20 C
نئی دہلی
Image default
نقدوتبصرہ

غزل میں کفروالحاد کاتصور-حقانی القاسمی

haqqanialqasmi@gmail.com
(دوسری قسط)
یہاں کی مختلف تحریکوں مثلاً بھکتی اور رامانند،کبیر،نانک، تکارام کے تصورات نے بھی اردوغزل کی فکر کو متاثر کیا اور مذہبی ظاہرداری سے بیزاری بڑھتی گئی۔ یوگ اور تصوف کے امتزاج واشتراک نے اردوشاعروں کے ذہنی زاویے بھی تبدیل کردیے اور انھیں بھی داراشکوہ کاوہ ’سراکبر‘ مل گیاجوامتزاجی نظریے پرمبنی تھا اور جس کی رو سے وید بھی الہامی کتابیں ہیں اور تمام ادیان کی منزل ایک ہے، گوراستے جداجدا ہیں۔ مرزامظہرجان جاناں،سیدعبدالولی عزلت،ملاشاہ بدخشی، سرمد شہید، سب اسی نظریے کے حامل ہیں۔”ان کے نزدیک ہنود بھی موحد ہیں کہ وہ بتوں کو متصرف اورمؤثر بالذات نہیں مانتے۔ ان کا سجدہ عبودیت کا نہیں، تحیت کا ہوتا ہے۔ صوفیا کی طرح وہ بھی صاحب صورت سے مناسبت پیدا کرتے ہیں۔ اور اسی نسبت سے حوائج معاش اور معاد کو پورا کرتے ہیں۔“(تفصیل کے لئے: عہد وسطی میں ہندو مسلم تعلقات‘ ڈاکٹر محمد عمر مشمولہ اردو اور مشترکہ ہندوستانی تہذیب مرتبہ کامل قریشی ص 301)
وحدت ادیان کے بنیادی تصورپر محیط وحدت الوجود کے ہندوستانی نظریے کا نفوذ ذہنوں میں اس طرح ہوا کہ اسلامی شعائر بھی اس کی زد میں آ گئے۔ سب سے پہلے خالق کائنات کا وجود ہی شک کے دائرے میں آگیا۔ اور اس کے وجود کو تسلیم کیا گیا تو وجود کی شکلیں بگاڑ دی گئیں۔ اس کے وجود میں کچھ ایسی اشیاء بھی شامل کر لی گئیں کہ خدا کے ازلی اور ابدی وجود اور ذات واحد کا معنی و مفہوم ہی مسخ ہو گیا۔
غالب نظریہ وحدت الوجود کے قائل تھے مگرانھوں نے توخدا کے وجود پر ہی سوالیہ نشان لگادیا:
نہ تھا کچھ تو خدا تھا نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا کچھ تو کیاہوتا
اور پھران کی صفات پر بھی سوال کھڑے کردیے:
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا
یہ خداکی صفت ’عدل‘ سے انکارنہیں توکیا ہے؟
خدا کی ذات سے انکاربھی ’کفر‘ میں شامل ہے مگر شاعروں نے خدا کے وجود کو ایک واہمہ تخیل قرار دینے سے گریز نہیں کیا۔
ایسا ہی انکار شجاع خاور کے اس دعائیہ آہنگ میں بھی ہے:
یا الٰہی تو اگر ہے تو ہویدا ہوجا
اور نہیں ہے تو ابھی وقت ہے پیدا ہوجا
خدا کی کثرت بھی اس کی وحدت کوتسلیم کرنے کی راہ میں مانع بنی۔چنانچہ ساحرلدھیانوی نے اسی منطق کی رو سے خدا کی ذات سے ہی انکارکردیا:
ہر ایک دور کا مذہب نیا خدا لایا
کریں تو ہم بھی مگر کس خدا کی بات کریں
اور یگانہ چنگیزی کا ذہن بھی اسی کشمکش کا شکار رہا:
بندے نہ ہوں گے جتنے خدا ہیں خدائی میں
کس کس خدا کے سامنے سجدہ کرے کوئی
خدا کی ذات کو ایک کرہ یا منطقہ میں محدود کرنے کا رویہ بھی عام ہے۔ساحرلدھیانوی نے کہا:
آسمان پہ ہے خدا اور زمیں پہ ہم
آج کل وہ اس طرف دیکھتا ہے کم
تو جون ایلیا نے یوں طنز کیا:
یہ جو تکتا ہے آسمان کو تو
کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا؟
نطشے کی طرح خدا کی موت یااس کے مفلوج و معطل ہونے کااعلان بھی شاعروں نے کیا ہے۔ سلطان اختر کا ایک شعر ہے:
دل مطمئن ہے اس کی رضا کے بغیر بھی
ہر کام چل رہاہے خدا کے بغیر بھی
شجاع خاور نے بھی اسی طرح کے شعر کہے ہیں جن میں خدا کی ذات یا صفات پرگہرا طنزہے:
نہ اتنے زور سے سوچو کہ جاگ اٹھے وہ
خدا ابھی ہمیں تخلیق کرکے سویا ہے
یا توجہ میری دنیا کی طرف پوری دے
یا پھر ایک اور خدا کی مجھے منظوری دے
شاعروں نے صرف خدا کی ذات سے انکار نہیں کیا بلکہ اپنی ذات میں بھی ’خدائی عنصر‘ دریافت کرلیا:
یہاں کے لوگ تو ہم کو خدا سمجھتے ہیں
کسے سنائیے اپنی وفات کا قصہ
٭
خدائی پہ خاموش رہتے ہیں لوگ
خدائی کا دعویٰ ذرا کیجیے
(شجاع خاور)
میں نے بھی اک بنائی ہے دنیا یہاں سے دور
ایسا بھی اک جہاں ہے جس کا خدا ہوں میں
(اختر انصاری)
اردو کے کچھ شاعروں نے خداکو ایک وہم وگمان سے زیادہ نہیں سمجھا۔ حالات کے جبرنے ان کے ایمان اور عقیدے کو اتنامتزلزل کردیا کہ خداکے اعمال اوراس کے نظام پر طنز کرنے لگے:
اسے بھی اپنی اناپر بہت بھروسہ ہے
مجھے بھی خوف نہیں ہے کسی خدا کا اب
مرے وجود سے خائف ہے آسمان اختر
کہ میرے پاؤں تلے آچکی ہے دنیا اب
خداوندا ترے ہوتے ہوئے بھی
ہراساں اس قدر انسان کیوں ہے
قیامت کو اگرباقی ہیں کچھ دن
توبرسوں حشر کا میدان کیوں ہے
(سلطان اختر)
حق فتح یاب میرے خدا کیوں نہیں ہوا
تو نے کہاتھا تیرا کہا کیوں نہیں ہوا
(عرفان صدیقی)
یہ ایک طرح کا ذہنی فرسٹریشن یا افسردگی کا اظہار ہے۔ ورنہ ان شعرا کو بھی پتہ ہے کہ یہ کائناتضادی تفریق (Binnary Opposition)کے نظام پر قائم ہے۔تمناؤں اور آرزوؤں کی شکست ہی خدائے وجود کااثبات ہے۔ یہ دنیا رزم گاہ خیروشر ہے۔ یہاں ہرلمحہ انسان کے ایمان و ایقان کی آزمائش ہوتی ہے۔ اگرانسانوں کے ارادے کے مطابق ہی یہ کائنات چلے تو اس کا سارا نظام ہی معطل ہوجائے گا۔ حضرت علیؓ نے کہاتھا کہ ارادوں کی شکست نے ہی خدا کی معرفت عطا کی۔تویہ جملہ اپنے اندر ایمان اور عقیدے کی پوری صلابت اور حرارت لیے ہوئے ہے۔
خدا کی ذات شاعروں کے لیے طعن وتشنیع کا مرکز ومحوررہی ہے۔ خالق کے بجائے اسے بھی ایک مخلوق کی حیثیت دی گئی۔ خدا کی ذات و صفات میں بھی بشریت کے عناصر کی جستجو اور اس کے ساتھ زمینی مسائل ومتعلقات میں خدا کی لاچاری، مجبوری،بے بسی کو شاعری میں پیش کیاگیا ہے:
کون جانے گا اب خدا اس کو
جس کی ہر بات آدمی سی ہے
(اقبال حیدر)
قیامت کی دھمکی، عذابوں کا ڈر
ابھی تک خدا سے ہوا کچھ نہیں
(ارتضیٰ نشاط)
خدا کے صفاتی تشخص پر یلغار کے ساتھ انسان کی طرح خدا کی شکست وریخت کا اعلان بھی کیاہے:
سویرے میری ان آنکھوں نے دیکھا
خدا چاروں طرف بکھراپڑا ہے
(بشیربدر)
دعا کے ہاتھ پتھر ہوگئے ہیں
خدا ہر ذہن میں ٹوٹا پڑا ہے
(ندافاضلی)
نہ دن کے بعد سکوں ہے نہ چین رات کے بعد
خدا ملول ہے تخلیق کائنات کے بعد
(شریف احمدشریف)
میں دونوں کے بیچ میں پڑکر کانچ کی صورت ٹوٹ گیا
اک چٹان سی بے حس دنیا اور خدا اک پتھر جیسا
(ظفرگورکھ پوری)
بعض شاعروں نے توخالق ومخلوق کے مابین حدفاصل ہی ختم کردی:
یاد اب خود کو آرہے ہیں ہم
کچھ دنوں تک خدا رہے ہیں ہم
