گجرات سے آنے والے مزدوروں سے بھی کرایہ لیاگیا،ہیمنت سورین کا اعتراض

احمدآباد:مرکزی وزیرپرکاش جاوڈیکردعویٰ کررہے ہیں کہ انھی ریاستوں میں مزدوروں سے پیسے لیے جارہے ہیں جہاں غیربی جے پی حکومت ہے لیکن مزدوروں کادعویٰ کچھ اوربھی ہے۔بی جے پی کے زیراقتدارگجرات کے سورت سے جھارکھنڈ آئے 1200 مزدوروں نے بھی ریلوے کرایہ دیا۔ لاک ڈاؤن کے درمیان پھنسے ہوئے ان مزدوروں کے پاس سورت میں کھانے پینے کاٹھکانا نہیں تھا توبھلا اپنے گاؤں کس طرح ٹرین کے ذریعے سفر کر پاتے۔بہت سے لوگوں نے اپنے گاؤں سے روپے منگائے تھے توکسی نے اپنے مالک سے قرضے لیے تھے۔ ان مزدوروں سے سفر کے لیے 700-700 روپے لیے گئے۔کیرالہ کے ترواننت پورم سے 1129 مزدوروں کوگروپ لے کر خصوصی ٹرین پیر کی شام دیوگھر کے جسیڈیہ اسٹیشن پہونچی۔ ان میں سے زیادہ تر مزدور سنتال پرگنہ کے رہنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ صاحب گنج، پاکڑ، گڈا، گریڈیہہ، گڑھوا، لاتیہار، رام گڑھ، دھنباد اور گملا ضلع کے رہنے والے ہیں۔ ان تمام مزدوروں سے ریل کرایہ لیاگیاتھا۔گھر لوٹے ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ ایک ایک مزدور سے 875 روپے بطور کرایہ وصول کیاگیاتھا۔بہتوں کو تو ٹکٹ کی رقم کاانتظام کرنے میں بھاری مشقت کاسامنا کرنا پڑا۔اسٹیشن پہنچنے کے بعد تمام مزدوروں کوبس سے متعلقہ اضلاع میں بھیجاگیا۔اس دوران جھارکھنڈکے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے ریلوے پر بڑا سوال کھڑاکیاہے۔ انہوں نے کہاہے کہ ریلوے نے پی ایم راحت فنڈ میں 150 کروڑ روپے دیے ہیں۔کہیں یہ پیسے مزدوروں سے لے کر تو نہیں دیے گئے ہیں۔ اگرایساہے توحیرت کاموضوع ہے۔ مزدوروں سے ریل کرایہ لینے کی خبروں پر سی ایم ہیمنت سورین نے یہ بات کہی تھی۔