گو یہ مشکل گھڑی ہے، سو جاؤ-ابرار احمد

گو یہ مشکل گھڑی ہے ، سو جاؤ
نیند جب آ رہی ہے ، سو جاؤ

کون آے گا پوچھنے کے لیے
سب کو اپنی پڑی ہے سو جاؤ

سب کو اب کام سے ہے کام یہاں
تم کو کیا بے کلی ہے ، سو جاؤ

دن تھے جب جاگنے کے ، جاگتے تھے
اب یہ دیوانگی ہے ، سو جاؤ

نیند میں جو جگاے رکھتی تھی
آنکھ وہ سو گئی ہے سو جاؤ

گھپ اندھیرے میں خوف آے گا
کچھ ابھی روشنی ہے ، سو جاؤ

جو بھی ہونا ہے ، ہو رہے گا تو پھر
امن یا ابتری ہے ، سو جاؤ

تم جہاں دن گزار آے ، وہ اب
کوے بے گانگی ہے ، سو جاؤ

جس کے آگے ٹھہر سکے تھے نہ ہم
وہ ہوا پھر چلی ہے ، سو جاؤ

خود ہی کہتے ہو خود ہی سنتے ہو
کیسی بے چارگی ہے ، سو جاؤ

وسوسہ دل سے یوں نہ جائے گا
رات اب دو گھڑی ہے ، سو جاؤ

خود سے ہر دم الجھتے رہتے ہو
کیسی دیوانگی ہے ، سو جاؤ

تھک بھی جاتا ہے آدمی آخر
رنج ہے یا خوشی ہے ، سو جاؤ

دن بھی آے گا جاگنے والا
رات اب ہو گئی ہے ، سو جاؤ

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*