گیان واپی مسجدکیس:آثارقدیمہ کی 5 افراد پر مشتمل ٹیم جائزہ لے گی

وارانسی:ابری مسجدکے بعداب دوسری عبادت گاہیں نشانے پرہیں۔گیان واپی مسجدپرتنازعہ کھڑاکردیاگیاہے۔جب کہ آزادی کے بعدجس عبادت گاہ کی جوحیثیت رہی ہے،اسے برقراررکھنے کی شق موجودہے۔لیکن فرقہ پرستوں کوہردن نیابکھیڑاکھڑاکرناہے۔بابری مسجدپرجوکچھ فیصلہ آیا،اس پرایسالگاکہ اب پراناتنازعہ حل ہوگیاہے،لیکن جن لوگوں کوشوشے چھوڑکرنئے تنازعات کی سیاست کرنی ہے وہ نئے نئے بہانے تلاش کرلیتے ہیں۔گیان واپی مسجداب نشانے پرہے۔اب ڈسٹرکٹ کورٹ کا فیصلہ مسجد گیان واپی مسجد کے معاملے میں سامنے آیا ہے۔ سول جج سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک عدالت نے کہا ہے کہ مرکز کے محکمہ آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے 5 افراد کی ٹیم کو پورے کیمپس کا جائزہ لیناچاہیے۔ اس پرمسلم فریقوں نے کہاہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے۔ اس قابل غور بات یہ ہے کہ 2 اپریل کوسول جج سینئر ڈویژن فاسٹ ٹریک عدالت نے آثار قدیمہ کے سروے کیس سے متعلق مدعی مندرکی جانب سے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔مسلم فریق کاکہناہے کہ اس طرح کے معاملے پراب سماعت ہونی ہی نہیں چاہیے کیوں کہ آزادی کے وقت جس عبادت گاہ کی جوحیثیت باقی تھی وہ باقی رہے گی۔پارلیمنٹ نے اس پرقانون بنادیاہے توپہلے ہی نظرمیں اسے مستردکردیناچاہیے ورنہ ہرروزنیاتنازعہ کھڑاکیاجائے گا۔کاشی وشوناتھ مندر کی طرف سے دائر مقدمہ میں ، یہ کہاگیا تھا کہ یہ مسجد جیوتورلنگا وشویشور مندر کا ایک حصہ ہے جہاں ہندو عقیدت مندوں کوپوجا کا حق ہے۔ انجمن انتظامیہ مسجد اور دیگر جماعتیںاس معاملے میں فریق ہیں۔ مسلمانوں کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ 15 اگست 1947 کو مسجدہی تھی۔