گری راج سنگھ نے بہار میں بھی لوجہاد پر قانون بنانے کا مطالبہ کیا،جے ڈی یو نے کہا:ہم ایسے بیان پرتوجہ نہیں دیتے

پٹنہ:بہارمیں حکمراں جے ڈی یونے بی جے پی کے لیڈر، ممبرپارلیمنٹ اورمتنازعہ بیانات کے لیے مشہورگری راج سنگھ کے مبینہ لوجہادسے متعلق بیان سے دوری بنالی ہے۔جے ڈی یوکوبی جے پی کی کئی پالیسوں کی تائیدبہت مہنگی پڑی ہے۔الیکشن میں اس کے سبھی گیارہ مسلم امیدوارہارگئے اورمسلم طبقہ نتیش کمارسے سخت ناراض رہا،سی اے اے پرووٹنگ ہو،یاطلاق بل پرواک آؤٹ کرکے بل کی منظوری کی راہ ہموارکرناہویااردوکی لازمیت پربہارسرکارکانوٹیفکیشن ہو،اس پرنتیش کمارکومسلم ووٹروں نے اچھاخاصادھچکادیاہے۔جدیونے کئی مسلم لیڈروں کومسلمانوں کے درمیان بھیجابھی،لیکن مسلم سماج نے ان کی ایک نہیں سنی ۔اسی لیے جدیوپھونک پھونک کرقدم رکھ رہی ہے۔ بی جے پی لیڈرگری راج سنگھ نے بہارمیں لوجہاد سے متعلق قانون کا مطالبہ کیا تھا۔ گری راج سنگھ کے بیان پر جنتا دل یونائیٹڈ نے ہفتے کے روز میڈیاسے گفتگومیں کہاہے کہ آپ لوگوں کوایسے بیان پربحث نہیں کرنی چاہیے۔ مرکزی وزیر گر ی راج سنگھ نے کہاہے کہ بہار حکومت کو بھی مدھیہ پردیش جیسا قانون لاناچاہیے۔ جدیوکی بہار یونٹ کے صدر وششٹھ نارائن سنگھ نے دو ٹوک الفاظ میں کہاہے کہ آپ اس طرح کے بیانات پربحث نہ کریں ، اگراس طرح کا بیان کبھی آتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اسے سرخیاں بنائیں۔ پارٹی کے دفترمیں منعقدہ پریس کانفرنس میں وششٹھ نارائن سنگھ نے گری راج سنگھ کے مطالبات سے اتفاق نہیں کیا۔ انہوں نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ ان کی پارٹی اس طرح کے بیانات پر توجہ نہیں دیتی ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ نے اشارہ دیا ہے کہ گری راج سنگھ کے بیانات سے اس پراثرنہیں ہوگا۔پارٹی مستقبل میں متنازعہ امورپربی جے پی سے دور رہنا چاہتی ہے۔