27.7 C
نئی دہلی
Image default
خاص کالم

غبارخاطرکا اسلوب

       عبدالباری قاسمی

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرتؔ میں کچھ مزا نہ رہا
اس شعر کو پڑھ کر ہی بیسویں صدی کے مایہ ناز انشاپرداز، صحافی اور سیاست داں ــــمحی الدین ابولکلام آزاد کے اسلوب تحریر اور طرز نگارش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مولانا آزاد جہاں ہندوستا نی سیاست میں صف اول کے لوگوں میں قیادت کے منصب پر فاــئزتھے وہیں نثر نگاری ،خطابت اور انشاپردازی میں بھی اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے ۔ نثر کے باب میں ان کی شناخت منفرد اسلوب اور طرز تحریر کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا رشید احمد صدیقی جیسے ادیب اور ناقد نے تحریر کیا ہے کہ
’’ مولانا کا اسلوب تحریر ان کی شخصیت تھی اوران کی شخصیت ان کا اسلوب دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا‘‘ (۱)
اس تبصرہ سے مولانا آزاد کے اسلوب اور زندگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،ان کے اسلوب میں حکیمانہ لہجہ بھی ہے تو زعیمانہ انداز بھی اور ساتھ ساتھ ادیبانہ وجاہت بھی ،یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین نے ان کی نثر کو شعر منثور سے تعبیر کیا ہے ۔ وہ بیک وقت متعدداسالیب پر قدرت رکھتے تھے ۔ رشید احمد صدیقی نے ان کے انداز اور لب لہجہ کو قرآنی لہجہ سے تعبیر کیا ہے ’’مولانا نے لکھنے کا انداز، لب و لہجہ اور مواد کلام پاک سے لیا ہے
جو ان کے مزاج کے مطابق تھا مولانا پہلے اور آخری شخص ہیں جنہوں نے براہ راست قرآن کو اپنے اسلوب کا سر چشمہ بنایا‘‘(۲)
غبار خاطر جسے مولانا نے ’’خط غبارمن است این غبار خاطر‘‘کہہ کر پکارا ہے اس سے اس کی اہمیت و افادیت اور دیگر فنی محاسن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔مولانا کی یہ کتاب جسے مولانانے حبیب الرحمن خاں شیروانی کے نام لکھے گئے خطوط سے تعبیر کیا ہے۔ بعض حضرات نے اسے انشائیہ تو بعض نے افسانہ کہہ کر بھی پکار ہے، اس میں مولانا نے انشاپردازی ،زبان دانی ،فطری اسلوب ،طنزومزاح ،قلمی مصوری، مناظر فطرت کی عکاسی اور اشعار کا بر محل استعمال کر کے ایسی نقاشی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے کہ لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے پر مجبور ہوئے ، آزاد کا کمال ہے کہ کہیں تو بالکل سادگی پر اتر آتے ہیں تو کہیں عربی و فارسی اشعار اور تراکیب لا کر زبان دانی اور تبحر علمی کاا علی نمونہ پیش کرنے میں بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے اور سب سے بڑی چیز فطری پن اور بہا ئوہے ۔جو انہیں دیگر انشاپردازوں سے ممتاز کرتی ہے اور انفرادیت کے مقام پر پہنچاتی ہے۔
غبار خاطر کی تصنیف :
غبار خاطر خطوط ہے یا انشائیہ یہ بھی موضوع بحث رہا ہے ،مگر مولانا نے خود اسے خطوط سے تعبیر کیا ہے ،یہ مولانا آزاد کی آخری تصنیف ہے ،جو 3اگست1942ء سے 3ستمبر 1945ء کے درمیانی وقفہ میں رئیس بھیکم پور ضلع علی گڑھ مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کے نام لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے،اس میں دو خط مولانا شیروانی کے بھی شامل ہیں مگر اتنی بات مسلم ہے کہ مولانا آزادکی شیروانی صاحب سے گہری دوستی تھی ،اس لیے ان کے نام منسوب کرکے یہ خطوط کی شکل میں مضمون لکھے ورنہ ایک بھی خط ارسال نہیں کیا گیا ،البتہ مولانانے خطوط کا پیرایہ اس لیے اختیار کیا کہ بہت سی باتیں جسے مضمون میں ظاہر نہیں کیا جاتا مگر خطوط میں بے تکلف لکھا جا سکتا ہے ۔
