غزل

کامران غنی صبا
جو خود سے برسرِ پیکار ہو گیا ہوتا
تو آج صاحبِ کردار ہو گیا ہوتا

یہ سر کہ جھکنے کو تیار ہو گیا ہوتا
تو میں بھی شہر کا سردار ہو گیا ہوتا

وہ چارہ سازئ غم کو اگر نکل پڑتے
تمام شہر ہی بیمار ہو گیا ہوتا

خدا کا شکر کہ خود سے نہ مل سکا ورنہ
میں اپنے آپ سے بیزار ہو گیا ہوتا

ذرا بھی لذتِ غم جس کو مل گئی ہوتی
مری طرح سے عزادار ہو گیا ہوتا

یہ ریش، جبہ و دستار، ٹھیک ہے حضرت!
بس اک کمی ہے، ذرا پیار ہو گیا ہوتا

صباؔ کے شعروں میں کچھ اور دلکشی ہوتی
جو اک جھلک ترا دیدار ہو گیا ہوتا

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*