Home غزل کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے- احمد مشتاق

کئی چاند تھے سر آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے- احمد مشتاق

by قندیل

کہوں کس سے رات کا ماجرا نئے منظروں پہ نگاہ تھی

نہ کسی کا دامنِ چاک تھا نہ کسی کی طرفِ کلاہ تھی

کئی چاند تھے سرِ آسماں کہ چمک چمک کے پلٹ گئے

نہ لہو مرے ہی جگر میں تھا، نہ تمہاری زلف سیاہ تھی

دلِ کم الم پہ وہ کیفیت کہ ٹھہر سکے نہ گزر سکے

نہ حضر ہی راحتِ روح تھا، نہ سفر میں رامش راہ تھی

مرے چار دانگ تھی جلوہ گر وہی لذتِ طلبِ سحر

مگر اک امیدِ شکستہ پر کہ مثالِ دردِ سیاہ تھی

وہ جو رات مجھ کو بڑے ادب سے سلام کر کے چلا گیا

اسے کیا خبر مرے دل میں بھی کبھی آرزوے گناہ تھی

You may also like

Leave a Comment