مولانا آز اد کے تصنیفی ادوار :
مولانا آزاد ایسے انشاپرداز ہیں جن کے یہاں ایک اسلوب پر اکتفا نظر نہیں آتا ۔بلکہ ان کے اسلوب کو سمجھنے کے لیے ان کے تصنیفی ادوار کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ان کے تصنیفی ادوار کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ان کا پہلا دور گھن گرج والا دور ہے جس میں انہوں نے ’’ الہلال‘‘ اور’’ البلاغ‘‘ جاری کیااور اپنی سوانح عمری اور تذکرہ بھی ترتیب دیا ۔دوسرا دور وہ ہے جس میں انہوں نے قرآن پاک کے تراجم اور تفسیر وغیرہ لکھے ۔’’ ترجمان القر آن ‘‘اسی دور کی شاہکار ہے۔اس دور میں عالمانہ سنجیدگی اور علمی تبحرکا غلبہ نظر آتا ہے تیسرادور وہ ہے جس میں انہوں نے خط کی شکل میں انشائیوں کے اعلی نمونے پیش کیے غبار خاطر اسی دور کی تصنیف ہے اور چوتھا دور وہ ہے جس میں انہوں نے مختلف اور متعدد معرکتہ الآرا خطبے پیش کیے ’’ خطبات آزاد‘‘ اسی عہد کی باز گشت ہے ۔
مولانا آزاد کے متعدد اسالیب :
مولانا آزاد نے بنیادی طور پر تین اسالیب اختیار کیے ۔اطلاعی اسلوب یعنی کسی کو اطلاع دینا خواہ مثبت ہو یا منفی عام طور پر رپورٹنگ اسی اسلوب میں ہوتی ہے ۔الہلال ، البلاغ تذکرہ اور خطبات میں اسی اسلوب کو برتا گیا ہے ۔ہدایتی اسلوب سے مراد directive style ہوتا ہے یعنی حکم دینا یہ طریقہ ترجمان القرآن میں دکھائی دیتا ہے اور اظہاری اسلوب سے مراد expressive style ہوتا ہے اس اسلوب کو شاعری اور جذبات و احساسا ت کی ترجمانی کے لیے استعمال کیا جا تا ہے یہاں مواد اور معنی کی جگہ لفظ اور طرز بیان کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اسے’’ غبارخاطر ‘‘ میں محسوس کیا جا سکتا ہے ۔مرزا خلیل احمد بیگ نے ان کے اسلوب کے متعلق لکھا ہے کہ
’’ غبار خاطر کی نثر ادبی مرصع کاری اور رنگین عبارت کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔ اس کے علاوہ لفظی رعایات و مناسبات فقروں کی صوتی دروبست جملوں کی متوازن ترکیب و ترتیب اظہار کے بدلے ہوئے پیرائے۔ نت نئے تلازمات اور نادر ترکیبات نے اس کی دل آویزی اور دل کشی میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے‘‘(۴)۔
غبار خاطر کی زبان :
غبار خاطر میں مولانا آزاد نے بنیادی طور پر تین طرح کی زبان استعمال کی ہے ،ویسے ان کے اسلوب میں زعیمانہ ،حکیمانہ اورادیبانہ انداز ہے وہی زبان میں بھی ۔غبار خاطر میں سادہ اور عام فہم زبان کے نمونے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ایک اقتباس چڑا چڑے کی کہانی سے :
’’ لوگ ہمیشہ اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو بڑے بڑے کاموں میں لائیں ۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ یہاں سب سے بڑا کام خود زندگی ہے یعنی زندگی کو ہنسی خوشی کاٹ دینا یہاں اس سے زیادہ سہل کوئی کام نہیں ‘‘(۵)
غبار خاطر کی زبان شعریت سے متصف ہے یہ آزاد کی شعری آہنگ والی ایسی زبان ہے جس نے آزاد کو نثر نگار کی فہرست سے نکال کر شاعروں کے صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ۔ اس انداز بیان کے نمونے غبار خاطر میں جابجا دیکھے جا سکتے ہیں۔
’’اس کارخانہ ہزار شیوہ و رنگ میں کتنے ہی دروازے کھول جاتے ہیں تاکہ بند ہوں اور کتنے ہی بند کیے جاتے ہیں تاکہ کھولے جائیں ‘‘ (۶)