ہم خدا بن کے آئیں گے ورنہ
ہم سے مل جاؤ آدمی کی طرح
(بشیربدر)
راکشش تھا، نہ خدا تھا پہلے
آدمی کتنا بڑا تھا پہلے
(ندافاضلی)
اگر دشوار ہوجائے خدائی
مجھے آواز دے لینا خدایا
(قیصرالجعفری)
(بحوالہ اردو شاعری میں خدا: ڈاکٹر شرف الدین ساحل، مطبوعہ، صحافت ممبئی 13جنوری 2013)
دیکھ اب اپنے ہیولے کو فنا ہوتے ہوئے
تو نے بندوں سے لڑائی کی خدا ہوتے ہوئے
(شہزاداحمد)
اردو کے ان شاعروں کے ذہنوں پر شاید ان افکار کے اثرات ہیں جو قدیم زمانے سے بعض معاشروں میں عام رہے ہیں۔ ان کے ڈانڈے ایک طرف سانکھیہ کے اس تصور ثنویت سے ملتے ہیں جس میں خدا کا وجود محض ما بعد الطبیعاتی مفروضہ ہے جو کائنات کی تخلیق کو پرش اور پراکرتی کے اتصال کا نتیجہ مانتی ہے یا پھر ان جدید تصورات سے جن میں ماورائیت کی موت پر مہر تصدیق ثبت کر دی گئی ہے۔ جرمن فلسفی نطشے نے خدا کی موت کا اعلان کیا تو جدید ذہنوں نے بھی اس تصور کو قبول کرتے ہوئے ما ورائی خدا کے امکان کو ہی مسترد کر دیا۔ Thomas J Altizer نے اس خیال کو عام کر دیا کہ خدا اپنے الوہی صفات سے محروم ہو چکا ہے اور اپنا مقدس وجود بھی۔ وہ مسیح کی شکل میں مکمل طور پر انسان بن چکا ہے۔ اور یہودیوں کی کبالہ شاخ نے نہ صرف یہ کہ خدا کی موت کا اعلان کیا بلکہ محل موت کا بھی تعین کر دیا۔ اس فکر کے مطابق دنیا کی تخلیق کرتے ہوئے خدا کی موت واقع ہو گئی تھی۔ اور اس کی موت ہٹلر کی بنائی ہوئی عقوبت گاہ Auschwitz میں ہوئی جو یہودیوں کی اذیت گاہ کے نام سے مشہور ہے۔ فرینک ہگ فاسٹر نے بھی اپنے ایک لکچر میں یہ صاف طور پر اعلان کیا کہ ماڈرن کلچر پس الحادی مرحلہ Post theistic stage پر پہونچ گیا ہے اور خدا کے تمام اختیارات اور قوت تخلیق پر انسانوں کا تسلط ہو گیا ہے۔ بہت ممکن ہے کہ شرمن روایت سے بھی ان شاعروں کی شناسائی ہوجہاں الوہیت یاربوبیت کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔غالب امکان ہے کہ جدید شاعروں نے ان تمام قدیم وجدیدتصورات سے استفادہ کیا ہو اور ایک نئے وژن کے فیشن میں اس طرح کے انحرافی خیالات ظاہر کئے ہوں۔
ویسے دیکھا جائے تو زیادہ تر شعروں میں ”خدا“ بطوراستعارہ یاعلامت استعمال کیا گیاہے۔ چونکہ خدا قوت،عظمت اقتدار اور اسٹبلشمنٹ کا استعارہ ہے اس لیے حساس انسانی مزاج ہر اقتداری نظام کے خلاف احتجاج کر تا ہے۔ یہ اقتدار سے گلہ اور شکوہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ویسے لغت میں خدا کا معنی ’معشوق‘ بھی ہے جو ستمگر اورجفاشعار ہوتاہے۔ یہاں شخصی خداؤں، مختلف طبقات کے تخلیق کردہ خاص طورپر بورزواؤں کے خدا اور ارباب مذہب کے نرالے خداؤں کے بارے میں بیان ہے ——’اصلی خدا‘کا ان شعروں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف شاعری کی تخلیقی اٹھکھیلیاں ہیں یا وحدت الوجود کی نازک خیالیاں۔ اس خدا بیزاری میں بھی تعلق، یاقرابت قریبہ، کا ایک پہلو نکلتاہے۔جیسے کہ علامہ اقبال کے شکوہ میں اسی قربت کی ایک جہت روشن تھی اسی لیے معتبر اور مستند علما نے ان کی تکفیر میں تعجیل سے کام نہیں لیا۔ زیادہ تر شاعروں کی داخلی سائیکی میں خدا اورمذہب کا وجود مسلم ہے۔یہ اور بات کہ خارجی موثرات اور عوامل ان کے شعور کی منطق کو بدلتے رہتے ہیں۔ یہ اشعار شاعر کی داخلیت سے زیادہ خارجیت کا اظہارہیں۔ یہ مذہب کی روح نہیں رسومات کے خلاف جذباتی تخلیقی ردعمل ہیں۔ شخصی خدا کے بندگان خانہ زاد کی پیداوار دین کے خلاف اپنے غصے کا اظہار ہے۔مذہب اوراس کے متعلقات کی مسخ شدہ شکلوں کے خلاف یہ تخلیقی احتجاج ہیں۔غالب کا یہ شعر اسی حقیقت کا مظہر ہے:
ہم مؤحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم
ملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہوگئیں
ان میں سے بیشتر شعرا نے حمدیہ، نعتیہ، منقبتی اشعار بھی کہے ہیں اس لیے مذہب ان کے باطن میں موجزن ہے۔ صرف خارجی حالات یا جبران کی ذہنی کیفیت پریوں اثرانداز ہوجاتے ہیں کہ قرآن پاک کی یہ آیت نگاہوں میں آجاتی ہے ’والشعراء یتبعھم الغاؤن۔‘ اور یہ کہ’الم تر انھم فی کل واد یھیمون وانھم یقولون مایفعلون‘یعنی ان کے قول اور عمل میں تضاد کی نسبت ہوتی ہے اسی لیے شاعروں کے ان اقوال کو ان کے اعمال کی میزان بنانا شاید موزوں نہ ہوگا اور یوں بھی تعبیرات اور تاویلات کے دروازے جب کھلے ہوں تو تمام جہتوں کو دیکھتے ہوئے ہی کوئی بات کہی جانی چاہیے۔محتسبوں جیسا رویہ اپنانے سے بیشتر شاعر کافر‘ملحد اور زندیق قرار پائیں گے۔
اسلام کے مرکزی تصورتوحید کے علاوہ بنیادی عقائد اورتعلیمات پر بھی شاعروں نے طنز کیا ہے۔ اسلام کے بنیادی عقائد میں آخرت،جنت ودوزخ اور تقدیرکا تصور بھی ہے۔ شعرا نے اپنی شاعری میں اس کی بھی تردید،تنسیخ کی ہے۔
مرزا اسداللہ خاں غالب نے معتقدات اور مسلمات سے انحراف کرتے ہوئے مذہب اور اس کے تلازمات پر یوں طنز کیا:
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے بہلانے کو غالبؔ یہ خیال اچھا ہے
طاعت میں تار ہے نہ مے انگبین کی لاگ
دوزخ میں ڈال دو کوئی لے کر بہشت کو
ستائش گر ہے زاہد اس قدر جس باغ رضواں کا
وہ اک گلدستہ ہے ہم بے خودوں کے طاق نسیاں کا
(غالب)
واعظ بجا ہے کہیے جو ویرانے کو بہشت
جنت اسی کا نام ہے آدم جہاں نہ ہو
(داغؔ)
مذہبی مسلمات اور دینی شعائر سے انحراف اور انکار کی صورتیں کلاسیکی شاعری سے لے کر آج تک کی شاعری میں عام ہیں۔ بعض تصورات توایسے ہیں جن کی سرحدیں کفروالحاد سے جاملتی ہیں۔مثلاً خدا کی ذات وصفات میں کسی اور کو شریک کرنا، بت پرستی کو خداپرستی کے مساوی سمجھنا،مثال کے طورپر جوشش کا یہ شعر:
چشم وحدت سے گر کوئی دیکھے
بت پرستی بھی حق پرستی ہے
یا بہادرشاہ ظفر کایہ شعر:
مئے وحدت کی ہم کو مستی ہے
بت پرستی، خدا پرستی ہے
اسی طرح سودا کا ایک شعر ہے:
ہندو ہیں بت پرست مسلمان خدا پرست
پوجوں میں اس کسی کو جوہو آشناپرست
میر نے بھی اس نہج کاایک شعر کہا:
کس کو کہتے ہیں نہیں میں جانتا اسلام وکفر
دیر ہو یا کعبہ مطلب مجھ کو تیرے در سے ہے

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ قندیل کاان سےاتفاق ضروری نہیں ہے)

متعلقہ خبریں

Leave a Comment