غلامی-خلیل جبران

ترجمہ: نایاب حسن

(1)
لوگ زندگی کے غلام ہوتے ہیں،یہی غلامی ان کے دنوں کو ذلت و مسکنت سے اور راتوں کوآنسووں اور خون سے لبریز کردیتی ہے۔اب دیکھیے ناکہ میری پیدایشِ اولین پر ستر ہزارسال کا عرصہ گزرچکاہے اور میں نے اب تک شکست خوردہ وپابہ زنجیرغلاموں کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ میں نے روے زمین کے مشرق و مغرب کے چکر لگائے،زندگی کی دھوپ چھاؤں میں گھومتا رہا،غاروں سے لے کر محلوں تک کا سفر کرتے ہوئے قوموں کے قافلے دیکھے؛لیکن ان سب میں مجھے محض بوجھ تلے دبی ہوئی گردنیں ،زنجیروں میں جکڑے ہوئے دست وپاواور گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ذلیل لوگ نظر آئے۔
میں نے بابل سے پیرس اور نینویٰ سے نیویارک تک کے انسانوں کا پیچھاکیااور ریت پر اس کے نقوشِ قدم کے ساتھ اس کی قید کے اثرات بھی دیکھے،وادیوں اور جنگلات سے نسلوں اور صدیوں کے نوحوں کی بازگشت سنی۔
میں محلوں،تعلیم گاہوں اور عبادت خانوں میں گیا،تختۂ شاہی،قربان گاہوں اور منبروں پر کھڑاہوا،تودیکھا کہ کاری گر تاجر اور صنعت کار کاغلام ہے،تاجر فوجی کا غلام ہے،فوجی مذہبی کاہنوں کا غلام ہے،مذہبی کاہن بتوں کا پجاری ہے اور بت تومٹی کا ڈھیرہے،جسے شیطان نے جنم دیا اوراسے مردہ سروں کے ٹیلوں پر رکھ دیاہے۔
میں طاقت وراور مالدارلوگوں کے گھروں اور کمزور و فقیر انسانوں کی جھونپڑیوں میں گیا،ہاتھی دانت اور سونے سے سجی ہوئی پرفریب کوٹھریوں اور مایوسی وموت کے سایوں سے بھرے ہوئے کے ٹھکانوں پر گیا،تومیں نے دیکھاکہ بچوں کو دودھ میں غلامی ملاکر پلایاجارہاہے،حروفِ تہجی کے ساتھ انھیں غلامی اور ذلت کی بھی تعلیم دی جارہی ہے،بچیاں لباس کے ساتھ خود سپردگی کاپیراہن بھی پہن رہی ہیں اور عورتیں صرف طاعت و فرماں برداری کے بستر پر سورہی ہیں۔
میں نے گنگاکے کنارے سے ساحلِ فرات اور نیل کے سرچشمے سے لے کر جبلِ سینا،یونان کے میدانوں سے لے کر روم کے کنیسوں،قسطنطنیہ کی گلیوں سے لے کر لندن کی بلندوبالا عمارتوں میں بسنے والی نسلوں کوآبزرو کیاہے۔ میں نے دیکھاکہ ان تمام مقامات پر غلامی اپنے قاتل جلوس کے ساتھ چلتی ہے اوراسے لوگ خدامان لیتے ہیں،اس کے قدموں پرشراب واموال بہاتے ہیں ،کبھی اسے فرشتہ کہتے ہیں،پھراس کی مورتی کے سامنے دھونی دیتے ہیں ،کبھی اسے نبی بنالیتے ہیں،اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہیں ،کبھی اسے مذہب کانام دے دیتے ہیں،پھراسی کے لیے آپس میں لڑتے مرتے ہیں،کبھی اسے قوم پرستی کہتے ہیں،پھر اس کی مشیئت کے سامنے سرتسلیم خم کردیتے ہیں اوراسے روے زمین پر اللہ کاسایہ قراردیتے ہیں،پھر اس کے کہنے پر ایک دوسرے کے گھر بار تباہ کردیتے ہیں ۔ کبھی اسے بھائی چارے کانام دیتے ہیں،پھر اسی کے لیے سخت محنت ومشقت کرتے ہیں ،کبھی اسے مال اور تجارت کانام دیتے ہیں۔الغرض یہ سب مختلف نام مگر ایک ہی حقیقت ہے اور ایک ہی جوہر کے مختلف پہلو ہیں،بلکہ یہ ایک دائمی بیماری ہے جو مختلف بیماریوں اور رِستے ہوئے زخموں کا سبب بنتی ہے اور لوگوں میں زندگی کی طرح یہ بیماری بھی نسلاً بعد نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ کھیتی کی فصلوں کی طرح اس کی بیج بھی ایک زمانے سے دوسرے زمانے اورایک فصل سے دوسری فصل میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔
(2)