فارسی آمیز : غبار خاطر میں زبان کی تیسری قسم فارسی آمیز زبان کی ہے ، غبار خاطر میں مولانا آزاد نے شروع سے آخر تک جگہ جگہ فارسی اشعار الفاظ و تراکیب اور فارسی محاوروں کا استعمال کیا ہے ۔اس سے جہاں ایک طرف آزاد کی فارسی پر عبور اور گرفت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں اس بات کی بھی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ اس کتاب کو کماحقہ سمجھنے کے لیے فارسی کی شد بد ضروری ہے ۔جیسے ایک خط کا عنوان انہوں نے’’ داستان بے ستوں و کوہ کن‘‘ رکھا ہے ۔
اشعار کا برمحل استعمال :
غبار خاطر اردو،فارسی اور عربی اشعار سے لبریز ہے،مولانا آزاد نے اشعار کوخوبصورتی اور چابکدستی سے استعمال کیا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ شعر خود انہیں کا ہے ، کہیں تو مکمل شعر نگینے کی طرح جڑ دیتے ہیں تو کہیں ایک مصرعہ کو ہی جملوں کے درمیان اس انداز سے فٹ کرتے ہیں کہ قاری مطلب بھی سمجھ لیتا ہے اور نثر ایک نئی خوبصورتی سے متصف بھی ہو جاتی ہے ۔
اردو شعر:
شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبال دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
فارسی شعر:
ہزار قافلہ شوق می کشد شب گیر
کہ با رعیش کشاید بخطٔہ کشمیر
عربی شعر ـ:
قلیل منک یکفینی و لکن
قلیلک لا یقال لہ قلیل
اور کہیں کہیں پورے شعر کے مفہوم کو اپنی زبان میں بڑی خوبصورتی سے ڈھال لیتے ہیں ، جیسے میر دردؔ کے مشہور شعر ’’تر دامنی ‘‘ کو اپنی نثر میں بڑی خوش سلیقگی سے ڈھال کر نیا طرز ایجاد کیا ہے ۔
عربی الفاظ وتراکیب کی کثرت :
غبار خاطر میں عربی الفاظ و تراکیب کی بھی خوب کثرت ہے۔ جسے وہ درمیان میں کہیں بھی استعمال کر لیتے ہیں ۔عربی اشعار اور ضرب الامثال کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے الفاظ و تراکیب بھی استعمال کرتے ہیں کہ جسے ایک عربی جاننے والا شخص ہی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی نے عربی الفاظ و تراکیب کی کثرت کے متعلق لکھا ہے کہ
’’آزاد پہلے ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اردو رسم الخط میں عربی لکھی ہے ‘‘(۷)
فطری اسلوب :
شروع سے آخر تک غبار خاطر ٖفطری اسلوب سے لبریز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں آزاد کے اسلوب کا ایسا بہائو اور ایسی روانی نظر آتی ہے کہ اس کے بہائو کو کوئی بھی پل اور باندھ نہیں روک سکتا ۔رشید احمد صدیقی نے غبارخاطر کے اسلوب پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے کہ
’’غبار خاطر کا اسلوب اردو میں نا معلوم مدت تک زندہ رہے گا اکثر بے اختیار جی چاہنے لگ جاتا ہے کہ کاش اس اسلوب کے ساتھ مولانا کچھ دن اور جیئے ہوتے ۔پھر ہمارے ادب میں کیسے کیسے نسرین و نسترن اپنی بہائو دکھاتے اورخود مولانا کے جذبئہ تخیل کی کیسی کیسی کلیاں شگفتہ ہوتیں‘‘(۸)
یہ حقیقت ہے کہ اس کتاب کی دلکشی کا راز اس کی طرز تحریر میں پنہاں ہے اور یہ شاہکار تخلیق اپنے اس عظیم حسن کی وجہ سے ہزاروں حسن پر ستوں کو فرحت و انبساط بخشنے کے ساتھ ساتھ شوق کا ہاتھ دراز کرنے پر مجبور کرے گا ۔
طنزو مزاح :
غبار خاطر میں بکثرت طنزومزاح کے نمونے بھی ملتے ہیں مولانا آازاد کا کمال ہے کہ انہوں نے خشک سے خشک موضوع کو بھی مضحکہ خیز انداز میں اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری کا انگشت بدنداں ہونا فطری ہے ۔ایسی خوبصورتی سے طنزومزاح کا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ سامنے والے کو احساس بھی نہیں ہوتا اور سب کچھ کہہ جاتے ہیں انہوں نے اپنے ساتھ قلعہ احمد نگر میں اسیر ڈاکٹر سید محمود کے  بارے میں ’’فقیرانہ آئے صدا کر چلے ’’صلائے عام ہے یاراں نکتہ داں کے لئے ‘‘ بڑی خوبصورتی سے مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا ہے ۔
