20 C
نئی دہلی
Image default
ادبیات غزل

غزل

ادریس آزاد
چمن کی سیر بھی کافی رہی اَنا کے لیے
صبا نے پھول کے بوسے، مجھے دِکھاکے لیے

خدا کی ناؤ میں پتوار رکھ دیے گئے ہیں
خوداِک خدا کے لیے، ایک ناخدا کے لیے

کسی نے وقت پہ رتبے لیے، چلاکے ہوا
کسی نے وقت میں رُتبے دیے جلا کے لیے

اُس انبساط کا ہم کو ملا نہ عشر ِ عشیر
مزے جو بچوں نے مِٹی کے گھر بنا کے لیے

تمہاری آنکھیں جو دیکِھیں تو یہ خیال آیا
کہیں تو کھڑکی کھلی ہے کوئی ہوا کے لیے

ہمارا رہن سہن ہی دعائیہ سا ہے
ہم اپنے ہاتھ اُٹھاتے نہیں دعا کے لیے

نظامِ ظرف عجب فلسفے پہ چلتاہے
جزا سزا کے لیے ہے، سزاجزاکےلیے

جو پھول میں نے خریدے وہ اُس کے ہاتھ میں ہیں
جوپھول اُس نے لیے، مجھ سے بھی چھپا کے لیے

متعلقہ خبریں

Leave a Comment