماحولیاتی اِکٹوسٹ دشاروی کی گرفتاری کا معاملہ لے لیں۔ یہ سوال اٹھ رہا ہیکہ کیا عدلیہ کو نہیں چاہئے تھا کہ 22سالہ دشاروی کو گرفتار کرنے والی دہلی پولس کی سرزنش کرتی؟ یہ گرفتاری اپنے پیچھے کئی سوال چھوڑ گئی ہے۔ دہلی کی پولس بنگلورو پہنچی تھی اور وہیں سے دشاروی کو گرفتار کرکے دہلی لے گئی تھی ، مگر دہلی لے جانے کے لئے ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کئے بغیر۔۔۔ یہ سوال اٹھ رہا ہیکہ کیوں دہلی پولس نے ایک قانونی کارروائی ، جسے پورا کیا جانا چاہیئے تھا ، پوری نہیں کی تھی؟ یہ سچ ہے کہ کسی کرمنل معاملے میں ٹرانزٹ ریمانڈ کا حاصل کرنا لازمی نہیں ہے لیکن دہلی ہائی کورٹ نے اس تعلق سے کچھ گائیڈ لائنس تیار کی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ گرفتار کئے جانے والے شخص کے وکیل سے’صلاح ومشورہ‘ کیا جائے ۔ دہلی پولس نے دشاروی کے وکیل کو صرف ’اطلاع‘ دی تھی کوئی ’صلاح ومشورہ‘ نہیں کیا تھا۔۔۔ ٹول کٹ کو لے کر طرح طرح کے سوال اٹھ رہے ہیں ، سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ٹو ل کِٹ’گوگل‘ پر عام ہے اسے کیسے ’حساس‘ قرار دیا جاسکتا ہے ؟ پھر یہ ٹول کِٹ خود دشاروی کا نہیں تھا ، یعنی دشاروی کا ٹول کِٹ سے کوئی راست تعلق نہیں ہے لہٰذا یہ کہنا کہ دشاروی قصوروار ہے ، کیسے درست ہوگیا؟
مذکورہ سوالوں کا ایک جواب معروف دانشور اور مورخ رام چندر گوہا کے اس سوال میں پوشیدہ ہے کہ 21سال کی ایک عورت ، جو کرۂ ارض کو صاف اور محفوظ رکھنے کے لئے سرگرم ہے اسے کیوں ہندوستانی سرکار نے گرفتار کیا ہے ؟ اس سوال کا ایک جواب ، کئی دوسرے جوابوں کے ساتھ، رام چندرگوہا یہ دیتے ہیں کہ مودی اور شاہ کی یہ جو حکومت ہے ، وہ لوگوں کی آزادانہ سوچ سے خوف کھاتی ہے اور یہ سچ بھی ہے ،آج اس ملک میں ہر اس شخص پر بجلی گررہی ہے جو مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر بالخصوص اس کی ہندوتوا کی پالیسی پر انگلی اٹھارہا ہے ۔ دانشوروں سے لے کر ، حقوق انسانی کے کارکنان، ادباء وشعراء ، وکلاء فنکاروں اور صحافیوں تک کو سلاخوں کے پیچھے ڈھکیل دیا گیا ہے کیونکہ وہ ’ بولتے ‘ تھے اور اپنی ایک ’آزاد سوچ‘ رکھتے تھے۔ یہ حکومت اب ’ سوچ‘ کو بھی ’قید‘ رکھنے کے درپے ہے اور عدلیہ کچھ نہیں کرپارہی ہے ۔ یو اے پی اے لگاکر لوگوں کی ’ذاتی آزادی‘ چھین لی گئی ہے ۔ ارنب گوسوامی جیسے زہریلے صحافیوں کو تو یہ حق حاصل ہے کہ ’ ذاتی آزادی‘ کے نام پر سلاخوں سے باہر نظر آئیں لیکن وروراء راو، اسٹین سوامی او رصدیق کپّن جیسے لوگوں کے لئے ’ذاتی آزادی‘کا حق ، مانوکہ حق ہی نہیں ہے۔ ملک کے نوجوانوں پر اب یہ حربہ آزمایا جارہا ہے ، انہیں آزاد سوچ سے محروم کرنے کے لئے ہر طرح کا جبر روا ہے ۔ سب کی سوچ کو ’قید‘ کرنا اس حکومت کا اولین مقصد بن گیا ہے۔ این آر سی کے نام پر کس طرح سے بنگالی مسلمانوں کے خاندانوں کو برباد کیا جارہا ہے ، اس پر حال ہی میں ایک رپورٹ ’ کاروان‘ میں شائع ہوئی ہے ۔ پوری کوشش کی جارہی ہے کہ کوئی اس جبر پر زبان نہ کھول سکے ۔ ایک رپورٹ ابھی کل جمعہ کو ’ہیومن رائٹس واچ‘ نے جاری کی ہے جس میں صاف لفظوں میں لکھا گیا ہے کہ مودی سرکارکی پالیسیاں اور سرگرمیاں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لئے ہیں ۔ اس پر جو بھی زبان کھول رہا ہے اس کی زبان بند کی جارہی ہے ۔ عدلیہ سب دیکھ رہی ہے ، سی اے اے جیسے غیر جمہوری اور غیر آئینی قانون کا منظور کیا جانا ، این آر سی کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر لاٹھیوں کا برسنا، لوجہاد کے نام پر مسلمانوں کو جیلوں میں ٹھونسنا اور زرعی قوانین کو جبراً کسانوں پر لادنے کے لئے کبھی سکھ کسانوں کو خالصتانی قرار دینا اور کبھی احتجاجی کسانوں پر یرقانی غنڈوں کو چھوڑ دینا اور کبھی ان کے خلاف پولس کارروائی کرنا۔ اور کشمیر سے آرٹیکل 371 ہٹاکر کر کشمیری عوام کی کشمیریت کو چھین کر ان پر دوسروں کو مسلط کرنے کی کوشش کرنا ، عدلیہ خاموش ہے ۔ مذکورہ معاملات پر سپریم کورٹ میں جو عرضیاں پڑی ہوئی ہیںان پر غوروخوض کے لئے فرصت نہیں مل رہی ہے۔ گوگوئی نے سچ ہی کہا کہ کون عرصہ دراز تک فیصلے کا انتظار کرے ، عدلیہ کی حالت ابتر ہے۔ تو پھر کیا کیا جائے ؟ کیا عدلیہ پر سے اعتبار مکمل ختم کردیا جائے ؟ اس سوال پر عدلیہ ہی غور کرے اور کسی نتیجے پر پہنچے تو بہتر ہوگا ۔