غزل

ڈاکٹر نصیر احمد عادل

کمہرولی، کمتول، دربھنگہ،بہار

ٹوٹ کر کتنا گرا ہے آئینہ ملبے میں ہے
کتنی جانیں اور کتنا گھر جلا ملبے میں ہے

کتنے معصوموں کی چیخیں کتنی خوشیاں ہیں نہاں
کتنے ارمانوں کا خوں ہے ہوگیا ملبے میں ہے

لو تجاہل عرفانہ سے نہ ہرگز کام تم
انسانیت کے قتل کا سارا پتہ ملبے میں ہے

کس نے محلوں کو اجاڑا کس نے لوٹی آبرو
جاکے ویرانے سے پوچھو سب چھپا ملبے میں ہے

کس نے آلودہ فضا کی شعلے کو دی ہے ہوا
جانتا ہے یہ سارا جہاں ہے جو رہنما ملبے میں ہے

یہ نہ پوچھو کہ صدائے الاماں دیتا ہے کون؟
گونجتی ہے روز و شب جو بھی صدا ملبے میں ہے

جگنوؤں کی جگمگاہٹ چھینی کس نے روشنی
بجھ گیا عادل جہاں میں جو دیا ملبے میں ہے

آج بھی ملبے میں ہے ہر سو دبی چنگاریاں
آج بھی ہر سمت شعلہ جا بہ جا ملبے میں ہے

    Leave Your Comment

    Your email address will not be published.*