غزل

عزیز نبیل

شام کی راکھ بدن پر مل کر قشقہ کھینچ ستاروں سے
رات سنگھاسن اپنا ہی ہے کہہ دے ہجر کے ماروں سے

کچھ بے ہنگم آوازیں تھیں، کچھ سائے سے پھرتے تھے
آنکھیں موند کے گزرے تھے ہم، دنیا کے بازاروں سے

اور اچانک جی اٹھتے ہیں، بند کِواڑوں والے لوگ
چھن چھن کر آواز سی کوئی آتی ہے دیواروں سے

روح کے ویراں تہہ خانے تک روز کوئی آجاتا ہے
تنہائی کے موسم والی خالی راہ گزاروں سے

کشتی کب کی ڈوب چکی ہے لیکن اب تک اُس کا پتہ
دریا دریا پوچھ رہا ہے جانے کون کناروں سے

دیے کی آخری سانس بجھی اور آنکھ اٹھی آکاش کی سمت
کتنے ہی سر جھانک رہے تھے رات کی نم دیواروں سے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*