گرفتاری کے بعد تین دن تک پانی بھی نہیں دیا گیا،ذہنی و جسمانی اذیتیں دی گئیں:ڈاکٹرکفیل خان

گورکھپور:الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد گورکھپور کے ڈاکٹر کفیل خان کو جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔ کفیل خان باہر آئے اورلوگوں کو بتایا کہ ان کے ساتھ کیاہوا ہے۔ این ایس اے کے تحت قیدکاٹنے والے ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ چونکہ میں نے نظام کو ننگا کرنے کی کوشش کی تھی ، اس لیے یوگی حکومت نے مجھے سزادی۔راجستھان کے جے پور میں کفیل خان نے بتایا کہ ابھی بھی وہ گورکھپور کے بی آر ڈی میڈیکل کالج سے معطل ہیں۔ کفیل خان نے کہاہے کہ میں سادہ زندگی گزار رہاتھا لیکن جب آکسیجن کی کمی کی وجہ سے 60-70 بچے فوت ہوگئے تو میں نے اس نظام کی سیاہ حقیقت کو بے نقاب کیا۔چونکہ لکھنؤ میں بیٹھے لوگوں کو اپنا کمیشن نہیں ملا ، یوگی آدتیہ ناتھ کو مجھ سے بھی یہی مسئلہ ہے۔ یوگی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کفیل خان نے کہا کہ مجھ پر 3 ماہ کے لیے این ایس اے نافذکیاگیاتھاجس کے بعد اس میں دوبارہ توسیع کردی گئی۔جب مجھے حراست میں لیا گیا ، مجھے جسمانی اذیت کے ساتھ تین دن تک پانی نہیں دیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ اور والدہ کو عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑے۔کفیل خان نے کہا کہ میں نے کل اپنے بیٹے سے ملاقات کی ، اب وہ مجھے پہچانتاتک نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے دیا جانے والایہ سب سے بڑا درد ہے۔ ڈاکٹر کفیل نے اس دوران کانگریسی لیڈرپرینکا گاندھی واڈرا اور ایس پی لیڈر اکھلیش یادوکاشکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ جیل میں تھے تو پرینکاگاندھی نے میری والدہ سے بات کی اورہمدردی کا اظہار کیا۔