غزل- رئیسؔ صِدّیقی

ای میل: rais.siddiqui.ibs @gmail.com

مشکلوں کے بیچ ساری زندگی!
کب ملی ہے اختیاری زندگی؟
چھوڑ کر دامن تمہارا کیا ملا؟
پھر رہی ہے ماری ماری زندگی!
پاس رشتوں کا، نہ کچھ کردار کا
ہو گئی ہے کاروباری زندگی!
شاخِ گُل پر قطرہئ تیزاب سی
دوستو، ہم نے گذاری زندگی!
اس سے بڑھ کر وقت کیا ہوگا بُرا؟
عیب ہے اب وضع داری زندگی!
رُخ پہ ہیں اِخلاص کی آرائشیں
ہو چکی ہے اِشتہاری زندگی!
کاٹ دی ہم نے بھی کچھ ایسے رئیس ؔ
جیسے ہو، کوئی اُدھاری زندگی!

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*