19 C
نئی دہلی
Image default
ادبیات غزل

غزل

صائمہ ثمرین

ہر شخص بے قرار سا انگنائیوں میں تھا
یہ کیسا درد گاؤں کی پروائیوں میں تھا

وہ بھی سفر میں چھوڑ کے رخصت ہوا مجھے
شامل جو ہم سفر مری پرچھائیوں میں تھا

گھر میں ادب خلوص کی شائد کمی رہی
ورنہ تو خوب پیار مرے بھائیوں میں تھا

جس شخص کو سمجھتی تھی اپنا میں ہم نشیں
معلوم اب ہوا کہ وہ ہر جائیوں میں تھا

مہندی کا رنگ خون میں تبدیل ہو گیا
کچھ ایسا زخم جشن کی شہنائیوں میں تھا

اپنی انا کی حد سے گزر کر پتہ چلا

سارا مزہ تو عشق کی رسوائیوں میں تھا

ثمرین پھر غزل سے وہ محروم رہ گیا
جو لفظ میری سوچ کی گہرائیوں میں تھا

متعلقہ خبریں

Leave a Comment