غزل

 مقدس ملک

ہُو کے عالم کا ڈر اذیت ہے
خامشی بات کر! اذیت ہے

میں ترے واسطے پریشاں ہوں
چاند کو بام پر اذیت ہے

ہجر لکھا ہے جن کے ماتھے پر
ان مکینوں کے گھر اذیت ہے

کچھ درختوں پہ پھل نہیں آتے
کس قدر بےثمر اذیت ہے

مجھ سے آوارگی یہ کہتی ہے
لوٹ جا! در بہ در اذیت ہے

آئینہ روز مجھ سے کہتا ہے
میرے آشفتہ سر، اذیت ہے

ہم سفر جن کی رائگانی ہو
ان کا سارا سفر اذیت ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*