غزنی: 2 ائیر پورٹس، آرمی ہیڈ کوارٹر پر طالبان کا قبضہ ،حکومت نے اقتدار میںشرکت کی دعوت دے دی

 

کابل :افغانستان میں طالبان نے پیش قدمی جاری رکھتے ہوئے صوبہ غزنی کے دارالحکومت غزنی فوج کے کور ہیڈکوارٹرز، 2 ایئرپورٹ کا کنٹرول سنبھال لیا ہے اور اس صورتحال میں افغان حکومت نے طالبان کو اقتدار میں شراکت کی پیشکش کر دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے مطابق اہم حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ملک میں بڑھتے ہوئے تشدد کو روکنے کے لیے افغان حکومت نے مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے قطر کو ایک پیشکش کی ہے، اس پیشکش کے تحت طالبان کو اقتدار میں شراکت کی پیشکش کی ہے اور اس کے بدلے میں پر تشدد واقعات روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ادھر قطر میں جاری مذاکرات کا تیسرا اور آخری دن شروع ہو گیا ہے تاہم اب تک کسی بھی قسم کی پیشرفت نہیں ہوئی۔ البتہ افغان حکومت کے نمائندے آج اس حوالے سے پیشرفت کے لیے پرامید ہیں۔ ان مذاکرات میں افغانستان اور طالبان کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ، پاکستان، ازبکستان، امریکہ، برطانیہ، چین اور یورپی یونین کے سفارتی حکام بھی شریک ہیں۔ صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکرگاہ میں لڑائی عروج پر ہے اور طالبان نے وہاں کے پولیس ہیڈکوارٹرز پر قبضہ کر لیا ہے اور وہاں موجود پولیس اہلکاروں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے کابل سے صرف 150 کلو میٹر کے فاصلے پر افغانستان کے سٹریٹجک شہر غزنی کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ شہر ایک ہفتے میں طالبان کے قبضے میں آنے والا 10 واں صوبائی دارالحکومت ہے۔ طالبان نے غزنی کے گورنر کو گرفتار کر لیا۔ مزار شریف کے روایتی طالبان مخالف گڑھ کو گھیرے میں لے لیا۔ ڈنمارک نے اپنے ہزاروں ملازمین کو افغانستان سے انخلا کی ہدایت کر دی۔ طالبان نے افغانستان نیشنل آرمی کے 217 پامر کور ہیڈکوارٹر کا بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ افغان میڈیا کے مطابق طالبان پہلی مرتبہ کسی فوجی کور ہیڈکوارٹر پر قابض ہوئے ہیں۔ افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ قندوز ایئرپورٹ اور کور ہیڈکوارٹرز پر حملے کی کچھ ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آئی ہیں۔ جس میں افغان فوجیوں کو طالبان کے سامنے ہتھیار ڈالتے دیکھا گیا ہے۔ شبرغان ایئرپورٹ کا کنٹرول بھی حاصل کر لیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دوحہ میں جاری ٹرائی کاپلس مذاکرات کے دوران افغان حکومت کے مذاکرات کاروں نے طالبان کو پیشکش کی کہ وہ ملک میں جاری جنگ کے خاتمے کے بدلے طالبان کو اقتدار میں شریک بنانے کے لیے تیار ہیں۔ ذرائع کے مطابق افغان حکومت کے مذاکرات کاروں یہ یہ پیشکش براہ راست طالبان کو نہیں بلکہ مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کرنے والے ملک قطر کو کی ہے جس نے یہ بات افغان طالبان تک پہنچا دی ہے تاہم اس حوالے سے اب تک طالبان کا مو?قف سامنے نہیں آیا۔ افغان میڈیا کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ بدخشاں میں سکیورٹی فورسز نے کچھ اضلاع میں پہنچنے کی کوشش کی لیکن اس دوران انہیں طالبان کی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس میں کچھ ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ ایک رکن اسمبلی کی جانب سے بھی قندوز ایئرپورٹ اور کور ہیڈکوارٹرز تمام سازوسامان کے ساتھ طالبان کے قبضے میں جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