غلامی کی جن عجیب و غریب شکلوں کومیں نے دیکھا،ان میں سے ایک اندھی غلامی ہے۔ یہ وہ ہے جو دورِ حاضر کے لوگوں کوان کے آباواجدادکے کھونٹے سے باندھ دیتی ہے،انھیں گزشتہ لوگوں اور با پ داداؤں کی رسموں ،رواجوں کے تابع کردیتی ہے اوروہ لوگ ایسے ہوجاتے ہیں،گویا قدیم آتماؤں کے جسم اوربوسیدہ ہڈیوں کی قبروں کے ڈھیرہوں۔
گونگی غلامی،یہ وہ ہے جو مرد کی زندگی کوایسی بیوی کے دامن سے باندھ دیتاہے جسے وہ پسند نہیں کرتا اور عورت کے جسم کو ایسے شوہر کے بستر پر ڈال دیتاہے جسے وہ پسند نہیں کرتی اور ان دونوں کی زندگیوں کو ایک دوسرے سے اس طرح مربوط کردیتی ہے جیسے کہ جوتا اور پاؤں ۔
بہری غلامی، یہ وہ غلامی ہے جو لوگوں کو اپنے گردوپیش اور ماحول کے آداب و اطوار کا پابند ،اس کے رنگوں میں رنگنے والا،اس کے طرزِرہایش و پوشش کواپنانے والا بنادیتی ہے،پس ان کی اپنی حیثیت محض صداے بازگشت کی ہوتی ہے اور ان کے اجسام سایوں کی طرح ہوتے ہیں،جن کا خارج میں اپنا کوئی وجودنہیں ہوتا۔
لنگڑی غلامی،یہ وہ غلامی ہے جو بڑے بڑے تیس مار خانوں کو چال بازوں کے جال میں پھنسادیتی ہے،طاقت ور لوگوں کو ایسے لوگوں کی گرفت میں دے دیتی ہے جو شہرت وعزت کی تلاش میں سرگرداں ہوتے ہیں،پس ان کی حیثیت ایسے آلات کی ہوجاتی ہے جنھیں انگلیاں حرکت دیتی ہیں،پھر روک دیتی ہیں اور کام ختم ہونے کے بعد انھیں توڑ دیتی ہیں۔
سفید(مائل بہ سیاہی)غلامی،یہ وہ غلامی ہے جو بچوں کی روحوں کو وسیع تر فضاؤں سے لیتی اور حرماں نصیبی و تیرہ بختی کی آماجگاہوں میں لا ڈالتی ہے،جہاں غباوت کے ساتھ فقر و تنگ دستی اور مایوسی کے ساتھ ذلت و مسکنت اپنا پنجہ گاڑے ہوتی ہے،ایسے بچے محرومی کی حالت میں بڑے ہوتے،مجرم بن کر زندگی گزارتے اور ذلت کی موت مرتے ہیں۔
سیاہ(مائل بہ سفیدی)غلامی،یہ وہ غلامی ہے جو چیزوں کو ان کی اصل قیمت کے عوض نہیں خریدتی،اشیاکے نام فی الحقیقت کچھ ہوتے ہیں اور وہ انھیں کوئی اورنام دیتی ہے،پس یہ مکروفریب کو ذہانت سے تعبیر کرتی،بکواس گوئی کو علم ریزی کہتی،کمزوری کونرمی اور بزدلی کو خودداری کانام دیتی ہے۔
ٹیڑھی غلامی،یہ وہ غلامی ہے جو خوف زدہ وکمزورلوگوں کی زبانوں کو حرکت دیتی ہے،تو وہ بے سوچے سمجھے بولتے ہیں، سوچتے کچھ ہیں اورکرتے کچھ اور ہیں،ذلت و مسکنت کے سامنے ان کی حیثیت کپڑے جیسی ہوجاتی ہے،جسے وہ جب چاہے لپیٹ دیتی اورجب چاہے بکھیر دیتی ہے۔
کبڑی غلامی،یہ وہ ہے جو ایک قوم کو دوسری قوموں کی روایات و قوانین کے تحت چلاتی ہے۔
خارش زدہ غلامی،یہ وہ ہے جو شاہزادوں کومحض نسل ونسب کی برتری کی بناپرتاجِ شاہی پہناتی ہے۔
کالی غلامی،یہ وہ ہے جومجرموں کی معصوم و بے گناہ اولاد پر عاروندامت کادائمی ٹھپہ لگادیتی ہے۔
(3)
ان مختلف نسلوں کا پیچھاکرتے کرتے جب میں بورہوگیااوران قوموں کے جلوسوں کو دیکھ دیکھ کرتھکن محسوس ہونے لگی،تومیں وادیِ خیال میں تنہا جا بیٹھا،جہاں زمانۂ گزشتہ کے سایے اور آیندگاں کی روحیں قیام کرتی ہیں۔ وہاں میں نے ایک کمزور سے سایے کو دیکھاکہ وہ تن تنہا سورج کوگھورتے ہوئے چل رہاہے،میں نے اس سے سوال کیا:
تم کون ہو؟تمھارانام کیاہے؟
تواس نے کہا:
میں آزادی ہوں۔
میں نے پوچھا:
تمھاری اولادیں کہاں ہیں؟
تواس نے کہا:ایک کو توتختۂ دار پر چڑھادیاگیا،دوسرا پاگل ہوکر مرا،تیسراابھی پیدا نہیں ہوا ہے۔
پھر وہ دھند کے دبیزپردوں میں چھپ کرمیری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*