غزل-شاہ رخ عبیر

 

جاگتی آنکھوں میں تھا امبر کھلا

سو گئے تو خواب میں اک در کھلا

 

بے خیالی میں چھوا اس نے مجھے

ایک۔ دروازہ مرے اندر کھلا

 

راستے میں دھوپ تھوڑی تیز ہے

کس کی یادوں کو رکھوں سر پر کھلا

 

کھینچ لوں گا دھوپ کی تصویر میں

رہ گیا گھر میں اندھیرا گر کھلا

 

زندگی میں رنگ بھرنے ہوں اگر

رکھّو اپنے سامنے منظر کھلا

 

خواہشیں لینے لگیں انگڑائیاں

جب ترا سایہ دریچے پر کھلا

 

ساتھ رہ کر بھی رہے ہم اجنبی

ایک مدت بعد یہ ہم پر کھلا

 

 

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*