غلامانہ ذہنیت کے اسیر ہندوستانی-مسعود جاوید

ایک عرصہ سے میں یہ واقعہ لکھنا چاہ رہا تھا لیکن نہیں لکھا مگر ان دنوں ہندوستان میں نمودار ہونے والے بعض واقعات کی اس واقعہ سے مماثلت نے آج لکھنے پر مجبور کر دیا۔ ہوا تھا کچھ یوں کہ میرے ایک یوروپین دوست میاں بیوی دہلی آۓ میں نے حسب استطاعت ضیافت کی اور چند سیاحتی مقامات کی سیر کے لئے دہلی اور دہلی سے باہر لے کر گیا تھا۔ ظاہر ہے وہ خلیج میں ہمارے ساتھ کام کرتے تھے کلیگ تھے اس لئے اخراجات اٹھانے کا شرف بھی مجھے حاصل تھا لیکن ہوٹل ہو یا ریستوراں ، ان کے اسٹاف ہر جگہ ان کی آؤ بھگت کرتے تھے اور مجھے ذرہ برابر قابل اعتناء نہیں سمجھتے تھے۔ میں سمجھا شاید ان کی گوری چمڑی کا کمال ہے۔ پھر دوران قیام ہند اسی نوعیت کے کئی واقعات کا مشاہدہ کیا کہ نہ صرف ان سیاحتی مقامات پر بلکہ سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں بھی اگر ایک شخص انگریزی میں فراٹے کے ساتھ امریکن یا بریٹش ایکسنٹ میں اپنا ما فی الضمیر ادا کرتا ہے تو لوگ اس سے مرعوب ہوتے ہوئے انہیں اور ان کے کا م کو ترجیح دیتے ہیں اس کے مقابل اس سے زیادہ علمی صلاحیت والے شخص کو بعض اوقات انگریزی نہ بولنے کی وجہ سے قابل اعتناء نہیں سمجھا جاتا۔
اسی طرح حکومت کا رویہ ان دنوں دیکھنے میں آرہاہے غیر ملکوں میں مقیم ہندوستانیوں کو ہوائی جہاز اور شپ سے لانے کے لئے وندے بھارت مشن شروع کیا گیا جبکہ غیر مقیم ہندوستانیوں کی آمدنی ٹیکس سے مستثنی ہوتی ہے اور ووٹ دینے سے بھی وہ مستثنیٰ ہیں۔ ان کے لئے اس قدر اہتمام کیا جاتا ہے مگر دوسری طرف ووٹ دینے والے ہندوستانی جو مالی اعتبار سے کمزور ادنی اور متوسط طبقے کے محنت کش افراد ہیں روزی روٹی کمانے کے لئے اپنے چھوٹے شہروں اور گاؤں سے بڑے شہر ہجرت کۓ لاک ڈاؤن اعلان کرنے سے قبل ان کو مہلت نہیں دی گئی کہ وہ اپنے منزل مقصود تک پہنچ سکے اور نہ بعد میں ان کو پہنچانے کا کوئی نظم کیا گیا اور جب وہ لاک ڈاؤن کی صورت حال سے مجبور ہوکر اپنے گھروں کو واپس ہونے کو مجبور ہوۓ تو انہیں بے یار و مددگار پندرہ سو اور ہزار ہزار میل پیدل چلنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔
دو روز قبل ایک پوسٹ شیئر کیا تھا "سینڈوچ” جس میں غلامانہ ذہنیت نمایاں ہے کہ کس طرح کوٹہ میں پڑھنے والے لڑکے لڑکیاں اور بعض کے ساتھ ان کے والدین، اسپیشل ٹرین سے پٹنہ ریلوے اسٹیشن پہنچتے ہیں اسٹیشن پر ڈی ایم ، ایس پی اور ذمہ دارن نظم و نسق ان کا استقبال کرتے ہیں صاف ستھرےہال میں پھل فروٹ مینرل واٹر جوس اور سینڈوچ بطور ریفریشمنٹ انہیں پیش کیا جاتا ہے اور تھوڑی ہی دیر میں دوسری اسپیشل ٹرین دہلی سے مزدوروں محنت کشوں کو لے کر آتی ہے ان کے استقبال کے لئے کوئی بڑا افسر ہے نہ کھانے پینے کا وہ نظم۔ لنگر کی طرح کسی ہال میں بٹھا کر دال بھات سبزی پروس دیا گیا !
کیا یہ مرعوبیت والا مزاج ہمیں انگریزوں سے ورثہ میں ملا ہے؟ "انڈین اینڈ ڈاگ ناٹ الاؤڈ” ! جس طرح وہ ہندوستانیوں کو انسان کا درجہ نہیں دیتے تھے اسی طرح آج کے ” بابو صاحب” اور سرکاری مشینری پولیس اور اسٹاف عموماً کم تعلیم یافتہ محنت کشوں کو برابر کا شہری کا درجہ دینے کو راضی نہیں ہیں۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں)