23.8 C
نئی دہلی
Image default
نقدوتبصرہ

غزل میں کفروالحاد کاتصور-حقانی القاسمی

haqqanialqasmi@gmail.com
(پہلی قسط)
عقیدوں یاعقیدتوں میں محصور معاشرہ خردافروزی، تعقل پسندی یا آزادہ روی کی روش کوپسند نہیں کرتا۔
کسی بھی مکیف معاشرہ میں مذہبی مسلمات یا معینہ اقدار سے انحراف اور اختلاف کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔ نظری ادعائیت یا مذہبی نرگسیت تنقید یاطنز کی متحمل نہیں ہوتی، ذرا سی روشن خیالی، عقلیت پرستی، اعتزال پسندی کے اتہام کے لیے کافی ہوتی ہے۔
غزل کا جس معاشرہ سے سابقہ پڑا، وہ علمی اور ادراکی پسماندگی کا شکارتھا۔ ایک خلاقیت مخالف معاشرہ جہاں مذہب سے بڑی کوئی میزان نہیں تھی، قوت متخیّلہ، وجدانیہ کو معطل کرنے والا یہ ایسا معاشرہ تھاجہاں مذہبی پیراڈائم سے انحراف کفروالحاد کی حدوں میں پہنچا دیتاہے، شرعی سخت گیری کے ایسے ماحول میں متعینہ راہ وروش سے انحراف دارورسن کو دعوت دینے کے مترادف ہے،مگر اس معاشرتی اور مذہبی جبر کے باوجود بڑے خلاق ذہنوں نے فکری عبودیت اوربندگی کی بندشوں کو توڑکر حیات و کائنات کودیکھنے اور پرکھنے کے اپنے پیمانے وضع کیے۔ شاعروں کی محدود اقلیت نے معاشرے کی روش عام سے اجتناب کیااور فکرونظر کی نئی بستیاں آبادکیں۔ پرانے مسلمات کو شک کی نگاہ سے دیکھا اور اس طرح تشکیک پسندی کی ایک لہرنے جنم لیا۔جس سے مذہبی مسلمات کی طنابیں اکھڑنے لگیں۔ان اذہان نے اس روشنی کی جستجو کی جس کی سزاسنگ باری ہوتی ہے۔ خودآگہی کی منزل کی طرف ان ذہنوں نے یہ سوچ کر اپنے قدم بڑھائے کہ احتجاج یااختلاف سے عاری اورمقلدمعاشرہ کاارتقارک جاتا ہے۔
ایسے انحرافی اذہان کی منطق یہ تھی کہ اثبات یا انکار کا تعلق واضح حقائق سے ہوتاہے اور جب حقیقت ہی مبہم ہو تو اثبات یا انکار کاسوال ہی کہاں پیدا ہوتاہے۔ ان ذہنوں کی تشکیک تحقیق کی ایک نئی منزل کی متلاشی ہوئی،جس کے نتیجے میں تشکیک ایک حاوی اور غالب رویے اور رجحان کی صورت میں ابھری، مگر پس رو،تفکیر،تدبیر اور تعمیل سے عاری معاشرہ کو یہ رجحان ایک آنکھ نہیں بھایا۔ جبکہ یہ ایک صحت مندرویہ تھا، کیونکہ اسی رویے سے ہی خیروصداقت کے حقیقی سرچشمہ تک رسائی ممکن ہوسکتی ہے اور یہی رویہ تحقیق وتخلیق کاحقیقی منصب بھی ہے۔ جون ایلیا نے اپنے مضمون میں اس معنی خیزنکتہ کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:
”عقیدوں کے نظام، غیرمشروط حسن، خیراور صداقت سے تضاد کی نسبت رکھتے ہیں چنانچہ مابعدالطبیعی حقائق کے شاعر، شاعر سے بلندتر مرتبے کے حق دار توہوسکتے ہیں مگرشاعرنہیں ہوسکتے
