غزل ـ سلیم شوق پورنوی

غم میں ڈوبا چہرہ جھوٹا، آنسو بھی گھڑیا لی ہے
اور کسی کے نام کی مہندی اپنے ہاتھ رچالی ہے

اس سے مجھ کو پیار ہے لیکن میں نے اس کو بتایا نئیں
چاہت کا اظہار زباں سے ، جذبوں کی پامالی ہے

زیست کی کالی رات ہے لیکن چلنا ہے تو چلنا ہے
خوشیوں کا ہے کال،سو میں نے غم کی آگ جلالی ہے

جب تک تجھ کو نہ تھا میسر کتنی قدر و قیمت تھی
تجھ کو حاصل ہوکر میں نے اپنی قدر گھٹالی ہے

رامو کاکا بیٹھے بیٹھے سوچ رہے ہیں کب سے یہ
ہاتھ تو اپنا خالی ہے اور اگلے ماہ دیوالی ہے

اس کا میرا رشتہ سمجھو دھانی اور فقیر کا ہے
اس کی صورت دانی ہے اور میری آنکھ سوالی ہے

من کے کالے لوگ بسے ہیں شوق ہماری بستی میں
دل کے گورے لوگ تھے جتنے،بستی دور بسالی ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*