گزشتہ چھے برسوں میں 16آئی آئی ٹی اور8ایمس بنائے،میسور یونیورسٹی کے کانووکیشن میں مودی کادعویٰ

نئی دہلی:وزیر اعظم نریندر مودی نے آج میسور یونیورسٹی کے صد سالہ کانووکیشن 2020 سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے خطاب کیا۔اس موقع پر وزیر اعظم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میسور یونیورسٹی ، قدیم ہندوستان کے عظیم نظام تعلیم ، آئندہ ہندوستان کی امنگوں اور صلاحیتوں کا مرکز ہے اور اس نے راج رشی نلوادی کرشناراجا وڈیار اور ایم ویس واریا جی کے وژن کو سمجھا ہے۔انہوں نے بھارت رتن ڈاکٹر سروپلی رادھا کرشنن جی جیسے عظیم شخص کا حوالہ دیا۔جو اس یونیورسٹی میں پڑھاتے تھے۔وزیر اعظم نے طلباء کو تعلیم کے ذریعے حاصل کردہ اپنے علم کو ان کی حقیقی زندگی کے مختلف مراحل پر استعمال کرنے کی تاکید کی۔ انہوں نے حقیقی زندگی کو ایک عظیم یونیورسٹی قرار دیا جو مختلف طریقوں سے تعلیم دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مستقل کوششیں کی جارہی ہیں تاکہ ہندوستان کا تعلیمی نظام 21 ویں صدی کی ضروریات کو پورا کرے جہاں بنیادی ڈھانچہ تخلیق اور ساختی اصلاحات پرخصوصی توجہ دی جائے۔ انہوں نے کہاہے کہ ہندوستان کو اعلی تعلیم کا عالمی مرکزبنانے اور اپنے نوجوانوں کو مسابقتی بنانے کے لیے معیار اور مقدار کی سطح پر کوششیں کی گئیں۔وزیر اعظم نے کہاہے کہ آزادی کے اتنے سال گزرنے کے بعد بھی ، 2014 میں ملک میں صرف 16 آئی آئی ٹی تھے۔ پچھلے 6 سالوں میں ، اوسطاً ہر سال ایک نیاآئی آئی ٹی کھولا گیا ہے۔ ان میں سے ایک کرناٹک ، دھارواڈ میں بھی ہے۔ انہوں نے مزیدکہاکہ 2014 تک ملک میں صرف 9 آئی آئی ٹی ، 13 آئی آئی ایم اور 7 ایمس تھے۔ جبکہ اس کے بعد کے 5 سالوں میں ، 16 آئی آئی ٹی ، 7 آئی آئی ایم اور 8 ایمس یاتوقائم ہوچکے ہیں یا ان کے قیام کاعمل جاری ہے۔