غزل ـ غلام محمد قاصرؔ

آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں
ہم ہتھیلی پہ عبث طور اٹھا لائے ہیں

کیا ازل ہی سے یہی قحطِ بصیرت تھا کہ لوگ
دیکھ کر دیدۂ بے نور اٹھا لائے ہیں

دل کی رائے میں ہے آئينِ محبت بر حق
درد ، قابیل کا منشور اٹھا لائے ہیں

شیشہ سازوں کے نئے دام ميں آنے والے
دل کے ٹکڑے بھی بدستور اٹھا لائے ہیں

اپنے شانوں کے کسی زخم سے آگاہ نہیں
تختِ شاہی کو جو مزدور اٹھا لائے ہیں

اب تو ماضی کے کھنڈر اور بھی ویراں ہیں کہ ہم
حادثے جو بھی تھے مشہور ، اٹھا لائے ہیں

اس نے پھینکا ہے زمیں پر تو کوئی بات نہیں
ہم بھی جنّت کو بہت دور اٹھا لائے ہیں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*