19 C
نئی دہلی
Image default
ادبیات غزل

غزل – ابھیشیک شکلا 

 

دعا کے بس کا نہیں بددعا کے بس کا نہیں

اک ایسا بندہ ہوں میں جو خدا کے بس کا نہیں

وہ سر پٹکتی ہے جھنجھلاتی ہے مرے اوپر

بس ایک تنکا ہوں میں اور ہوا کے بس کا نہیں

ہجوم چارہ گراں دنگ ہے،ترا بیمار

کسی بھی زہر کسی بھی دوا کے بس کا نہیں

برہنہ ہونا پڑے گا تجھے بھی میرے ساتھ

کہ ایک لمس بھی بند قبا کے بس کا نہیں

مجھے تو چھوڑ کہ میں اک جہان دیگر ہوں

میرا خیال بھی اس بے وفا کے بس کا نہیں

خموشیو! تمہیں میرا بیان ہونا ہے

وہ دکھ ہوں میں کہ جو صوت و صدا کے بس کا نہیں

یہی زمیں مرا دوزخ یہی زمیں جنت

مرا مزاج سزا و جزا کے بس کا نہیں

مرے وجود میں تو تھا جہاں، خلا ہے اب

جو تیرے بس کا نہ تھا اب خلا کے بس کا نہیں

متعلقہ خبریں

Leave a Comment