غزل

دانش نقوی

در حقیقت ابھی نہیں خود میں
بیٹھتا ہوں یہیں کہیں خود میں

باہری تنگ ہو بھی سکتی ہے
میں بناتا رہوں زمیں خود میں

پہلے میں دور دور تھا خود سے
آ رہا ہوں تیرے قریں خود میں

جیسے مسجود سامنے ہیں میرے
آ لگے گی میری جبیں خود میں

جانے والا سفر تو بچتا ہے
آرہا ہوں اگر یہیں خود میں

ہر کسی کو جگہ نہ دے دینا
تنگ پڑ جائے گی زمیں خود میں

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*