غزل – عدیل عبداللہ

 

محبت بے تحاشا تھی ، اذیت بھی مثالی ہے

ہمارے ہاتھ میں اپنے بدن کی پائمالی ہے

 

وہ رزقِ دید کی خیرات اب بٹتی ہے غیروں میں

سنا ہے شہرِ قربت میں بلا کی قحط سالی ہے

 

اسے کب علم ہوگا عشق کیا تاوان لیتا ہے

وہ اک کم سِن سی لڑکی ہے طبیعت لا اُبالی ہے

 

اسے کہنا کہ سر آنکھوں پہ اب ترک تعلق بھی

اسے کہنا کبھی پہلے تمہاری بات ٹالی ہے ؟

 

سو اب جو پھول اگنے ہیں وہ دنیاوی نہیں ہونگے

ترے پیروں کی مٹی چھان کر گملوں میں ڈالی ہے

 

ابھی ممکن نہیں عادی دھڑکنا سیکھ جائے دل

ابھی دل سے تمہارے ہجر کی وحشت نکالی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*