۔”شاعری ایک واقعے کو چار آنکھ سے دیکھنے اور ایک کیفیت کو دوذہنوں سے محسوس کرنے کاعمل ہے۔“
(ادبی شخصیات: ڈاکٹر ظفر مرادآبادی، ص-20)
تشکیک تخلیق کا عنصری جوہرہے اس لیے یہ رویہ اکتشاف حقائق تک پہنچنے کے لیے ناگزیر ہے۔
پروفیسر وحیداختر نے اس کی بابت لکھا ہے:
”تشکیک جو نسبتاً وسیع تر مفہوم میں استعمال ہوسکتی ہے ایک عام ذہنی رویہ ہے۔ علمیاتی یا مابعدالطبیعاتی نظریہ نہیں، یہ ایسا مثبت اورصحت مند رجحان ہے جو تمام رائج الوقت فلسفوں اور اقدار کوشک کی نگاہ سے دیکھتا انھیں جانچتا اور پرکھتاہے تاکہ حقیقت کی ماہیئت اور تہ تک پہنچ سکے۔یہ میلان آج ہماری پوری سماجی اور ذہنی زندگی پرمحیط ہوتا جارہاہے۔ پھربھی ناقدین نے نظریات کی عینک لگاکر اسے کبھی فراری ذہنیت کا نام دیا کبھی آزادی کی ایسی لگن بنایا جس میں ذمہ داری کا احساس نہ ہو۔ کبھی اسے مقصد کے فقدان کانام دیاگیا اورکبھی ذہنی کم مائیگی کہاگیا۔ انسان کے متجسس اور توانا ذہن کو مروجہ عقائد اور تصورات و اقدار کو جانچنے پرکھنے اور شک کی نظر سے دیکھنے کی اجازت ہی نہ دینے کا نام ادعائیت (Dogmatism)یا ملائیت برہمنیت ہے تشکیک کے اس مثبت رجحان ہی میں آئندہ کے تصورات واقدار تک پہنچنے کا امکان بھی ہے اور مستقبل کی صورت گری کی قوت بھی۔“(فلسفہ اور ادبی تنقید)
اردو کے جو شاعر مستقبل کی صورت گری کی قوت کے رمز سے آگاہ ہوئے،انھوں نے ایک انحرافی راہ اور اختراعی روش اختیار کی اور غزل کو محبوس معاشرہ کا محدود اظہاریہ بننے سے بچالیا اورغالب کے شکوے کے باوجود غزل کی صنف کو کچھ اور وسعت مل گئی۔حسن وعشق کے حدود سے نکل کر کائنات کے ان مسائل و موضوعات کو مس کرنے لگی جن کا تعلق انسان کی ذات کے اضطراب،المیے،بحران، انتشار، سماجی وقوعے،سیاسی واردات سے تھا۔ اس طرح غزل نے ایک طویل سفر طے کیا اور لمحہ لمحہ زندگی کے بدلتے رنگوں کو دیکھا۔ویسے بھی جس معاشرے میں غزل کی صنفی تشکیل ہوئی، وہاں سے ہندوستان تک آتے آتے اس کی صورت ہی نہیں سیرت بھی بدل گئی۔ غزل، یہاں ایک ’تیسری تہذیب‘ سے آشناہوئی جسے انڈومسلم کلچرکانام دیاگیا۔ اس تہذیب کے تصورات نے غزل کی فکر اور فرہنگ کو بدل دیا۔لسانی،فکری ’امتزاجیت‘ کے عناصر نے اس کی کتھارسس کی اور اس فلسفہ سے آشنا کیاجوآریائی ذہنوں کا وضع کردہ تھا جسے ’وحدت وجود‘ یا ’ہمہ اوست‘ کا عنوان دیاجاتاہے۔ اس فلسفہ کی رو سے موجود صرف ایک ہے اور وہ اللہ کی ذات ہے۔ اور اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے۔کائنات کا وجود خیالی ہے۔ اس کے ہر ذرہ میں خدا کی نمود ہے۔ اس طرح کائنات خدا کے وجود کا حصہ ہے اور اس کے مظاہر خداکی شکلیں ہیں۔ عرب دنیامیں اس تصور کی تشہیر اور تبلیغ محی الدین ابن عربی نے کی جبکہ ہندوستان میں اس فلسفہ کے محرک سری شنکر ہیں۔ یہ نظریہ ویدانت اور اپنشد سے ماخوذ ہے۔اہل دانش کی طرف سے اس کی شدت سے مخالفت ہوئی کہ اس میں ترک عمل اور نفی خودی پرزور ہے۔ علامہ اقبال نے اپنے ایک مکتوب میں یہ بھی لکھ دیا کہ :
