گلوبل جھارکھنڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام مشاعرہ کا انعقاد

ریاض:ریاض سعودی عرب میں ۳۱ دسمبر جمعرات کی شب گلوبل جھارکھنڈ ویلفیئر ایسو سی ایشن (گجوا)ریاض کے زیر اہتمام ایک شاندار مشاعرہ کا انعقادکیا گیا ،جس کی صدارت سابق عرب نیوز کے بیورو اور ڈپلومیٹ میگزین کے ایڈیٹر غضنفر علی نے کی جب کہ مسند اعزاز پر سید این مسعود اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے ڈاکٹر دلشاد جلوہ افروز تھے ،نظامت کے فرائض معروف شاعر اور صحافی منصور قاسمی نے انجام دیئے ۔
رسم چراغاں اور مہمانوں کو گلدستہ پیش کرنے بعد مشاعرے کا باضابطہ آغازمنصور قاسمی نے کی تلاوت کلام اللہ سے کیا ، اس کے بعد نعت پاک کی سعادت کے لئے دانش ممتاز کو آواز دی ۔پھرافتتاحی کلمات پیش کرنے کے لیے گجواکے مؤسس ڈاکٹر تنویر عالم کو مدعو کیا ۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا:ہم چاہتے ہیں کہ اپنے صوبہ جھارکھنڈ کے لئے کچھ فلاحی کام کریں ؛لیکن ریاض میں مقیم اہل جھارکھنڈ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں ہے سو امید کرتے ہیں ہمارے ساتھ قدم سے قدم ملا کرآپ سب چلیں گے۔عرب نیوز کی رائٹر اورگجوا کی روح رواںشاہ زین ارم نے گلوبل جھارکھنڈ کے قیام کے اغراض و مقاصد اور عزائم پر گفتگو کرتے ہوئے رمضان میں غریبوں کے درمیان افطاری کٹ کی تقسیم ، کورونا سے متاثرین کی مدد ، وندے بھارت مشن کے ذریعے لوگوں کو بھارت بھیجنے کا کام اور موسم سرما میں ضرورت مندوں میں کمبل کی تقسیم کا تفصیل سے ذکر کیا۔ مہمان خصوصی ڈاکٹر دلشاد نے کہا : مؤسسین گجوا میں خدمی خلق کا جذبہ ہے ،ویلفیئر کا کام کم وقتوں میںبہت اونچائی تک پہنچا دیاتاہم ایجوکیشن کے لئے بھی دھیان دینا پڑے گا ، جھارکھنڈ ایجوکیشن میں بہت پیچھے ہے ۔مہمان اعزازی سید این مسعود نے گجوا کے اراکین کو سراہتے کو مبارکبادی پیش کی ۔ صدر محفل غضنفر علی نے کہا: یہ مشاعرہ معیار کے اعتبار سے عالمی مشاعرہ سے کہیں بھی کم نہیں تھا ، بہترین اور بے حد عمدہ کلام ،شعراء کو داد دیتا ہوں ۔گجوا کے حوالے سے کہا:ریاض کی تنظیموں کا جب ذکر آئے گا توگلوبل جھارکھنڈ ویلفیئر ایسوسی ایشن کا ذکر ضرور ہوگا اس کے ساتھ یہ بھی لکھا جا ئے گا کہ اس کا فاؤنڈر ایک عورت تھی۔ دیگر خطاب کرنے والوں میں رضی احمد ، عبدالنعیم قیوم اور عبدالباسط معاذ کا نام نمایاں طور پرلیا جا سکتا ہے ۔
مشاعرہ میں جن شعراء نے شرکت کے ان کے اسماء گرامی ہیںظفر محمود ، ابوطاہر بلال ، منصور قاسمی ، حسان عارفی اور ممتاز دانش ۔ اہل ذوق کی دلچسپی کے لئے منتخب اشعار پیش خدمت ہیں ۔
دعا سلام کا جب جب بھی ہم ارادہ کریں
خلوص قلب رکھیں اور کلام سادہ کریں
دانش ممتاز
چاند اس کے گھر کی جانب سے نکلتا دیکھ کر
ایک توتنہا تھے پہلے او ر تنہا ہو گئے
حسان عارفی
کبھی تو سرحدیں ٹوٹیں گی بد گمانی کی
ملے گا پھر سے مرا نام ان کے نام کے ساتھ
منصور قاسمی
راستے ویسے بھی دشوار نظر آتے ہیں
چل پڑو رہ پہ تو ہموار نظر آتے ہیں
طاہربلال
وہ گہرائی کی باتیں کررہا ہے
جو دریا میں کبھی اترا نہیں ہے
ظفر محمود
شاہ زین ارم کے کلمات تشکر کے ساتھ دیر رات مشاعرہ اختتام کو پہنچا ، جس کے بعد حاضرین لذت کام و دہن سے مستفید ہوئے ۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*