رومانیت :
غبارخاطر میں جہاں دیگر محاسن جا بجا نظر آتے ہیں وہیں رومانیت کی جھلکیا ں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں ،بہت سے مقامات پر وہ ایسی پر لطف فضا اور ایسا ماحول تیار کرتے ہیں کہ رومانیت کی فضا تیار ہو جاتی ہے ،خاص طور پر اس موقع پر جب وہ اپنے متعلق اشارے کرتے ہیں تو بڑی خوبصورت رومانی فضا قائم ہو جاتی ہے ۔
قلمی مصوری :
غبار خاطر کے اسلوب کا ایک اہم حصہ مولانا آزاد کی قلمی مصوری اور نقش و نگاری بھی ہے جسے بآسانی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔کبھی ایک روحانی شخص کا نقشہ ، کبھی فلسفی کا ،کبھی مزاح نگار کاتو کبھی ایک غمگین شخص کا نہایت خوبصورت قلمی نقشہ بناتے نظر آتے ہیں
’’پھولوں نے زباں کھولی ،پتھروں نے اٹھ اٹھ کر اشارے کئے خاک پامال نے اڑ اڑ کر گہر افشانیاں کیں ‘‘
اس سے ان کی نقش و نگاری اور قلمی مصوری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔عام طور پر ایسے نمونے شاعری میں دیکھنے کو ملتے ہیں ،مگر مولانا آزاد نے نثر میں اس کے نمونے پیش کیے ہیں۔
مناظر فطرت کی عکاسی :
مولانا آزاد نے غبار خاطر میں جس خوبصورتی سے پھلوں ،پھولوں ، پرندوں ،بیل ،بوٹوں اور دیگر مظاہر کائنات کی عکاسی کی ہے ۔ اس سے مولانا آزاد کے روحانی مزاج ،فطرت دوستی اور کائنات کے حسین مناظر کے مشاہدہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور بعض مقامات پر پھولوں کے ذریعے ایسی نقاشی پیش کرتے ہیں کہ جس سے ایرانی اور ہندوستانی دونوں پھولوں کی خوشبو مسکراتی نظر آتی ہے ۔
’’کوئی پھول یاقوت کا کٹورا تھا کوئی نیلم کی پیالی تھی ، کسی پر گنگا جمنا کی قلم کاری کی گئی تھی ‘‘(۱۰)
انانیتی انداز :
غبار خاطرمیں مولانا آزاد کا انانیتی انداز اور لہجہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے جس انداز سے شاعرانہ تعلی شاعروں کے یہاں ملتی ہے اسی انداز سے انانیتی نمونے ان کی نثر میں پائے جاتے ہیں خاص طور پر جب وہ اپنے متعلق لمبی باتیں کرتے ہیں تب یہ خصوصیت بہت واضح انداز میں نظر آتی ہے۔
خلاصہ کے طور پر مولانا عبدالماجددریا بادی کے اس قول کو پیش کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے ابوالکلام آزاد کے انداز تحریر اور طرز نگارش کے متعلق لکھا ہے کہ ’’وہ اپنے طرزو انشا کے جس طرح موجد ہیں اسی طرح اس کے خاتم بھی ہیں تقلید کی کوشش بہتوں نے کی ، پیروان غالب کی طرح سب ناکام رہے ،بہ حیثیت مجموعی ابوالکلام آزاد اپنی انشاپردازی میں اب تک بالکل منفردو یکتا ہیں بظاہراحوال یہی نظر آتا ہے کہ غالب کی طرح ان کی بھی یکتائی وقتی نہیں ،مستقل ہے ،حال ہی کے لیے نہیں مستقل کے لیے۔
٭٭٭
حوالہ جات :
(۱)کلیات رشید احمد صدیقی جلد سوم ص:۳۴۷۔(۲)ایضا ص:۳۴۷(۳) اردو کے نثری اسالیب ص:۱۶۱(۴) تنقید اور اسلوبیاتی تنقید ص: (۵)چڑا چڑے کی کہانی غبار خاطر ص: (۶) ایضا ص:۲۱۰(۷) ابولکلام کی اردو آب گم از مشتاق یوسفی (۸) کلیات رشید احمدصدیقی جلد سوم ص :۳۵۴ (۹)غبار خاطر کا تنقیدی مطالعہ ص: ۸۰(۱۰) غبار خاطر ص:۲۱۸۔
٭٭٭
مضمون نگار دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔
مضمون نگار سے رابطہ

متعلقہ خبریں

Leave a Comment