”مسلمانوں میں ایک ایسے لٹریچر کی بنیاد پڑی جس کی بنا وحدت الوجود تھی۔ ان شعراء نے عجیب و غریب اور بظاہر دل فریب طریقوں سے شعائر اسلام کی تردید و تنسیخ کی ہے“ (نقد اقبال: میکش اکبرآبادی، ص-24)
اسی نظریے کی مخالفت میں وحدت الشہود کا تصور سامنے آیا جس کے محرک شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی تھے۔ ان کے مطابق مخلوقات کا وجود وجود ظلی ہے اور خدا کا وجود ابدی اور ازلی ہے۔ اور کائنات کی ہر شے خدا کی ذات کا حصہ نہیں ہے ورنہ ہر شے قابل پرستش قرار پائے گی۔ اہل تصوف زیادہ تر وحدت الوجود کے قائل ہیں۔ اسی لئے بعض علما تصوف کو مشرکانہ عقائد کا مجموعہ کہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ وحدت الوجود اور وحدت الشہود دونوں فلسفیانہ اور جدلیاتی مسائل ہیں۔ دونوں میں انتہا پسندی خطر ناک ہے۔ دونوں میں صرف تعبیرات کا فرق ہے۔ یہ معنیات کا اختلاف ہے جسے فکری مجادلے اور مناقشے میں بدل دیا گیا ہے۔ فتاوی عثمانی میں اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے کہ:
”وحدت الوجود کا صحیح مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں حقیقی اور مکمل وجود صرف ذات باری کی ہے اس کے سوا ہر وجود بے ثبات‘فانی اور نا مکمل ہے“
وحدت الوجود کا فلسفہ اتنا گنجلک بنا دیا گیا کہ اس کی صحیح تعبیرات سامنے نہ آسکیں اور کائنات کی ہر شے میں معبود کی موجودگی اس طرح متصور کر لی گئی کہ خالق اور مخلوق کے درمیان کا فاصلہ ختم سا ہو گیا۔خدا کی ذات اور صفات میں بھی دوسری اشیاء کوشریک کر لیا گیا۔ اس طرح وحدت الوجود کے صحیح مفاہیم اور مقاصد سے مکمل آگہی نہ ہونے کی وجہ سے اس تصور کی سرحدیں کفر‘ الحاد اور زندقہ سے ملتی گئیں جبکہ وحدت الوجود کے نفس تصور میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔اگراس میں الحاد وزندقہ کا عنصرہوتا تو شاہ ولی اللہ محدث دہلوی، مرزامظہرجاں جاناں،قاضی ثناء اللہ پانی پتی جیسے علمااس نظریے کی تائید نہ کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ اقبال نے بھی آخر میں وحدت الوجود کے فلسفے کی تصدیق و تائید کی جس کی تفصیل میکش اکبرآبادی کی کتاب ’نقد اقبال‘ میں دیکھی جاسکتی ہے۔
