غزل

عارفہ مسعود عنبر مرادآباد

تمدن نہیں حسنِ سیرت نہیں ہے
کہیں بھی جہاں میں مروت نہیں ہے

میرے شعر ہیں فکر و فن سے مرصع
وہ اشعار کیا جن میں ندرت نہیں ہے

وہ مشق ستم چاہے جتنی ہی کر لیں
میں آ ہیں بھروں میری فطرت نہیں ہے

مجھے سخت حیرت ہے ان کی نظر میں
میرے آنسؤں کی بھی قیمت نہیں ہے

وفا میں کروں پھر بھی بدنام ہوں میں
وہ کچھ بھی کریں کچھ مزمت نہیں ہے

عجب ایک اداسی ہے امسال ہر سو
چمن میں بھی تو زیب زینت نہیں ہے

تیرے ظلم سہ کے بھی اے ظلم پرور
میرے لب پہ حرفِ شکایت نہیں ہے

پرستار الفت سے کہ دیجیے عنبر
ہمیں دل لگانے کی عادت نہیں ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*