اردو کے خمیر میں وحدت الوجود کا ہی تصور ہے اس کی کئی وجہیں ہو سکتی ہیں۔ سب سے بڑی وجہ مختلف مذاہب میں مشترکات اور مماثلات کی تلاش ہے دوسری وجہ اردو کی سیکولر روح ہے کہ اس کی جنم بھومی وہ سرزمین ہے جہاں مختلف مذاہب اور عقائد کے لوگ بستے ہیں۔ جہاں مذہبی تصلب، تقشف اہل ایماں کے وجود اور تشخص کے لئے ہی نہیں بلکہ اپنے تصور کی ترسیل اور تبلیغ کے لیے خطرہ بن جاتا۔ اس لئے پروانہ چراغ دیر و حرم نمی داند پر عمل کرنا لازمی ٹھہرا کہ اجنبی فضا میں ترابط اور تفاہم سے ہی آگے کی راہیں کھلتی ہیں۔۔مقامی مقتضیات کے مد نظر رواداری،آزادروی کے تصور کا فروغ فطری تھا۔
اردوغزل میں وحدت الوجود کے نظریات کی آمیزش رفتہ رفتہ ہوتی گئی اور اس طرح غزل ویدانتی فکر سے آشناہوکر مذہبی جذبات سے زیادہ صلح کل اور وسیع المشربی کی ترجمان بن گئی۔اردو کی غزلیہ شعری روایت خاص طور پرکلاسیکی شاعری وحدت الوجود کے تصور سے ہی متاثر رہی ہے۔پروفیسر گوپی چندنارنگ نے اردو غزل میں ہندوستانی ذہن و تہذیب کی تلاش کے دوران اس خاص نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔
”ہمہ اوست اورہمہ ازاوست کا بنیادی فرق یہی ہے کہ ایک کثرت آرائی عالم کو عین ذات کہتا ہے۔ دوسرا اسے مظہرصفات توتسلیم کرتا ہے لیکن عین ذات قرارنہیں دیتا۔ پہلے کی رو سے کائنات چونکہ وحدت کی تجلی ہے اس لیے کثرت حقیقی یا اصلی نہیں بلکہ واہمہ اورفریب حواس ہے۔ ہمہ ا زاوست کی رو سے کائنات کا ذرہ ذرہ چونکہ خالق باری کی تخلیق ہے،اس لیے عالم ظاہر،غیراصل،موہوم یا معدوم نہیں بلکہ ٹھوس حقیقت ہے۔ تصوف کا یہ دوسرا نظریہ وحدت وجود کے غیراسلامی رنگ کو ختم کرنے اور تصوف کو توحید اسلامی سے مطابقت دینے کے لیے بہت بعدمیں وجود میں آیا۔ ظاہرہے کہ یہ اسلامی مذہبی روح کا وہ ردعمل تھا جو اپنی بنیاد کے تحفظ کی خواہش کے تحت کسی بھی مذہب میں پیدا ہوجانافطری ہے۔ وحدت شہود کے نظریے کو فلسفیانہ بنیادوں پر قائم کرنے کاکام ہندوستان میں ہواکیونکہ وحدت وجود کے ہندی تصورات سے ملتے جلتے نظریات اسلام میں سب سے زیادہ عمل دخل یہیں پاگئے تھے،لیکن یہ اصلاحی کوشش چونکہ ایسے رجحان کے خلاف تھی جو بنیادی طورپر ہندوستانی مزاج سے گہری مناسبت رکھتاتھا اور مشترک تہذیب کی جڑوں تک اترگیاتھا، اسے پوری کامیابی حاصل نہ ہوئی اوروحدت وجود کا نظریہ بدستور مذہب، اخلاق، علمیت، قابلیت، شعروادب وغیرہ ہرشعبے پرصدیوں تک چھایارہا۔ماحول کے ان رجحانات سے اردوغزل نے جو تصوف کی گودمیں پروان چڑھی گہرا اثرقبول کیا اور روحانی ماورائیت کے یہ وجودی خیالات اس میں طرح طرح سے راہ پاگئے۔“
(اردوغزل اور ہندوستانی ذہن وتہذیب،ص-۲۴۳-۲۴۴)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment